دہشت گردی کے خلاف موثر میکنزم بنایا جائے
دہشت گردی کی اس قدر تسلسل سے وارداتوں نے جہاں ملکی معیشت پر قدغن لگائی ہے وہیں شہری زندگی بھی دبائو کا شکار ہے
ملک بھر میں دہشت گردوں کی مذمومانہ کارروائیاں جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بساط بھر کارروائیوں کے باوجود ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی دیکھنے میں نہیں آئی۔ جمعرات کی شام کراچی میں حسن اسکوائر کے علاقے میں انچارج سی آئی ڈی چوہدری اسلم کی گاڑی پر خودکش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 اہلکاروں سمیت ایس پی چوہدری اسلم شہید ہوگئے۔کالعدم تحریک طالبان نے دہشت گردی کی اس واردات کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بارہ گھنٹے قبل ہی چوہدری اسلم نے کالعدم تنظیم کے 3دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا، اس سے پیشتر ماہ رمضان میں بھی اسی جگہ چوہدری اسلم پر حملہ کیا گیا تھا جب کہ 18ستمبر 2011 کو ڈیفنس میں ان کے گھر پر دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا جاچکا ہے۔ گزشتہ روز بھی شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے لدھا میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کردیا جس میں 3 اہلکار شہید ہوئے۔ شدید جھڑپ کے بعد فورسز کی جوابی کارروائی سے 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن کلاں کے علاقے موسی زئی شریف میں خودکش حملہ آور نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ علاقہ مکینوں اور پولیس کے مطابق موسیٰ زئی شریف میں موٹر سائیکل پر سوار 2افراد جن میں ایک نے برقعہ پہن رکھا تھا، نے موسیٰ زئی اڈے پر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی ناکہ بندی سے پہلے واپس فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ مبینہ خودکش حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، اس دوران ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جب کہ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں کھیتوں میں فرار ہوگیا۔
اسی قسم کا ایک دہشت ناک واقعہ منگل کو ہنگو میں ہوا جہاں ایک طالب علم اعتزاز حسن سیکڑوں طالب علموں کی جان بچاتے ہوئے خود کش بمبار کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔ ایسا نہیں ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کی جارہی لیکن حکومتی پالیسیوں اور اقدامات میں ایسے میکنزم کا فقدان نظر آتا ہے جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے تربیت یافتہ دہشت گردوں کا مکمل قلع قمع کیا جاسکے۔ دہشت گردوں کے خلاف منظم اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر ابتدا سے ہی زور دیا جاتا رہا ہے لیکن یوں لگتا ہے جیسے یہ ایجنڈا حکومت کی اولین ترجیحات میں اب تک شامل نہیں ہوسکا ہے، یہی وجہ ہے کہ چھوٹی موٹی کارروائیوں کی خبریں تو بہرحال عوام تک پہنچتی رہتی ہیں لیکن دہشت گردی کے کسی بڑے نیٹ ورک کا اب تک خاتمہ نہیں ہوسکا، مستزاد یہ کہ ملک بھر میں ایک نہیں بلکہ دہشت گردوں کے کئی نیٹ ورک اپنی شرپسندی میں مصروف عمل ہیں۔
دہشت گردی کی اس قدر تسلسل سے وارداتوں نے جہاں ملکی معیشت پر قدغن لگائی ہے وہیں شہری زندگی بھی دبائو کا شکار ہے اور عوام کے روز مرہ امور متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کا 2003 میں فوج فاٹا میں بھیجنے کا اقدام تباہ کن تھا اس سے فاٹا کا ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔ بے شک کسی کا بھی غلط اقدام قابل ستائش نہیں ہوسکتا لیکن ماضی کی غلطیوں پر کف افسوس ملتے رہنا بھی صائب نہیں ہے۔ راست اقدام تو یہ ہوگا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے ساتھ پوری تیاری سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا جائے ایسے میں ایک مکمل، منظم اور مربوط میکنزم کی اشد ضرورت ہے، حکومت کو بھی غیر ضروری نان ایشوز میں الجھنے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ پاکستان کے حقیقی مسائل کی جانب مبذول کرنا چاہیے۔ چوہدری اسلم جو دہشت گردوں کے خلاف پوری شدت سے سرگرم عمل تھے، اور ان کی کارروائیوں میں 100سے زاید دہشت گرد مارے گئے، ان کی شہادت کے بعد ارباب اختیار کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور پوری حکومتی مشینری کو دہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن کلاں کے علاقے موسی زئی شریف میں خودکش حملہ آور نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ علاقہ مکینوں اور پولیس کے مطابق موسیٰ زئی شریف میں موٹر سائیکل پر سوار 2افراد جن میں ایک نے برقعہ پہن رکھا تھا، نے موسیٰ زئی اڈے پر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی ناکہ بندی سے پہلے واپس فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ مبینہ خودکش حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، اس دوران ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جب کہ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں کھیتوں میں فرار ہوگیا۔
اسی قسم کا ایک دہشت ناک واقعہ منگل کو ہنگو میں ہوا جہاں ایک طالب علم اعتزاز حسن سیکڑوں طالب علموں کی جان بچاتے ہوئے خود کش بمبار کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔ ایسا نہیں ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کی جارہی لیکن حکومتی پالیسیوں اور اقدامات میں ایسے میکنزم کا فقدان نظر آتا ہے جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے تربیت یافتہ دہشت گردوں کا مکمل قلع قمع کیا جاسکے۔ دہشت گردوں کے خلاف منظم اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر ابتدا سے ہی زور دیا جاتا رہا ہے لیکن یوں لگتا ہے جیسے یہ ایجنڈا حکومت کی اولین ترجیحات میں اب تک شامل نہیں ہوسکا ہے، یہی وجہ ہے کہ چھوٹی موٹی کارروائیوں کی خبریں تو بہرحال عوام تک پہنچتی رہتی ہیں لیکن دہشت گردی کے کسی بڑے نیٹ ورک کا اب تک خاتمہ نہیں ہوسکا، مستزاد یہ کہ ملک بھر میں ایک نہیں بلکہ دہشت گردوں کے کئی نیٹ ورک اپنی شرپسندی میں مصروف عمل ہیں۔
دہشت گردی کی اس قدر تسلسل سے وارداتوں نے جہاں ملکی معیشت پر قدغن لگائی ہے وہیں شہری زندگی بھی دبائو کا شکار ہے اور عوام کے روز مرہ امور متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کا 2003 میں فوج فاٹا میں بھیجنے کا اقدام تباہ کن تھا اس سے فاٹا کا ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔ بے شک کسی کا بھی غلط اقدام قابل ستائش نہیں ہوسکتا لیکن ماضی کی غلطیوں پر کف افسوس ملتے رہنا بھی صائب نہیں ہے۔ راست اقدام تو یہ ہوگا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے ساتھ پوری تیاری سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا جائے ایسے میں ایک مکمل، منظم اور مربوط میکنزم کی اشد ضرورت ہے، حکومت کو بھی غیر ضروری نان ایشوز میں الجھنے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ پاکستان کے حقیقی مسائل کی جانب مبذول کرنا چاہیے۔ چوہدری اسلم جو دہشت گردوں کے خلاف پوری شدت سے سرگرم عمل تھے، اور ان کی کارروائیوں میں 100سے زاید دہشت گرد مارے گئے، ان کی شہادت کے بعد ارباب اختیار کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور پوری حکومتی مشینری کو دہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔