سونے کی درآمدی اسکیم میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف

جولائی2011سے جون2013تک بھاری مقدار میں بغیرڈیوٹی ادائیگی سونا درآمد کیا گیا،زیورات کی برآمد نہیں بڑھی،9ارب کانقصان

ایف بی آر نے ان درآمد کنندگان سے درآمدی سونے پر مکمل ڈیوٹی بطور جرمانہ 5 فیصد اضافی ڈیوٹی اور مکمل ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔فوٹو:فائل

TEHRAN:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ماتحت ادارے ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے سونے کی درآمدی اسکیم میں سنگین بے قاعدگیوں کا سراغ لگایا ہے۔

اس ضمن میں حکام نے بتایا کہ ڈی جی انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی طرف سے سونے کی درآمد کے حوالے سے پیش کی جانے والی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیاکہ گزشتہ 2سال کے دوران سونے کی درآمد میں بے قاعدگیوں کی مد میں قومی خزانے کو 9 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچا ہے، سونے کی درآمد کے بارے میں جاری کردہ ایس آر او کا بنیادی مقصد پاکستانی زیورات کی برآمدات میں اضافہ اور دنیا بھر میں پاکستانی ہنرمندوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا اور اس اسکیم کے تحت برآمدشدہ زیورات کے عوض مساوی مالیت کا سونا ڈیوٹی فری درآمد کیا جا سکتا ہے۔




ایف بی آر کے ڈائریکٹریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے جولائی 2011 سے جون 2013 تک سونے کی درآمد کا ریکارڈ چیک کیا ہے جس سے معلوم ہواکہ اس دوران اسکیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں بغیر ڈیوٹی ادائیگی سونا درآمد کیا گیا، دوسری طرف برآمدی ریکارڈ کے مطابق اس دوران کوئی قابل ذکر زیورات برآمد نہیں کیے گئے، اس ضمن میں 2 کیسز میں سونے کے 2 امپورٹرز نے بالترتیب 4 اور 5 ارب روپے مالیت کا خالص سونا درآمد کیا ہے تاہم وہ تیار شدہ زیورات برآمد کرنے میں مکمل ناکام رہے، ایف بی آر نے ان درآمد کنندگان سے درآمدی سونے پر مکمل ڈیوٹی بطور جرمانہ 5 فیصد اضافی ڈیوٹی اور مکمل ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی۔
Load Next Story