گیس پریشر میں کمی سے کنفیکشنری پیداوار 40 فیصد تک محدود
چھوٹے کارخانوں میں کام کرنے والے 50ہزار افراد بیروزگار، پریشر کا مسئلہ حل کیا جائے
ملک بھر کے کارخانوں میں کام کرنے والے 50ہزار افراد بیروزگار ہوچکے ہیں۔ فوٹو: فائل
آل پاکستان کنفیکشنری ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید عبداللہ نے کہا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی ) کے بعد گیس پریشر میں کمی نے کنفیکشنری صنعت سے وابستہ چھوٹے کارخانوں میں 60 فیصد مینوفیکچرنگ بند کرادی ہے اور پیداوار 40 فیصد رہ گئی ہے۔
چھوٹے کارخانے کنفیکشنری صنعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو گیس پریشر کم ہونے کی وجہ سے شدید متاثر ہورہے ہیں اور ملک بھر کے کارخانوں میں کام کرنے والے 50ہزار افراد بیروزگار ہوچکے ہیں۔جاوید عبداللہ نے ایک بیان میں کہا کہ کنفیکشنری صنعت کو بچانے کے لیے حکومت گیس پریشر فوری طور پر بحال کرائے، مہنگائی سے تنگ ملازمین اب بیروزگاری کا عذاب جھیل رہے ہیں، ایس ایم ای سیکٹر کو مضبوط کیے بغیر ملکی ترقی محض خواب رہے گی، ایک طرف حکومت نے نوجوانوں کو روزگار کے لیے قرض اسکیم متعارف کرارکھی ہے تو دوسری جانب چھوٹے پیمانے پر اپنا کاروبار کرنے والوں کو سہولتوں سے محروم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ملکی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے تو چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے شہریوں کو سہولتیں فراہم کرے، چھوٹے کارخانوں کو صنعتی نرخوں پر بجلی اور گیس فراہم کرکے ملکی ترقی کی رفتار بڑھائی جا سکتی ہے۔ جاوید عبداللہ نے کہا کہ اگر حکومت قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے ملک بھر میں پرامن کاروباری ماحول پیداکرکے چھوٹی صنعتوں کو ریلیف دے تو سالانہ ریوینو میں 25فیصد اضافہ یقینی ہوجائے گا۔
چھوٹے کارخانے کنفیکشنری صنعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو گیس پریشر کم ہونے کی وجہ سے شدید متاثر ہورہے ہیں اور ملک بھر کے کارخانوں میں کام کرنے والے 50ہزار افراد بیروزگار ہوچکے ہیں۔جاوید عبداللہ نے ایک بیان میں کہا کہ کنفیکشنری صنعت کو بچانے کے لیے حکومت گیس پریشر فوری طور پر بحال کرائے، مہنگائی سے تنگ ملازمین اب بیروزگاری کا عذاب جھیل رہے ہیں، ایس ایم ای سیکٹر کو مضبوط کیے بغیر ملکی ترقی محض خواب رہے گی، ایک طرف حکومت نے نوجوانوں کو روزگار کے لیے قرض اسکیم متعارف کرارکھی ہے تو دوسری جانب چھوٹے پیمانے پر اپنا کاروبار کرنے والوں کو سہولتوں سے محروم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ملکی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے تو چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے شہریوں کو سہولتیں فراہم کرے، چھوٹے کارخانوں کو صنعتی نرخوں پر بجلی اور گیس فراہم کرکے ملکی ترقی کی رفتار بڑھائی جا سکتی ہے۔ جاوید عبداللہ نے کہا کہ اگر حکومت قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے ملک بھر میں پرامن کاروباری ماحول پیداکرکے چھوٹی صنعتوں کو ریلیف دے تو سالانہ ریوینو میں 25فیصد اضافہ یقینی ہوجائے گا۔