سپریم کورٹ نے چیئرمین پی آئی اے کی جلد تقرری کا حکم دیدیا

فیڈرل سروسز ٹربیونل کی عدم فعالیت پرتشویش ہے،معلوم نہیں اہم اداروں کے سربراہ مقرر کیوں نہیں کیے جاتے؟جسٹس انورظہیر

حکومت پی آئی اے کو بہتر بنانے کیلیے خود اقدامات کرے،چیف جسٹس جیلانی۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
سپریم کورٹ نے چیئرمین پی آئی اے کی جلد تقرری کی ہدایت کی ہے اور حکومتی کارپوریشنوں و خود مختار اداروں میں سربراہوں کی عدم تقرری کا سخت نوٹس لیا ہے۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے اہم ادارے غیر فعال ہوگئے ہیں۔ جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے وزارت دفاع کے ملازم سرفراز سلیم کے مقدمہ کی سماعت کی۔عدالت کوبتایاگیاکہ تاحال فیڈرل سروسز ٹربیونل کا چیئرمین مقرر نہیں کیا جا سکااور ٹربیونل فعال نہیں۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا فیڈرل سروسز ٹربیونل کی عدم فعالیت پر ہمیں تشویش ہے، معلوم نہیں اہم سرکاری کارپوریشنوں اور خود مختار اداروں کے سربراہ مقررکیوں نہیں کیے جاتے۔عدالت نے فوری طور پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاورکو وضاحت کیلیے طلب کیا۔ شاہ خاور پیش ہوئے توعدالت نے انھیں ہدایت کی کہ وہ یہ معاملہ متعلقہ اداروں اور مجاز اتھارٹی کے ساتھ اٹھائیں اور عدالت میں جامع رپورٹ فراہم کی جائے۔ شاہ خاور نے پیش ہوکر مہلت کیاستدعاکی اورکہاوہ اس بارے میں ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریںگے۔




عدالت نے انھیں سربراہوںکے بغیر خود مختار اداروں کی تفصیل جمع کرنے کا کہا اور ہدایت کی کہ عدالت کو بتایا جائے کہ اس وقت فیڈرل سروسز ٹربیونل کی کمپوزیشن کیا ہے؟ عدالت نے مزید سماعت16جنوری تک ملتوی کردی ۔پی آئی اے میں بدانتظامی کے مقدمے میں چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے پی آئی اے سے متعلق کہاکہ حکومت خود ادارے کو بہتر بنانے کیلیے اقدامات کرے،عدالت اس بارے میںکوئی آبزرویشن دے گی تو ادارے کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین کی تقرری کیلیے تین امیدوار شارٹ لسٹ کئے گئے ہیں، دو امیدواروں کا وزیر اعظم نے انٹرویو لیا ہے، تیسرے امیدوارکے انٹرویو کے بعدکامیاب امیدوارکا تقرر نامہ جاری کر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میںفل بینچ نے مزید سماعت15جنوری تک ملتوی کردی۔آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے جہلم کی خاتون ٹیچرکے مقدمہ میں حکم دیا کہ30 روز میں اسے گریڈ15سے17میں ترقی کے حوالے سے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے، جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ اساتذہ کا احترام سب پر لازم ہے، سرکارکو زیب نہیں دیتا کہ وہ اساتذہ کو خوارکرے، استادکا احترام نہ کرنے کی وجہ سے معاشرہ اخلاقی گراوٹ کا شار ہو رہا ہے، خاتون ٹیچر خیر النسا ذاتی طور پر جبکہ عبد الرحیم بھٹی ایڈووکیٹ عدالتی حکم پر بطور عدالتی معاون پیش ہوئے۔
Load Next Story