پیپلز پارٹی تحریک انصاف متحدہ کی مخالفت انسداد دہشت گردی آرڈیننس کی منظوری موخر

سیکیورٹی ادارے مادرپدرآزادہیں،لامحدوداختیارات دیکر پچھتاواہوگا، آصف حسنین

حکومت کسی مخصوص شخص یاجماعت کوٹارگٹ کرنے کیلیے قوانین نہیں بنارہی، دہشتگردی کے خا تمے کیلیے ترمیم کررہے ہیں، وزیر مملکت بلیغ الرحمن۔فوٹو:فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیپلز پارٹی،تحریک انصاف ،متحدہ ،جے یوآئی (ف) اوربلوچستان نیشنل پارٹی نے انسداددہشت گردی ترمیمی آرڈیننس کی مخالفت کر دی، وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے کہاکہ حکومت کسی مخصوص جماعت کوٹارگٹ کرنے کیلیے قوانین نہیں بنارہی بلکہ دہشتگردی اوربدامنی کے خاتمہ کیلئے قانون میںترمیم کی جارہی ہے۔

کمیٹی کااجلاس راناشمیم احمدخان کی زیرصدارت ہواجس میں نیکٹا حکام نے انسداددہشت گر دی ترمیمی آرڈیننس2013 پربریفنگ دی۔ ارکان کی باہمی بحث کے بعدآرڈیننس کی منطوری کے وقت پیپلز پارٹی،تحریک انصاف،متحدہ ،جے یوآئی(ف) اوربلوچستان نیشنل پارٹی نے بل کی بعض شقوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کوجلدبازی میں آرڈیننس منظور نہیں کراناچاہیے کیونکہ ماضی میں نوازشریف کوانھی کی حکومت کے بنائے گئے قوانین کے تحت سزادی گئی تھی لہٰذا قوانین بناتے وقت اس بات کومد نظر رکھنا ہوگاکہ کل یہ سیاستدانوں کیخلاف استعمال نہ ہوں۔ ایم کیو ایم کے آصف حسنین نے کہا کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے مادرپدر آزاد ہیں، انکو لامحدوداختیارات دیکر کل ہمیں پچھتاوا ہوگا، عدالت کی اجازت کے بغیر کسی بھی شخص کو90 روزتک حراست میں رکھنے کی اجازت ہرگزنہ دی جائے۔




اس پروزیرمملکت بلیغ الرحمن نے کہاکہ لاپتہ افراد کے کیس میں قانون نافذکرنیوالے اداروں کو انصاف کے کٹہرے میںلایاگیاہے، حکومت لاقانونیت کاخاتمہ چاہتی ہے اور قوانین میں ترمیم کامقصد کسی خاص جماعت یاشخص کوٹارگٹ بنانا نہیں،اپوزیشن کی طرف سے آرڈیننس کی مخالفت پراسکی منظوری کوموئخرکرتے ہوئے کمیٹی کااجلاس پیرکودوبارہ طلب کرلیا گیا ہے۔آن لائن کے مطابق ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے کہاکہ ان کے خلاف بھی ذوالفقار علی بھٹوطرزکامقدمہ بنایاجا رہا ہے،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کوئی پیشرفت نہیں کررہی،رکن اسمبلی کیساتھ یہ ہورہاہے توعام آدمی سے کیاہوگا؟چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ آرڈیننس میںاس بات کو بھی شامل کیاجائے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنیوالے سرکاری اداروں کے افسران واہلکاروں کیخلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
Load Next Story