وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے

پاکستان اپنے تجارتی تعلقات افغانستان سے وسط ایشیا تک بڑھا چکا ہے مگرامن و امان کی صورتحال تجارتی عمل میں رکاوٹ ہے

PETALING JAYA:
موجودہ حکومت ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے جہاں داخلی سطح پر توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے نئے منصوبے شروع کر رہی ہے وہاں وہ خارجی سطح پر ہمسایہ ممالک سے تجارتی تعلقات بہتر بنانے کے لیے بھی بھرپور کوشاں ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت سے تعلقات بہتر بنانے اور ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا عندیہ دیا۔ انھوں نے واضح کر دیا کہ پاکستان عالمی سطح پر تجارتی میدان میں آگے بڑھنے کا خواہاں ہے جس کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ اس کے اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر ہوں۔ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے روایتی حریف ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک باہمی جنگیں بھی لڑ چکے ہیں مگر اس کے باوجود دو طرفہ تجارت اور امن عمل کے لیے بات چیت کے سلسلے کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس وقت بھی پاک بھارت تجارت بڑے پیمانے پر جاری ہے تاہم معاشی میدان میں زیادہ سے زیادہ ترقی اور ملکی خوشحالی لانے کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں ممالک باہمی تجارت کا دائرہ زیادہ سے وسیع کرنے کے لیے اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں۔

بدھ کو وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے امریکی تعاون سے قلات، کوئٹہ' چمن' ہائی وے کی تعمیر کا ٹھیکہ ایک کمپنی کو دینے اور بھارت سے واہگہ کے راستے سڑکوں کے ذریعے سیمنٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد کی اجازت دے دی۔ قلات' کوئٹہ' چمن' ہائی وے کے منصوبے کے لیے 90 ملین ڈالر کی گرانٹ امریکا فراہم کرے گا۔پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت دو صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے بڑے پیمانے پر کی جا رہی ہے۔ ہر سال دونوں ممالک کے درمیان اربوں روپے کی تجارت ہوتی ہے۔ اب قلات' کوئٹہ چمن ہائی وے کی تعمیر سے اس تجارت میں زیادہ سہولت پیدا ہونے سے تجارت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ افغانستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات نے دونوں ممالک کی باہمی تجارت کو وقتی طور پر قدرے متاثر ضرور کیا مگر دونوں طرف کے تاجر ہر قسم کی دہشت گردی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تجارتی عمل کو رواں رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

پاکستان اپنے تجارتی تعلقات کو افغانستان سے آگے وسط ایشیا تک بڑھا چکا ہے مگر افغانستان میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال اس تجارتی عمل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ایران اور بھارت وسط ایشیا کے ساتھ اپنی تجارت تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی وسط ایشیا کے ساتھ اپنی تجارت کو زیادہ سے زیادہ وسعت دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات' امن و امان کی خراب صورتحال اور توانائی کے بحران نے صنعتی اور تجارتی شعبے کو کمزور کیا ہے۔ پٹرول بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتکار کے لیے سستا مال تیار کرنا مشکل ہو چکا ہے دوسری جانب توانائی بحران کے باعث وہ بروقت درآمدی آرڈرز پورے نہیں کر پاتا جس کے باعث غیر ملکی تاجر تجارتی معاہدے منسوخ کر دیتے ہیں جس کا پاکستانی صنعتکار کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی دوڑ میں پیچھے رہتا جا رہا ہے۔


پاکستان کے ہمسایہ میں چین کے بعد بھارت صنعتی اور تجارتی شعبے میں تیز رفتار ترقی کے باعث عالمی مارکیٹ میں بڑی سرعت سے آگے بڑھ رہا ہے اس لیے غیر ملکی تاجر بھارت کا رخ کر رہے ہیں اور عالمی منڈیوں میں چین کے بعد بھارتی مال کی کھپت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کو صنعتی اور تجارتی شعبے میں ترقی کرنے کے لیے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور توانائی بحران پر قابو پانا ہو گا۔ دوسری جانب صنعتکار کو عالمی منڈی میں مقام بنانے کے لیے جدید مشینری اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اعلی کوالٹی کا مال تیار کرنا ہوگا۔ میاں نواز شریف نے اپنے سابق دور حکومت میں بھی تجارت کو فروغ دینے کے لیے بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی بھرپور کوششیں کی تھیں۔

ان کی انھی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی جن کا تعلق گو ایک انتہا پسند جماعت سے تھا' پاکستان کے دورے پر آئے تھے اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے میاں محمد نواز شریف کی کوششوں کو سراہا تھا۔ اب ایک بار پھر میاں محمد نواز شریف بھارت سے بہتر تعلقات کے لیے کوشاں ہیں۔ بھارت نے سیمنٹ انڈسٹری میں خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ پاکستان کو اپنی سیمنٹ انڈسٹری کے فروغ کے لیے زیادہ سے زیادہ خام مال کی اشد ضرورت ہے۔ بھارت سے یہ خام مال سستا ملنے سے پاکستانی سیمنٹ انڈسٹری اور زیادہ ترقی کرے گی' اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے سیمنٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد کی اجازت دی گئی۔

بھارت نے طب' کمپیوٹر ٹیکنالوجی' زراعت سمیت بہت سے شعبوں میں بہت ترقی کی ہے۔ بھارت میں تیار ہونے والی ادویات پاکستان کے مقابلے میں بہت سستی ہیں جب کہ یہ پاکستان میں مہنگی ہونے کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اس لیے بہت سے غریب افراد ادویات نہ ملنے سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بھارت سے نہ صرف ادویات درآمد کرنے کی اجازت ملنی چاہیے بلکہ بھارتی ڈاکٹروں کو بھی پاکستان آنا چاہیے اس سے یہاں نہ صرف علاج سستا ہو جائے گا بلکہ اس کا معیار بھی بہتر ہو جائے گا۔ کچھ مذہبی و سیاسی جماعتیں اپنے کٹر نظریات اور مخصوص مفادات کے باعث بھارت سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ انھیں یہ سوچنا چاہیے کہ عالمی سطح پر بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں اب بھارت سے تجارتی تعلقات قائم کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ ان تعلقات کا فائدہ پاکستانی صنعتکار کو بھی ملے گا ' اسے ایک ارب کے لگ بھگ آبادی والے بھارت کی وسیع منڈی ملے گی۔ پاکستانی حکومت کو بھارت سے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے اس میں تاخیر کا نقصان پاکستانی معیشت کو پہنچے گا۔
Load Next Story