کراچی چیمبر نے ٹیکس ڈائریکٹری کے اجرا کی مخالفت کردی

محصولات دینے والوں کے بجائے ٹیکس چوروں کے نام اور تفصیلات شائع کی جائیں،صدر کے سی سی آئی عبداللہ ذکی کا مطالبہ

محصولات دینے والوں کے بجائے ٹیکس چوروں کے نام اور تفصیلات شائع کی جائیں،عبداللہ ذکی۔ فوٹو: فائل

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبداللہ ذکی نے ٹیکس گزاروں کی تفصیلات پر مشتمل ٹیکس ڈائریکٹری کے اجرا کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار اور اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پرانے ٹیکس گزاروں کے بجائے ٹیکس چوروں کے نام اور تفصیلات شائع کی جائیں۔

کے سی سی آئی کے صدر عبداللہ ذکی نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کے پاس ٹیکس چوروں کی مکمل معلومات موجود ہیں جو انہوں نے بینکوں اور نادرا کے ڈیٹا سے حاصل کی ہیں۔عبداللہ ذکی نے وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ٹیکس ڈائریکٹری کے اجرا کی ہدایت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزیر خزانہ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق تقریباً 8 لاکھ 50ہزار ٹیکس گزاروں کی تفصیلات پر مشتمل ٹیکس ڈائریکٹری شائع کی جائے گی جس میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی تفصیلات بھی شامل ہیں، ایماندار ٹیکس گزاروں کے لیے یہ اقدام تشویش کا باعث ہے۔ انہوںنے کہا کہ ٹیکس گزار پابندی سے ٹیکس ادا کررہے ہیں اور ان کے پاس این ٹی این بھی موجود ہیں، ایف بی آر کے پاس ان ٹیکس گزاروں کی تمام کاروباری تفصیلات موجود ہیں۔




دوسری جانب ٹیکس چور جو شاہانہ زندگی بسر کر رہے ہیں اور باقاعدگی سے غیرملکی دوروں کے علاوہ ان کے بینک اکاؤنٹس میں خطیر رقوم بھی موجود ہیں، اس کے باجود ایف بی آر نے ٹیکس چوروں پر گھیرا تنگ کرنے اور ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے جان بوجھ کر کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جس سے حقیقی ٹیکس گزاروں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ کے سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کی تفصیلات پر مشتمل ٹیکس ڈائریکٹری کے اجرا سے تاجر برادری کے لیے ایک نئی مصیبت کھڑی ہو جائے گی اور ان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گا، یہ ٹیکس ڈائریکٹری شرپسند اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور ان کو موقع ملے گا کہ وہ باآسانی ٹیکس گزاروں کی مالی استطاعت کا اندازہ لگا سکیں جس سے بھتہ خوری کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔عبداللہ ذکی نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس گزاروں کی خفیہ معلومات کو ہرگز شائع نہ کیا جائے اور اپنی تمام تر توجہ ٹیکس چوروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر مرکوز رکھی جائے۔
Load Next Story