لاپتہ افراد کیس وزیراعظم اس امر کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کوئی جبری لاپتہ نہ ہو سپریم کورٹ
حکام بالا قانون کی پاسداری نہیں کریں گے توکوئی قانون نہیں مانے گا،عدالتی ہدایت کی خلاف ورزی کی گئی، عدالت
فوج کوقانون کے بغیر کسی کو حراست میںلینے کااختیارنہیں، وزیراعظم سے پہلے ان کاسیکریٹری بلارہے ہیں،جسٹس جواد، سیکریٹری قانون کو بھی نوٹس فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے لاپتہ افرادکیس میں عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پرکہا ہے کہ وزیر اعظم کو بلانے سے پہلے ان کے سیکریٹری کوبلارہے ہیں، وزیر اعظم اس امر کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کسی کو جبری لاپتہ نہ کیا جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین سے انحراف آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے جس پر آرٹیکل5 کا اطلاق ہوتا ہے۔ مالاکنڈ حراستی مرکز سے اٹھائے گئے35 قیدیوںکے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے قراردیاکہ کسی شہری کو آئین کی شق 9اور 10 میں حاصل بنیادی حقوق سے محروم نہیںکیا جاسکتا،فوج یا کسی اور ادارے کو قانون کے بغیرکسی کوگرفتار یا حراست میں رکھنے کا اختیار نہیں ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس اقبال حمیدالرحمٰن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔عدالت نے حکومت کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ مستردکردی اورگزشتہ سال 10 دسمبرکے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر وزیر اعظم کے سیکریٹری اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کونوٹس جاری کے جواب طلب کرلیا۔عدالت نے ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی حکم پر عملدرآمدنہ کرنے کا معاملہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے نوٹس میںلائیںاور تحریری بیان جمع کرائیں۔
عدالت نے سیکریٹری قانون کو بھی نوٹس جاری کردیاہے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے لاپتہ افرادکے معاملے میں دونوں طرف سے آئین کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جن پر آئین نہ ماننے کاالزام ہے اورجوالزام لگانے والے ہیں دونوں آئین کی پابندی نہیںکررہے ہیں، ہم یہ نہیںکہتے کہ انتہا پسند اور دہشتگردکوکھلا چھوڑ دیا جائے بلکہ ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔فاضل جج نے کہا مہذب معاشروں میں ساکھ سب سے معتبر چیز ہ،ے ایسا نہ ہوکہ اس گڈریا کا معاملہ ہو جائے کہ واقعی شیر آیا ہو اور اسے ناقابل اعتبار سمجھتے ہوئے کوئی نہ نکلے ۔جسٹس جواد نے کہا کہ عدالت کے حکم کو سنجیدہ لینا چاہیے، اسے ہوا میں اڑانے کی روایت اب ختم ہونی چاہیے۔فاضل جج نے کہا کہ جولائی سے قانون سازی کا کہہ رہے ہیں، پتہ نہیں حکومت معاملے کو کب سنجیدہ لے گی ۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین سے انحراف آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے جس پر آرٹیکل5 کا اطلاق ہوتا ہے۔ مالاکنڈ حراستی مرکز سے اٹھائے گئے35 قیدیوںکے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے قراردیاکہ کسی شہری کو آئین کی شق 9اور 10 میں حاصل بنیادی حقوق سے محروم نہیںکیا جاسکتا،فوج یا کسی اور ادارے کو قانون کے بغیرکسی کوگرفتار یا حراست میں رکھنے کا اختیار نہیں ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس اقبال حمیدالرحمٰن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔عدالت نے حکومت کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ مستردکردی اورگزشتہ سال 10 دسمبرکے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر وزیر اعظم کے سیکریٹری اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کونوٹس جاری کے جواب طلب کرلیا۔عدالت نے ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی حکم پر عملدرآمدنہ کرنے کا معاملہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے نوٹس میںلائیںاور تحریری بیان جمع کرائیں۔
عدالت نے سیکریٹری قانون کو بھی نوٹس جاری کردیاہے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے لاپتہ افرادکے معاملے میں دونوں طرف سے آئین کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جن پر آئین نہ ماننے کاالزام ہے اورجوالزام لگانے والے ہیں دونوں آئین کی پابندی نہیںکررہے ہیں، ہم یہ نہیںکہتے کہ انتہا پسند اور دہشتگردکوکھلا چھوڑ دیا جائے بلکہ ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔فاضل جج نے کہا مہذب معاشروں میں ساکھ سب سے معتبر چیز ہ،ے ایسا نہ ہوکہ اس گڈریا کا معاملہ ہو جائے کہ واقعی شیر آیا ہو اور اسے ناقابل اعتبار سمجھتے ہوئے کوئی نہ نکلے ۔جسٹس جواد نے کہا کہ عدالت کے حکم کو سنجیدہ لینا چاہیے، اسے ہوا میں اڑانے کی روایت اب ختم ہونی چاہیے۔فاضل جج نے کہا کہ جولائی سے قانون سازی کا کہہ رہے ہیں، پتہ نہیں حکومت معاملے کو کب سنجیدہ لے گی ۔