بڑا قانون توڑ کر بچ چھوٹا پھنس جاتا ہے اب قانون کی حکمرانی ہوگینواز شریف
قانون کے بجائے ڈنڈے کی حکمرانی نے جمہوری عمل کو متاثر کیا، اللہ تعالی نے بھی ناانصافی کی حکومت کی اجازت نہیں دی
6 ماہ میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں کرسکے، خزانہ خالی ہے،یوتھ لون اسکیم کیلیے زبردستی کام کیا،بہاولپور میں خطاب ۔ فوٹو: آن لائن
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوئی بڑا قانون توڑے تو بچ جاتا ہے لیکن چھوٹا پھنس جاتا ہے، اب قانون کی حکمرانی یقینی بنائیں گے۔
آج ملک کو دہشت گردی، انتہا پسندی، قتل و غارت گری، بیروزگاری اور توانائی جسے بحران کا سامنا ہے اور ان کے تدارک کیلیے گزشتہ حکومتوں نے کچھ نہیں کیا بلکہ ہر طرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رکھا۔ بہاولپور میں وزیراعظم یوتھ لون قرضہ سکیم کی تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا۔ ہم نے 6 ماہ میں تمام مسائل حل کردیے لیکن سابق حکومت کے ابتدائی 6 ماہ کے مقابلے میں ہم نے بجلی کے بحران پر کافی حد تک قابو پایا اور ابھی بہت سارا کام کرنا باقی ہے لیکن خزانہ خالی ہے۔ ابھی پاور پلانٹ اور ڈیم تعمیر کرنے ہیں، بجلی پیدا کرنے کیلیے کراچی میں 10 پلانٹ لگانے ہیں جس کیلئے کوئلہ بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑے گا لیکن ہمارے اپنے ملک میں جو کوئلہ موجود ہے، اس کے استعمال کیلیے کسی نے کوئی کام نہیں کیا۔ وزیراعظم نے کہا میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پچھلے6 مہینوں میں کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے قرضہ سکیم میں دلچسپی دیکھ کر بہت مسرت ہو رہی ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے وعدے پورے کررہا ہوں لیکن یہ سیاسی وعدے نہیں بلکہ ہم نے قوم کو قابل فخر بنانے کیلیے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔ 100ارب روپے کا یوتھ بزنس لون پروگرام سیاسی مقاصد کے حصول کیلیے نہیں بلکہ بہترین قومی مفاد کیلیے شروع کیا گیا ہے۔ 100 ارب روپے کا انتظام کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ حکومت کے پاس پیسے نہیں، اس کے باوجود زبردستی یوتھ لون اسکیم کیلئے کام کیا۔ ملک میں افراتفری سابق حکومتوں کی طرف سے ہے۔ گزشتہ 5 برسوں کے مسائل کندھوں پر آن پڑے ہیں۔ آج ملک میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی ہے۔ دہشت گردی راتوں رات پیدا نہیں ہوئی، یہ برسوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ آن لائن کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ 6ماہ میں ہمارا بدعنوانی کا کوئی اسکینڈل سامنے آیا اور نہ آئندہ ایسا ہونے دیں گے۔ قانون کی بجائے ڈنڈے کی حکمرانی نے جمہوری عمل کو متاثر کیا۔
اللہ تعالی نے بھی ناانصافی کی حکومت کی اجازت نہیں دی۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن عروج پر رہی، ظلم و ستم کا دور دورہ تھا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون چل رہا تھا۔ بااثرشخص قتل کرکے بچ جاتا، غریب کو سولی پر لٹکا دیا جاتا، اللہ نے موقع دیا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے قانون و انصاف کی حکمرانی یقینی بناؤں۔ نوجوانوں کیلیے قرضہ سکیم سیاسی نہیں قومی مفاد میں ہے۔
قبل ازیں اسلام آباد میں چین کے رویائی گروپ کے چئیرمین یافوکوئی کی زیرقیادت ایک وفد سے گفتگو میں نوازشریف نے کہاکہ پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت ہے، حکومت ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کیلیے معیشت کو پرکشش بنانے کیلیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کررہی ہے۔ یافو کوئی نے وزیراعظم کو بتایا کہ ان کی کمپنی آئندہ دوسال میں پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کیلیے تیار ہے اور سرمایہ کاری کے بڑے شعبے توانائی اور ٹیکسٹائل ہوں گے۔ ان کی کمپنی پاکستان میں کوئلے سے چلنے والے دو بجلی گھر تعمیر کرے گی جن کی پیداواری گنجائش تین، تین سو میگاواٹ ہوگی۔
آج ملک کو دہشت گردی، انتہا پسندی، قتل و غارت گری، بیروزگاری اور توانائی جسے بحران کا سامنا ہے اور ان کے تدارک کیلیے گزشتہ حکومتوں نے کچھ نہیں کیا بلکہ ہر طرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رکھا۔ بہاولپور میں وزیراعظم یوتھ لون قرضہ سکیم کی تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا۔ ہم نے 6 ماہ میں تمام مسائل حل کردیے لیکن سابق حکومت کے ابتدائی 6 ماہ کے مقابلے میں ہم نے بجلی کے بحران پر کافی حد تک قابو پایا اور ابھی بہت سارا کام کرنا باقی ہے لیکن خزانہ خالی ہے۔ ابھی پاور پلانٹ اور ڈیم تعمیر کرنے ہیں، بجلی پیدا کرنے کیلیے کراچی میں 10 پلانٹ لگانے ہیں جس کیلئے کوئلہ بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑے گا لیکن ہمارے اپنے ملک میں جو کوئلہ موجود ہے، اس کے استعمال کیلیے کسی نے کوئی کام نہیں کیا۔ وزیراعظم نے کہا میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پچھلے6 مہینوں میں کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے قرضہ سکیم میں دلچسپی دیکھ کر بہت مسرت ہو رہی ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے وعدے پورے کررہا ہوں لیکن یہ سیاسی وعدے نہیں بلکہ ہم نے قوم کو قابل فخر بنانے کیلیے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔ 100ارب روپے کا یوتھ بزنس لون پروگرام سیاسی مقاصد کے حصول کیلیے نہیں بلکہ بہترین قومی مفاد کیلیے شروع کیا گیا ہے۔ 100 ارب روپے کا انتظام کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ حکومت کے پاس پیسے نہیں، اس کے باوجود زبردستی یوتھ لون اسکیم کیلئے کام کیا۔ ملک میں افراتفری سابق حکومتوں کی طرف سے ہے۔ گزشتہ 5 برسوں کے مسائل کندھوں پر آن پڑے ہیں۔ آج ملک میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی ہے۔ دہشت گردی راتوں رات پیدا نہیں ہوئی، یہ برسوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ آن لائن کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ 6ماہ میں ہمارا بدعنوانی کا کوئی اسکینڈل سامنے آیا اور نہ آئندہ ایسا ہونے دیں گے۔ قانون کی بجائے ڈنڈے کی حکمرانی نے جمہوری عمل کو متاثر کیا۔
اللہ تعالی نے بھی ناانصافی کی حکومت کی اجازت نہیں دی۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن عروج پر رہی، ظلم و ستم کا دور دورہ تھا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون چل رہا تھا۔ بااثرشخص قتل کرکے بچ جاتا، غریب کو سولی پر لٹکا دیا جاتا، اللہ نے موقع دیا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے قانون و انصاف کی حکمرانی یقینی بناؤں۔ نوجوانوں کیلیے قرضہ سکیم سیاسی نہیں قومی مفاد میں ہے۔
قبل ازیں اسلام آباد میں چین کے رویائی گروپ کے چئیرمین یافوکوئی کی زیرقیادت ایک وفد سے گفتگو میں نوازشریف نے کہاکہ پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت ہے، حکومت ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کیلیے معیشت کو پرکشش بنانے کیلیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کررہی ہے۔ یافو کوئی نے وزیراعظم کو بتایا کہ ان کی کمپنی آئندہ دوسال میں پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کیلیے تیار ہے اور سرمایہ کاری کے بڑے شعبے توانائی اور ٹیکسٹائل ہوں گے۔ ان کی کمپنی پاکستان میں کوئلے سے چلنے والے دو بجلی گھر تعمیر کرے گی جن کی پیداواری گنجائش تین، تین سو میگاواٹ ہوگی۔