پولیس مقابلے میں کالعدم تحریک طالبان کے 3 کارندے ہلاک
موٹر سائیکل سوار کالعدم تنظیم کے کارکنوں کا پولیس پر دستی بم سے حملہ، جوابی فائرنگ میں تینوں مارے گئے، شفیق تنولی
ماڑی پور میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والا ملزم مشرف کالونی میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد کے مقدمہ قتل میں نامزد تھا۔ فوٹو: فائل
مشرف کالونی اور ماڑی پور میں 2 مختلف پولیس مقابلوں کے دوران 4 ملزمان ہلاک ہوگئے۔
ملزمان میں سے 3 کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ہے جبکہ ایک ملزم مشرف کالونی میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد کے مقدمہ قتل میں نامزد تھا۔ تفصیلات کے مطابق نیو موچکو کے علاقے مشرف کالونی میں گزشتہ روز پولیس مقابلے کے دوران 3 ملزمان ہلاک ہوگئے جن کی لاشیں سول اسپتال منتقل کی گئیں، اس سلسلے میں ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر شفیق تنولی نے بتایا کہ مشرف کالونی میں 3 ملزمان 35 سالہ امان اللہ ولد شیر بہادر، 30 سالہ شیر محمد ولد ظریف خان اور 45 سالہ مرزا علی ولد گلاب خان موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ پولیس نے انھیں روکا جس پر وہ نہیں رکے اور پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی، اس دوران ملزمان نے پولیس کی موبائل پر دستی بم بھی پھینکا، پولیس کی جوابی فائرنگ سے تینوں ملزمان ہلاک ہوگئے، پولیس نے ملزمان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، 3 پستول اور ایک دستی بم برآمد کرلیا۔
شفیق تنولی نے مزید بتایا کہ مرنے والوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے ، امان اللہ قائد آباد کا مقامی امیر ، شیر محمد اتحاد ٹاؤن کا مقامی امیر جبکہ مرزا علی تحریک کا مقامی خزانچی تھا۔ علاوہ ازیں ماڑی پور کے علاقے میں بھی پولیس مقابلہ ہوا جس میں ایک ملزم ہلاک ہوگیا ، ایس ایچ او ماڑی پور سب انسپکٹر محمد طفیل نے ایکسپریس کو بتایا کہ ملزم مہر بخش کا تعلق لیاری گینگ وار کے ملا نذیر گروپ سے ہے اور وہ گزشتہ برس کے آخر میں مشرف کالونی میں ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کے مقدمہ قتل میں نامزد تھا، پولیس نے ملزم کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرلیا ، ملزم قتل ، اقدام قتل ، ڈکیتی و رہزنی ، بھتہ خوری اور دیگر جرائم کی 25 سے زائد وارداتوں میں مطلوب تھا ۔
ملزمان میں سے 3 کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ہے جبکہ ایک ملزم مشرف کالونی میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد کے مقدمہ قتل میں نامزد تھا۔ تفصیلات کے مطابق نیو موچکو کے علاقے مشرف کالونی میں گزشتہ روز پولیس مقابلے کے دوران 3 ملزمان ہلاک ہوگئے جن کی لاشیں سول اسپتال منتقل کی گئیں، اس سلسلے میں ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر شفیق تنولی نے بتایا کہ مشرف کالونی میں 3 ملزمان 35 سالہ امان اللہ ولد شیر بہادر، 30 سالہ شیر محمد ولد ظریف خان اور 45 سالہ مرزا علی ولد گلاب خان موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ پولیس نے انھیں روکا جس پر وہ نہیں رکے اور پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی، اس دوران ملزمان نے پولیس کی موبائل پر دستی بم بھی پھینکا، پولیس کی جوابی فائرنگ سے تینوں ملزمان ہلاک ہوگئے، پولیس نے ملزمان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، 3 پستول اور ایک دستی بم برآمد کرلیا۔
شفیق تنولی نے مزید بتایا کہ مرنے والوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے ، امان اللہ قائد آباد کا مقامی امیر ، شیر محمد اتحاد ٹاؤن کا مقامی امیر جبکہ مرزا علی تحریک کا مقامی خزانچی تھا۔ علاوہ ازیں ماڑی پور کے علاقے میں بھی پولیس مقابلہ ہوا جس میں ایک ملزم ہلاک ہوگیا ، ایس ایچ او ماڑی پور سب انسپکٹر محمد طفیل نے ایکسپریس کو بتایا کہ ملزم مہر بخش کا تعلق لیاری گینگ وار کے ملا نذیر گروپ سے ہے اور وہ گزشتہ برس کے آخر میں مشرف کالونی میں ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کے مقدمہ قتل میں نامزد تھا، پولیس نے ملزم کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرلیا ، ملزم قتل ، اقدام قتل ، ڈکیتی و رہزنی ، بھتہ خوری اور دیگر جرائم کی 25 سے زائد وارداتوں میں مطلوب تھا ۔