امریکی جاسوسی پروگرام میں ترامیم متوقع اوباما کی اینجلا سے تعلقات بحال کرنیکی کوششیں دورہ واشنگٹن کی د?
اوباما کی این ایس اے، ایف بی آئی اور سی آئی اے سربراہان سے ملاقاتیں
اوباما اس سلسلے میں ملکی قانون سازوں، قانونی ماہرین، وکلا اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں. فوٹو: رائٹرز/فائل
توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما دیگر سربراہان مملکت کی جاسوسی پر عائد پابندیوں میں سختی متعارف کرانے کے علاوہ نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے کردار میں تبدیلیوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔
صدر اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر سمیت امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے ارکان، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمزکلیپر اور این ایس اے، ایف بی آئی اور سی آئی اے کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اوباما کانگریس کے اراکین سمیت وکلا اور پرائیوسی سے متعلق گروپوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق صدر اوباما اس حوالے سے اپنے فیصلوں کے بارے میں اگلے ہفتے تک اعلان کر سکتے ہیں۔ اوباما اس سلسلے میں ملکی قانون سازوں، قانونی ماہرین، وکلا اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے بتایا کہ صدر اس سلسلے میں مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس بارے میں ملنے والی تمام آرا اور تجاویز کا احترام کرتے ہیں۔ توقع کی جاری ہے کہ صدر نگرانی و جاسوسی سے متعلق جن پروگراموں میں ترامیم کا اعلان کرنے والے ہیں، ان میں 'نیشنل انٹیلی جنس پرائیورٹیز فریم ورک' میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔
یہ وہ خفیہ دستاویز ہے جس کے ذریعے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کن حالات و واقعات میں جاسوسی لازم ہے۔ اس دستاویز کی مدد سے یہ فیصلے بھی کیے جاتے ہیں کہ کِن کِن بین الاقوامی رہنماؤں کی جاسوسی یا نگرانی کی جانی چاہیے۔ دریں اثناء اطلاعات کے مطابق صدر اوباما جائزہ کمیٹی کی اس تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں جس کے تحت این ایس اے امریکیوں کے ٹیلی فون ریکارڈ جمع کرنے کا اہل نہیں ہوگا اور اْس کی جگہ ٹیلی فون کمپنیاں یہ ریکارڈ رکھنے کی پابند ہوں گی۔ اس تجویز کے مطابق نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو کسی مخصوص صارف کا ریکارڈ اْسی صورت مہیا کیا جائے گا جب ایجنسی عدالت سے اس کی اجازت لے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ اوباما اس تجویز کے حق میں فیصلہ کریں گے یا نہیں۔
امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ روز جرمن چانسلر اینجلا مرکل کیساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوششیں تیز کردی ہیں جو امریکہ کی جانب سے ان کے موبائل فون کی جاسوسی کرنے کے بعد خراب ہوئے تھے۔ صدر اوباما نے مرکل سے بات چیت میں ان کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا ہے جو اسکئینگ کے دوران گر کر زخمی ہو گئی تھی۔ انھوں نے انھیں واشنگٹن کے دورے کی بھی دعوت دی اور آئندہ مہینوں کے دوران باہمی اتفاق سے اس دورے کے تعین کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ادھر یورپی پارلیمانی کمیٹی نے امریکہ کے سابق انٹیلی جنس اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کی سماعت کے منصوبے کی منظوری دیدی ہے۔ پارلیمان کی شہری آزادیوں سے متعلق کمیٹی میں اسنوڈن کو روس میں جہاں وہ عارضی پناہ لیے ہوئے ہے سے ویڈیو لنک کے ذریعے سننے کیلیے 36ووٹ حمایت میں جبکہ دو مخالفت میں پڑے۔ کمیٹی کی سفارش پر پارلیمنٹ میں بھرپور رائے شماری فروری میں ہوگی جبکہ ایوان میں بھرپور منظوری ملنے کی صورت میں اسنوڈن کی سماعت اپریل میں متوقع طور پر ہوگی۔
صدر اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر سمیت امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے ارکان، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمزکلیپر اور این ایس اے، ایف بی آئی اور سی آئی اے کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اوباما کانگریس کے اراکین سمیت وکلا اور پرائیوسی سے متعلق گروپوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق صدر اوباما اس حوالے سے اپنے فیصلوں کے بارے میں اگلے ہفتے تک اعلان کر سکتے ہیں۔ اوباما اس سلسلے میں ملکی قانون سازوں، قانونی ماہرین، وکلا اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے بتایا کہ صدر اس سلسلے میں مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس بارے میں ملنے والی تمام آرا اور تجاویز کا احترام کرتے ہیں۔ توقع کی جاری ہے کہ صدر نگرانی و جاسوسی سے متعلق جن پروگراموں میں ترامیم کا اعلان کرنے والے ہیں، ان میں 'نیشنل انٹیلی جنس پرائیورٹیز فریم ورک' میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔
یہ وہ خفیہ دستاویز ہے جس کے ذریعے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کن حالات و واقعات میں جاسوسی لازم ہے۔ اس دستاویز کی مدد سے یہ فیصلے بھی کیے جاتے ہیں کہ کِن کِن بین الاقوامی رہنماؤں کی جاسوسی یا نگرانی کی جانی چاہیے۔ دریں اثناء اطلاعات کے مطابق صدر اوباما جائزہ کمیٹی کی اس تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں جس کے تحت این ایس اے امریکیوں کے ٹیلی فون ریکارڈ جمع کرنے کا اہل نہیں ہوگا اور اْس کی جگہ ٹیلی فون کمپنیاں یہ ریکارڈ رکھنے کی پابند ہوں گی۔ اس تجویز کے مطابق نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو کسی مخصوص صارف کا ریکارڈ اْسی صورت مہیا کیا جائے گا جب ایجنسی عدالت سے اس کی اجازت لے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ اوباما اس تجویز کے حق میں فیصلہ کریں گے یا نہیں۔
امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ روز جرمن چانسلر اینجلا مرکل کیساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوششیں تیز کردی ہیں جو امریکہ کی جانب سے ان کے موبائل فون کی جاسوسی کرنے کے بعد خراب ہوئے تھے۔ صدر اوباما نے مرکل سے بات چیت میں ان کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا ہے جو اسکئینگ کے دوران گر کر زخمی ہو گئی تھی۔ انھوں نے انھیں واشنگٹن کے دورے کی بھی دعوت دی اور آئندہ مہینوں کے دوران باہمی اتفاق سے اس دورے کے تعین کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ادھر یورپی پارلیمانی کمیٹی نے امریکہ کے سابق انٹیلی جنس اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کی سماعت کے منصوبے کی منظوری دیدی ہے۔ پارلیمان کی شہری آزادیوں سے متعلق کمیٹی میں اسنوڈن کو روس میں جہاں وہ عارضی پناہ لیے ہوئے ہے سے ویڈیو لنک کے ذریعے سننے کیلیے 36ووٹ حمایت میں جبکہ دو مخالفت میں پڑے۔ کمیٹی کی سفارش پر پارلیمنٹ میں بھرپور رائے شماری فروری میں ہوگی جبکہ ایوان میں بھرپور منظوری ملنے کی صورت میں اسنوڈن کی سماعت اپریل میں متوقع طور پر ہوگی۔