خطے کی سیاست میں اہم کروٹ

پاکستان ایک خوشگوار تاہم فیصلہ کن دوراہے پر آ گیا ہے۔

پاکستان ایک خوشگوار تاہم فیصلہ کن دوراہے پر آ گیا ہے۔ فوٹو : فائل

سیاسی مبصرین کے مطابق خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال نے ایک بڑی کروٹ لی ہے۔

پاکستان ایک خوشگوار تاہم فیصلہ کن دوراہے پر آ گیا ہے، دہائیوں پر مبنی سفارتی، سیاسی، تزویراتی اور کثیر جہتی تعلقات کی برف ایک ساتھ پگھلنے لگی ہے، لگتا ہے فلک کج رفتار ''ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا'' کے مصداق ایک پیراڈائم تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے، ہر سو خیر سگالی کے پیغامات، آثار و امکانات پاکستان سے ایک نئے مکالماتی باب کے اوراق پلٹنے کے منتظر بھی۔ اب ہماری آزمائش کا ایک سیاسی امتحان بھی ہے کہ بریک تھرو کے لیے پاکستان پیدا شدہ مواقعوں سے کتنا فائدہ کیسے اٹھائے گا۔

دوستانہ اور خیر سگالی کے ان دل خوش کن پیغامات کے اندر وقت کا جو سنجیدہ پیغام ہے وہی در حقیقت اس بات کا فیصلہ کریگا کہ خطے کی تقدیر کیسے بدلے گی اور پاکستانی سیاست اور عوام آیندہ کے صبر آزما حالات میں معاشی، سیاسی اور سفارتی بریک تھرو کے کتنے سنگ میل طے کر پائیں گے۔

یہ بڑی طاقتوں کے مفادات، سیاسی فیصلوں، خطے کے پیچیدہ تنازعات ہیں جن کی گرہیں کھولنے کے لیے عشروں کی الجھنیں سلجھانے کی ضرورت ہوگی، بڑے تدبر کے ساتھ پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑیں گے، پاکستان اور مقابل میں موجود نئی امریکی انتظامیہ، بھارت سے آمدہ پیغام کی گرم جوشی اور بنگلہ دیش سے کشیدہ تعلقات کو پائیدار دوستی میں بدلنے اور باہمی اعتماد کے لیے تنی ہوئی رسی پر چل کر مستقبل کے سیناریو کی تیاری کا مرحلہ درپیش ہوگا۔ پاکستان کے لیے بلاشبہ بڑے ملکوں کے مابین ایک بہترین پیش رفت کے واضح امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔

اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، مگر ضرورت سنجیدہ، مدبرانہ اور تاریخ ساز فیصلوں کی ہے، جن طاقتوں سے مکالمے ہو سکتے ہیں ان اہل سیاست و حکومت سے اپنی بات منوانی چاہیے، یہ حکمت وتدبر کا معاملہ ہے، بلند آہنگ رد عمل درکار ہے۔

سیاسی دور اندیشی اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے اس موقع کو ایک گولڈن چانس کے طور پر لینا چاہیے، ایسا موقعہ تاریخ بار بار نہیں دیتی۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن مواقعوں کی اس آزمائش سے سرخرو ہوکر نکلنے پر ہر ممکن سیاسی بصیرت سے کام لے، گھر کو ٹھیک کرنے کا جو صائب موقعہ مل رہا ہے اسے ایک اجتماعی کارنامہ کی شکل دی جائے تو بہتر ہوگا۔

ہم تاریخ کے سامنے سرخ رو ہوں گے، ایسے ہی بڑے فیصلے پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کی تقدیر اور خطے کی تاریخ کا دھارا بدل سکتے ہیں اور یہ سب کچھ بے خوف سیاسی و عسکری قیادت کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے قومی سیاست کو اپنا انداز نظر اور سٹرٹیجی بھی بدلنا ہوگی۔ بظاہر پاکستان، امریکا، بھارت اور بنگلہ دیش ایک پیج پر آ رہے ہیں، لیکن ایک عہد آفریں گفتگو، مشترکہ دور رس میثاق اور اجتماعی مکالمہ کے بعد ہی کروڑوں عوام نئے سیاسی سفر کی ابتدا کر سکیں گے۔ بقول شخصے پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم پاکستان کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستانی عوام سے خوشگوار تعلقات کا خواہش مند ہے۔ نریندر مودی کی جانب سے عمران خان کے نام لکھا گیا خط، جس پر 22 مارچ کی تاریخ درج ہے، اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے دفتر خارجہ کے ذریعے وزیر اعظم تک پہنچایا۔ اپنے خط میں نریندر مودی نے پاکستانی عوام کو یوم پاکستان کی مبارکباد دی۔

بھارتی وزیر اعظم نے لکھا کہ پڑوسی ملک کے طور پر بھارت، پاکستانی عوام سے خوشگوار تعلقات کا خواہش مند ہے جس کے لیے اعتماد پر مبنی، دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ماحول ضروری ہے۔ انھوں نے کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا اور وائرس کو انسانیت کے لیے مشکل وقت قرار دیا۔ واضح رہے کہ یہ پیشرفت وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اب بھارت کو پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔


اسلام آباد میں منعقدہ پہلے دو روزہ سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں لیکن بھارت کو پہلے قدم آگے بڑھانا ہوگا اور جب تک وہ ایسا نہیں کرتا ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ تقریب سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ مستحکم پاک بھارت تعلقات مشرقی اور مغربی ایشیا کو منسلک کرتے ہوئے جنوب اور وسط ایشیا کی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی کنجی ہیں لیکن یہ صلاحیت دونوں جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک کے درمیان یرغمال بنی رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اس کی بنیاد ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پرامن طریقے سے مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر اس عمل کا سیاسی وجوہات کے سبب پٹڑی سے اترنے کا خدشہ لاحق رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کا وقت ہے، بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ذمے داری اب بھارت پر عائد ہوتی ہے، ہمارے پڑوسی ملک کو خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں سازگار ماحول بنانا ہوگا۔ خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو امن کی خرابی اور تشدد کا سبب بنتے ہیں۔ دونوں فریقین نے ایل او سی اور دیگر تمام سیکٹرز پر تمام معاہدوں، سمجھوتوں اور جنگ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی طرح کی غیر متوقع صورتحال اور غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے موجودہ ہاٹ لائن رابطے کے طریقہ کار اور بارڈر فلیگ میٹنگز کا استعمال کیا جائے گا۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے صدر مملکت عارف علوی کو یومِ پاکستان پر مبارکباد دی ہے، جوبائیڈن نے خط میں کہا کہ پاکستان علاقائی شراکت دار رہے گا۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد نے یوم پاکستان کی مبارکباد کے لیے عمران خان کو خط لکھ دیا، انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اپنے ہمسایوں بشمول پاکستان کے ساتھ پرامن اور باہمی تعاون پر مشتمل تعلقات چاہتا ہے۔ میڈیا کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے یومِ پاکستان کے موقع پر صدر عارف علوی کے نام خط لکھا جس میں انھوں نے پاکستانی قوم کو یوم پاکستان کی مبارکباد پیش کی۔

مقامی میڈیا کے مطابق جوبائیڈن کا خط پاکستان امریکا پارٹنرشپ، علاقائی امن و خوشحالی کے مشترکہ مقصد پر مبنی ہے، افغانستان میں قیام امن، کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے تعاون جاری رکھیں گے، ماحولیاتی تبدیلی اور مشترکہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے تعاون جاری رہے گا، امریکی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مستقبل میں مضبوط بنائیں گے۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے خط میں پاکستان کے عوام کو یوم پاکستان کی مبارکباد دی ہے۔ انھوں نے خط میں کہا کہ انھیں یقین ہے کہ آیندہ سالوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں مزید بہتری لانے کی گنجائش موجود ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام ترقی اور امن کے مشترکہ سفر سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

توقعات اور امکانات سایہ فگن ہیں مگر اس میں شک نہیں کہ خیر اندیشی کے اس ریلے کے ساتھ خدشات، آزمائشوں اور ہماری ہمہ جہتی سیاست کے تضادات، مسائل اور نفسیاتی گرداب بھی کچھ کم نہیں، عالمی سیاست کی ڈائنامکس کا ادراک ضروری ہے، امریکا کے ساتھ افغان امن عمل کا ہمارے خطے کے مسائل کے ساتھ ایک اعصاب شکن رشتہ چلا آ رہا ہے، جوبائیڈن کہہ چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا آسان نہیں، پاکستان افغان مذاکرات سے الگ نہیں رہ سکتا، قطر مذاکرات ابھی جاری ہیں، طالبان کی نئی لشکر کشی کا خطرہ ختم نہیں ہوا، اسی طرح مودی کے خیر سگالی اور وزیر اعظم عمران خان کی تعلقات کو خوشگوار سطح پر لانے کی خواہش بھی بھارت کی داخلی بی جے پی کی سیاست سے الگ نہیں، اسی طرح جموں و کشمیر کے عوام کو بربریت اور کرفیو کی اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے۔

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ خطے کے حالات بدل رہے ہیں، دوسری طرف بھارت کی خیرسگالی کے پیغامات بھی ہیں، دنیا ''سانپ اور سیڑھی'' کے کھیل میں الجھی ہوئی ہے، میڈیا کے مطابق پاک بھارت خیر سگالی کی سفارتی کوشش متحدہ عرب امارات کی مثبت کوششوں کا نتیجہ ہے، ارباب اختیار کو اندازہ ہے کہ پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب، یو اے ای، ایران و یمن سے تعلقات کی وہ ہمہ جہت سرگرمی کافی مضمحل اور دوستی میں رنجشوں نے دراڑ ڈال دی ہے، ایک عجیب سرد مہری در آئی ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مخمصہ بھی اندیشے پیدا کر سکتا ہے، پاکستان مشرق وسطیٰ کے تاریخی رشتوں سے جڑا ہوا ہے، ان کی صدیوں پرانی دشمنیاں بھی ہیں، بھارت سے تجارتی مفادات اور اقتصادی معاہدوں کی حساسیت جب کہ پاک ایران تعلقات کی نزاکت کا بھی معاملہ ہے، بنگلہ دیش سے تعلقات ہمارے لیے حساسیت اور نفسیاتی و تاریخی حوالہ سے سو ملین ڈالر سوال کا درجہ رکھتے ہیں، ہم مذکورہ تمام ملکوں سے تاریخ، تہذیب، زمین، اقتصادیات اور سفارت و دفاعی معاملات کے حوالہ سے پر امن بقائے باہمی کے رشتے اور روابط کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔

بلکہ دنیا واقعی گلوبل ولیج ہے، پاکستان انسانی، تزویراتی اقتصادی، دفاعی، سفارتی اور سیاسی حوالوں سے خطے کا اہم ملک ہے، اس کا محل وقوع عالمی تعلقات اور دفاعی و معاشی امکانات و روابط کا ایک عجیب سنگم ہے، دنیا پاکستان کے اور پاکستان دنیا کے بغیر نہیں رہ سکتا۔وزیر اعظم عمران خان گلوب پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اس کے محور پر ان کی نگاہیں ہیں، وہ بطورا سپورٹس مین جانتے ہیں کہ گیند کو کس وقت سوئنگ، لائن اینڈ لینتھ کی اور کب اسپیڈ اور باؤنسر کی ضرورت ہے۔

اب ضرورت مضبوط اعصاب، سیاسی بصیرت، دور اندیشی اور زمینی حقائق کے ادراک اور درست فیصلوں کی ہے۔ دو ٹوک و چشم کشا فیصلے بھی وہی مدبر سیاست دان کرتے ہیں جن کو یقین ہو کہ پوری قوم ان کے مدبرانہ سیاسی فیصلوں کی پشت پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ امید ہے کہ حکمراں صورتحال کا درست فائدہ اٹھائیں گے۔
Load Next Story