مشرف کا فاٹا میں فوج بھیجنا تباہ کن تھا سرتاج عزیز

ہائی ویلیوٹارگٹس حاصل ہونے کے بعد ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں، طالبان سے مذاکرات کیلیے رابطے جاری ہیں، مشیر خارجہ

امریکا نے افغانستان میں مقاصد حاصل نہیں کیے،پاکستان کیلیے مسائل پیدا کیے،امریکا غلط طریقے سے ایک غلط جنگ لڑ رہا ہے، خطاب،آج قائمہ کمیٹی خارجہ امورکوان کیمرہ بریفنگ دینگے ۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کا 2003ء میں فوج فاٹا میں بھیجنے کا اقدام تباہ کن تھااس سے فاٹاکاڈھانچہ تباہ ہوگیا، امریکا نے ہائی ویلیو ٹارگٹس حاصل کرلیے، اب ڈرون حملے بندکردے، امریکا افغانستان میں ان لوگوں سے جنگ کررہا ہے۔

جنھیں افغانستان پرسوویت یونین کے حملے کے دوران اس نے خود تربیت دی، مسلح کیا اور فنڈز فراہم کیے۔ بدھ کواسلام آباد میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ فاٹا میں فوج بھیجنے کے اقدام سے قبائلی علاقوں میں معاشرتی نظام تباہ ہوکر رہ گیا تاہم موجودہ حکومت ان تباہ کاریوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے جن میں سرحد پرغیر قانونی نقل وحرکت کی روک تھام ،ریاستی رٹ قائم کرنا اور علاقے کی تعمیرنو و بحالی شامل ہیں۔ڈرون حملوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے سنگین نتائج برآمد ہورہے ہیں،حکومت تمام فورمز پر یہ معاملہ اٹھارہی ہے۔




ہائی ویلیو ٹارگٹس حاصل کرنے کے بعد امریکا کواب ڈرون حملے بند کردینے چاہئیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے، ترقی کے فروغ اور جمہوری استحکام کے اپنے مقاصد حاصل نہیں کیے تاہم اس نے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کیے۔ امریکا غلط لوگوں کے ساتھ غلط طریقے سے ایک غلط جنگ لڑ رہا ہے۔ امریکا ان لوگوں سے جنگ کررہا ہے جنھیں افغانستان پرسویت یونین کے حملے کے دوران تربیت دی ، انھیں اسلحہ اور فنڈز فراہم کیے۔ مشیرخارجہ نے کہا کہ پاکستانی طالبان سے مذاکرات کے لیے اب بھی رابطے کیے جارہے ہیں۔ دریں اثنا وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز آج قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امورکو افغانستان کی صورتحال پر ان کیمرہ بریفنگ دیں گے۔

Recommended Stories

Load Next Story