افغانستان خودکش حملے میں 6بچے ہلاک رواں ماں 9ہزار فوجی واپس بلالیں گے امریکا
حملہ آورنے کابل میں نیٹوہیڈکوارٹرزکے قریب بارود سے بھری موٹر سائیکل کو دھماکے سے اڑادیا، 5 بچے زخمی بھی ہوئے.
حملہ آورنے کابل میں نیٹوہیڈکوارٹرزکے قریب بارود سے بھری موٹر سائیکل کو دھماکے سے اڑادیا، 5 بچے زخمی بھی ہوئے, فوٹو: اے ایف پی
افغانستان میں نیٹو ہیڈ کوارٹرز کے قریب خود کش حملے میں سڑک پر ہلکا پھلکا سامان بیچنے والے 6 بچے ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔
حکام کے مطابق دارالحکومت کابل میں خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری موٹر سائیکل کو کیمپ ایگرز کے داخلی دروازے پر دھماکے سے اڑا دیا جس میں سڑک پر ہلکا پھلکا سامان بیچنے والے 6 بچے ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ، ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کی کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان ہیں۔ حملے میں سڑک کنارے سامان فروخت کرنے والے افراد متاثر ہوئے ہیں، طالبان ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی، جس فوجی اڈے پر حملہ ہوا ہے اس کے قریب ہی امریکی اور برطانوی سفارتخانے واقع ہیں اور وہیں افغانستان کے صدر کا محل بھی واقع ہے۔ نیٹو ترجمان کے مطابق بیس میں ڈھائی ہزار نیٹو ٹرینر قیام پذیر ہیں۔
دوسری طرف احمد شاہ مسعود کی گیارویں برسی کے موقع پر کابل میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ ادھر ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے اختتام تک مزید 9 ہزار فوجی افغانستان سے واپس بلا لیے جائیں گے، امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ افغانستان سے انخلاء شیڈول کے مطابق ہوگا۔ اے ایف پی کے مطابق افغان کے نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صوتحال کافی خراب ہے، اس لیے 2014 میں ہونے والے انتخابات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ ثناء نیوز کے مطابق پاکستان نے کابل میں ہونیوالے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پا کستان افغان عوام اور حکومت کو دہشت گردی کو شکست دینے کی تمام کوششوں میں اپنے بھر پور تعاون کی حمایت کی یقین دہانی کراتا ہے۔
حکام کے مطابق دارالحکومت کابل میں خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری موٹر سائیکل کو کیمپ ایگرز کے داخلی دروازے پر دھماکے سے اڑا دیا جس میں سڑک پر ہلکا پھلکا سامان بیچنے والے 6 بچے ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ، ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کی کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان ہیں۔ حملے میں سڑک کنارے سامان فروخت کرنے والے افراد متاثر ہوئے ہیں، طالبان ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی، جس فوجی اڈے پر حملہ ہوا ہے اس کے قریب ہی امریکی اور برطانوی سفارتخانے واقع ہیں اور وہیں افغانستان کے صدر کا محل بھی واقع ہے۔ نیٹو ترجمان کے مطابق بیس میں ڈھائی ہزار نیٹو ٹرینر قیام پذیر ہیں۔
دوسری طرف احمد شاہ مسعود کی گیارویں برسی کے موقع پر کابل میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ ادھر ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے اختتام تک مزید 9 ہزار فوجی افغانستان سے واپس بلا لیے جائیں گے، امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ افغانستان سے انخلاء شیڈول کے مطابق ہوگا۔ اے ایف پی کے مطابق افغان کے نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صوتحال کافی خراب ہے، اس لیے 2014 میں ہونے والے انتخابات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ ثناء نیوز کے مطابق پاکستان نے کابل میں ہونیوالے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پا کستان افغان عوام اور حکومت کو دہشت گردی کو شکست دینے کی تمام کوششوں میں اپنے بھر پور تعاون کی حمایت کی یقین دہانی کراتا ہے۔