شامخودکش دھماکے میں 18 افراد ہلاک روس نے سلامتی کونسل میں دمشق کیخلاف مذمتی قرارداد مسترد کردی
دھماکاحماشہر کےگائوں کفات میں اسکول کےقریب ہوا،درجنوں افرادزخمی، صوبہ انبار میں القاعدہ کے جنگجوئوں اور فوج میں جھڑپیں
درجنوں زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حالت نازک ہے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے. فوٹو: اے ایف پی/فائل
شام میں خودکش دھماکے میں 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق حما شہر کے نواحی گائوں کفات میں ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری کار کو ایک اسکول کے قریب زوردار دھماکے سے اڑا دیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حالت نازک ہے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ شام میں سرگرم باغیوں کے مابین جاری لڑائی میں شدت آگئی ہے اور حلب میں القاعدہ سے منسلک دولت الاسلامیہ فی عراق و الشام نامی گروپ کے ہیڈکوارٹرز پرمخالف باغی گروہوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان سیکڑوں باغیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا جو حلب کے اسپتال میں قائم دولت الاسلامیہ کے ہیڈکوارٹرز میں موجود تھے۔
البتہ اس اسپتال میں قید لوگوں کو رہا کر دیاگیا ہے۔ایک وڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دولت الاسلامیہ کے مخالف اس اسپتال کے سامنے کھڑے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ انھوں نے مذکورہ ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے۔ادھر جرمنی نے کہا ہے کہ وہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ جرمنی کی وزارت خارجہ اور دفاع کے ترجمان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جرمنی اقوام متحدہ کی درخوات پر شام کے بقیہ کیمیائی ہتھیاروں کو اپنی سرزمین پر تباہ کرے گا۔ علاوہ ازیں روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر شام کے خلاف مذمت کی قرارداد کو مسترد کر دیا۔ سلامتی کونسل میں برطانیہ کی طرف سے شام کے صدر بشارالاسد اور سرکاری فوج کی طرف سے نہتے شہریوں پر بمباری بیرل بموں کے استعمال اور بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے خلاف مذمتی قرار داد پیش کی جانی تھیں تاہم روس نے مذمتی بیان جاری کیے جانے کے آگے اپنی مخالفت سے دیوار کھڑی کردی ، حکومتی قرار داد کو ویٹو کر دیا اور سلامتی کونسل سے قرار داد میں شامل بعض شقوں میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق حما شہر کے نواحی گائوں کفات میں ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری کار کو ایک اسکول کے قریب زوردار دھماکے سے اڑا دیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حالت نازک ہے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ شام میں سرگرم باغیوں کے مابین جاری لڑائی میں شدت آگئی ہے اور حلب میں القاعدہ سے منسلک دولت الاسلامیہ فی عراق و الشام نامی گروپ کے ہیڈکوارٹرز پرمخالف باغی گروہوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان سیکڑوں باغیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا جو حلب کے اسپتال میں قائم دولت الاسلامیہ کے ہیڈکوارٹرز میں موجود تھے۔
البتہ اس اسپتال میں قید لوگوں کو رہا کر دیاگیا ہے۔ایک وڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دولت الاسلامیہ کے مخالف اس اسپتال کے سامنے کھڑے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ انھوں نے مذکورہ ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے۔ادھر جرمنی نے کہا ہے کہ وہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ جرمنی کی وزارت خارجہ اور دفاع کے ترجمان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جرمنی اقوام متحدہ کی درخوات پر شام کے بقیہ کیمیائی ہتھیاروں کو اپنی سرزمین پر تباہ کرے گا۔ علاوہ ازیں روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر شام کے خلاف مذمت کی قرارداد کو مسترد کر دیا۔ سلامتی کونسل میں برطانیہ کی طرف سے شام کے صدر بشارالاسد اور سرکاری فوج کی طرف سے نہتے شہریوں پر بمباری بیرل بموں کے استعمال اور بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے خلاف مذمتی قرار داد پیش کی جانی تھیں تاہم روس نے مذمتی بیان جاری کیے جانے کے آگے اپنی مخالفت سے دیوار کھڑی کردی ، حکومتی قرار داد کو ویٹو کر دیا اور سلامتی کونسل سے قرار داد میں شامل بعض شقوں میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔