منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلیے قوانین مزید سخت کرنیکا فیصلہ

ٹیکس کرائم کوانسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں شامل کرنے کیلیے مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیاجائیگا.

ٹیکس کرائم کوانسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں شامل کرنے کیلیے مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیاجائیگا. فوٹو : فائل

وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرتے ہوئے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترمیم کے ذریعے انہیں مزیدسخت کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

ٹیکس کرائم کوانسدادمنی لانڈرنگ ایکٹ کے جرائم کے شیڈول میںشامل کرنے کیلیے انسدادمنی لانڈرنگ ایکٹ کامسودے قومی اسمبلی کے آئندہ ہونیوالے اجلاس میںپیش کرنیکافیصلہ کیاہے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز(جمعہ) وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکی زیرصدارت قومی ایگزیکٹوکمیٹی(این ای سی)کااجلاس منعقدہوااجلاس میںوفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویزرشید،وزیراعظم کے مشیرخارجہ امورسرتاج عزیز، چیئرمین سیکورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان طاہر محمود، سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود ،سیکرٹری داخلہ شاہدخان سمیت دیگرمتعلقہ حکام نے شرکت کی حکام کے مطابق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے کہاکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلیے کی جانیوالی اصلاحات میںاس بات کوپیش نظررکھاجائے کہ دہشت گردی کی کاروائیوںکیلیے فنانسنگ کو روکنے کیلیے ملک کی لاء انفورسمنٹ ایجنسیوںاورانکے پرسانل کومضبوط بنایاجائے۔




وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے کہاکہ ملک میںکام کرنیوالی غیرسرکاری تنظیموں(این جی اوز)کی رجسٹریشن کیلیے آنیوالے نئے قانون کے نفاذ سے بھی ناپسندیدہ عناصرکی فنانسنگ کو روکنے میںمددملے گی اجلاس کے دوران پاکستان میںموجودہ انسدادمنی لانڈرنگ رجیم کے ارتقاء اوراس حوالے سے اقوام متحدہ کے پابندیوںکے فورم اورفنانشل ایکشن ٹاسک فورس کیساتھ جاری بات چیت کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اجلاس میں بتایاگیاکہ پاکستان کی انسدادمنی لانڈرنگ اوردہشتگردی کی کارروائیوںکیلیے فنانسنگ کی روک تھام(سی ٹی ایف) کو مسلسل عالمی معیارکے ہم آہنگ بنانے کیلیے کام جاری ہے اوراس مقصدکیلیے انسدادمنی لانڈرنگ ایکٹ میںپارلیمنٹ سے چندترامیم کے بعدکچھ اہم اقدام اٹھائے جائیںگے اورعصرحاضرکے تقاضوںسے ہم آہنگ آئینی شقیں شامل کی جائیںگی اجلاس کو بتایا گیاکہ انسدادمنی لانڈرنگ ایکٹ میںترامیم کے مسودے کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے منظوری دیدی ہے اور اب یہ مسودہ قومی اسمبلی کے آئندہ ہونیوالے اجلاس میںمنظوری کیلیے پیش کیاجائیگا۔

جبکہ ذرائع کاکہناہے کہ مذکورہ تمام اقدامات آئی ایم ایف کی شرائط پراٹھائے جارہے ہیںاورآئی ایم ایف کی طرف سے جاری کردہ حالیہ لیٹرآف انٹینٹ اورسٹاف رپورٹ میں تو انسدادمنی لانڈرنگ ایکٹ میںترمیم سمیت دیگرشرائط پرعملدرآمدکاشیڈول تک گیاہے اس لیے حکومت آئی ایم ایف جائزہ مشن کے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کادوسری جائزہ لینے کیلیے آنے سے پہلے ان شرائط پرعملدرآمدکرناچاہتی ہے تاکہ آئی ایم ایف سے قرضے کی تیسری قسط بھی مل سکے اورپروگرام آن ٹریک رہ سکے کیونکہ اگرایسانہ ہوااورپاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکلاتوپاکستان کی بحال ہونیوالی بجٹری سپورٹ پھرسے بندہوجائیگی جس سے مالی بحران مزیدشدت اختیارکرجائیگا۔
Load Next Story