روس اور پاکستان کی حقیقت پسندانہ سوچ
ماضی کے برعکس خطے میں پاکستان کی بدلتی خارجہ پالیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ماضی کے برعکس خطے میں پاکستان کی بدلتی خارجہ پالیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ فوٹو: فائل
افغان تصفیہ کے سیاسی حل کی ضرورت ہے، رشین فیڈریشن سے تجارت،ریلوے، ہوابازی اور دیگر شعبہ جات میں تعاون کے خواہش مند ہیں،ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ایک ملاقات میں کیا۔
دوران ملاقات انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور کشمیر تنازع پرامن طریقے سے حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔روسی وزیر خارجہ کی اہم ترین ملاقات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ہوئی ، اس موقع پر پاکستانی فوج کے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ ہمارے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں، پاکستان علاقائی تعاون کے لیے کوشاں ہے، روس کے ساتھ بہتر دفاعی تعلقات کے قیام کے خواہاں ہیں۔
عالمی سیاسی منظرنامے میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر روسی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان خاص اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ ملکی اور عالمی میڈیا میں بھی اس دورے کا خوب چرچارہا۔ اب پاکستان کی توجہ مشرق کی طرف ہے۔
مبصرین کے مطابق مشرق کی طرف دیکھنے کا عمل پاکستان کے لیے مثبت ہے۔پاکستان، ایران، روس، چین، ترکی اور وسطی ایشیا کے ممالک مل کر ایک نیا سیاسی بلاک قائم کر سکتے ہیں، جب کہ دوسری جانب روس نے پاکستان سے تعلقات کو نئی شکل دینے اور ان میں وسعت لانے کی بھرپور کوششیں عملی طور پر شروع کردی ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان اور جنوبی ایشیا دونوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں نمایاں تزویراتی حرکیات اور پالیسی کی تبدیلی اُن تصورات کو تبدیل کرسکتی ہے، جنھوں نے روس اور امریکا کے درمیان سرد جنگ میں پاکستان کو روس مخالف کیمپ میں لاکھڑا کیا تھا۔
ماسکو نے واضح عندیہ دے دیا ہے کہ وہ ماضی کو بھلاکر جنوبی ایشیا سمیت پورے ایشیا میں طاقت کا توازن قائم کرنے کی کوشش کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور روسی وزیرخارجہ کا حالیہ دورہ ان سارے خیالات پر مہرتصدیق ثبت کرتا نظر آتا ہے۔بدلتے علاقائی حالات نے دونوں ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا موقع فراہم کیا ہے۔
اسی تناظر میں روس نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینی شروع کر دی ہے۔سیکیورٹی سے متعلق روس، چین، پاکستان کے ملتے جلتے مفادات اور افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر نے روس اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔
بھارت روس کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو سپورٹ کرتا ہے۔ماسکو کی پالیسی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے اس کی حقیقت پسندی اور عمل پسندی کا بھی اظہار ہوتا ہے وہ پاکستان کے تعاون سے افغانستان میں استحکام لانا چاہتا ہے، کابل کا استحکام وسطی ایشیا کے امن کا پیش خیمہ ہوگا۔
افغانستان میں سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل پورے خطے میں روسی مال کی فروخت کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کا کردار کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس لیے روس چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان سے بھرپور مستفید ہو، ایسی صورت میں روس کے لیے پورے خطے میں معاشی روابط بہتر بنانے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ ماسکو داعش کو افغانستان میں قابو کرنے کے لیے طالبان کو ضروری سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے وہاں پر امن لانے میں پاکستان کے کردار کو بھی ناگزیر سمجھتا ہے۔
بھارت،امریکا دفاعی تعلقات اور بھارت،روس تعلقات میں سرد مہری نے پاکستان اور روس کے لیے تعلقات استوار کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ روس نے پاکستان کے ساتھ پہلی دفعہ مشترکہ فوجی مشقیں کیں اگرچہ یہ بھارت،روس دفاعی تعلقات کے جتنی وسیع نہیں تھیں تاہم یہ مشقیں اس وقت ہوئیں جب پاکستان اور بھارت کے بیچ اڑی حملے کے بعد تناؤ چل رہا تھا۔ روس نے پاکستان کو چار ہیلی کاپٹرز بھی فراہم کیے ہیں، یہ چیزیں دکھاتی ہیں کہ روس جہاں تاریخی طور پر بھارت سے دور ہو رہا ہے وہیں وہ پاکستان کے قریب ہو رہا ہے۔
سی پیک کی صورت میں پاکستان کو جو معاشی فوائد اور مواقعے ملے ہیں، پاکستان ان میں روس کو شامل کر کے تعلقات کو وسعت دے سکتا ہے۔ سی پیک علاقائی اور عالمی معاشی سرگرمیوں کی وسعت میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک''لینڈ لاکڈ'' ملکوں کو بحیرہ عرب کے گرم پانیو ں تک رسائی بھی دے گا جس کی روس نے ایک عرصے سے خواہش رکھی ہے۔ گرم پانیوں تک رسائی کے علاوہ روس پاکستان کو ہتھیار بھی فروخت کر سکتا ہے۔ پابندیوں میں جکڑا ہوا اور دفاعی منڈی میں ہتھیاروں کی فروخت میں سخت مقابلے کی وجہ سے روس نئی منڈیاں تلاش کر رہا ہے۔
افغانستان میں دیرپا استحکام لانے میں روس کو پاکستان کی ضرورت ہو گی جب کہ دوسری طرف پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کا ضامن ہے۔ مزید برآں روس چین کے قریب ہو رہا ہے۔ پاک،روس تعلقات میں دو طرفہ گرمجوشی اس تبدیلی کی بڑی مثال ہے۔ پاکستان کے لیے روس کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کا عالمی سیاست اور امریکا کو ایک واضح پیغام ہو گا کہ ایک نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ سیکیورٹی، توانائی اور معاشی تعلقات میں بہتری یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ سرد جنگ کی سرد مہری ختم ہو گئی ہے۔ علاقائی امن اور خوشحالی کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں لگاتار تبدیلی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
ملاقات میں وزیر اعظم نے روس کو کورونا ویکسین سپوتنک بنانے پر مبارکباد پیش کی اور اس کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی اورمغربی ایشیا، خلیج، مشرق وسطیٰ اور ایشیا بحر الکاہل کے خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے روسی صدر پوٹن کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔ یہ سب باتیں اس طرف واضح اشارہ ہے کہ تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے ۔پاکستان نے ماسکو میں تعینات اپنے سفیر کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ ماسکو کی انرجی وزارت کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کرنے کے مجاز ہوں گے، پاکستان نے اسٹیل مل کی دوبارہ بحالی کے لیے بھی روس سے کہا ہے، جس کی بنیاد روس نے رکھی تھی ۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی، دفاعی و سیکیورٹی تعاون بڑھانے، علاقائی سیکیورٹی، بالخصوص افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور علاقائی امن واستحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی، انھوں نے افغان مفاہمتی عمل کے لیے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو بھی سراہا۔
پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، پاکستان روس کے ساتھ فوجی تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے، پاکستان افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے، افغانستان میں دیر پا امن و ستحکام سے خطے کو فائدہ ہوگا۔آرمی چیف نے خطے کی اسٹرٹیجک صورتحال میں تبدیلی کا واضح اشارہ دیا ہے ۔دوسری جانب یہ حقیقت بھی واضح ہوتی نظر آرہی ہے کہ بھارت اب روس کو چھوڑ کر امریکی دائرہ اثر میں داخل ہو رہا ہے۔
ایسی حالت میں روس کے لیے بھارت کے بحری علاقے میں قدم جمانا لازم ہوجائے گا اور ایسا ہوا تو نئی دہلی کی پریشانی بڑھے گی۔ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور اشتراکِ عمل کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے ماسکو جو کچھ کر رہا ہے، اس سے اتنا تو واضح ہے کہ نئی دہلی میں پریشانی ہے۔
تزویری سطح پر رونما ہونے والی یہ تبدیلیاں روس اور بھارت کے تعلقات کو بھی نئی، حقیقت پسندانہ سوچ سے ہم کنار کرسکتی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بھارت کو امریکا سے تعلقات کا بھی جائزہ لیتے ہوئے وہ سب کچھ کرنا ہوگا جو روس کے تحفظات دور کرے۔پاکستان کا جنوبی ایشیا میں کردار اپنے دیرینہ دوست چین اور امریکا سے تعلقات کی بنیاد پر ہے۔
اب وہ روس سے بھی قربت اختیار کر رہا ہے۔ چین پاک راہداری منصوبے نے پاکستان کو ایک مضبوط معاشی،سفارتی اور تزویری بنیاد فراہم کی ہے۔ چین اور روس کی طرف غیر معمولی جھکاؤکے باعث پاک امریکا تعلقات کے شیشے میں بھی بال آرہا ہے۔ روس اگر چاہے تو پاکستان کو عسکری طور پر مضبوط کرکے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھ سکتا ہے۔
ماضی کے برعکس خطے میں پاکستان کی بدلتی خارجہ پالیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ہمسایہ ممالک اور بعید کے دوستوں سے تعلق زیادہ اہم اور ضروری ہے جس سے خطے میں حالات میں بہتری اور پاکستان کا کردار مزید نمایا ںاور اہمیت کا حامل ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستان اور روس کے تعلقات میں گرم جوشی خطے میں نمایاں تبدیلی لائے گی ، بلاشبہ مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں روس اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے ، اگر آنے والے دنوں میںتنازع کشمیر کا پرامن حل نکل آتا ہے تو یہ عمل جنوبی ایشیا میں قیام امن کی راہ ہموار کردے گا ۔ پاکستان امن کا داعی ہے یقینا روس پاکستان کا ساتھ دیتا رہے گا تاکہ یہ خطے امن وسکون کا گہوارہ اور دنیا کے لیے ترقی کا خوشحالی کا استعارہ بن سکے ۔
دوران ملاقات انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور کشمیر تنازع پرامن طریقے سے حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔روسی وزیر خارجہ کی اہم ترین ملاقات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ہوئی ، اس موقع پر پاکستانی فوج کے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ ہمارے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں، پاکستان علاقائی تعاون کے لیے کوشاں ہے، روس کے ساتھ بہتر دفاعی تعلقات کے قیام کے خواہاں ہیں۔
عالمی سیاسی منظرنامے میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر روسی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان خاص اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ ملکی اور عالمی میڈیا میں بھی اس دورے کا خوب چرچارہا۔ اب پاکستان کی توجہ مشرق کی طرف ہے۔
مبصرین کے مطابق مشرق کی طرف دیکھنے کا عمل پاکستان کے لیے مثبت ہے۔پاکستان، ایران، روس، چین، ترکی اور وسطی ایشیا کے ممالک مل کر ایک نیا سیاسی بلاک قائم کر سکتے ہیں، جب کہ دوسری جانب روس نے پاکستان سے تعلقات کو نئی شکل دینے اور ان میں وسعت لانے کی بھرپور کوششیں عملی طور پر شروع کردی ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان اور جنوبی ایشیا دونوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں نمایاں تزویراتی حرکیات اور پالیسی کی تبدیلی اُن تصورات کو تبدیل کرسکتی ہے، جنھوں نے روس اور امریکا کے درمیان سرد جنگ میں پاکستان کو روس مخالف کیمپ میں لاکھڑا کیا تھا۔
ماسکو نے واضح عندیہ دے دیا ہے کہ وہ ماضی کو بھلاکر جنوبی ایشیا سمیت پورے ایشیا میں طاقت کا توازن قائم کرنے کی کوشش کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور روسی وزیرخارجہ کا حالیہ دورہ ان سارے خیالات پر مہرتصدیق ثبت کرتا نظر آتا ہے۔بدلتے علاقائی حالات نے دونوں ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا موقع فراہم کیا ہے۔
اسی تناظر میں روس نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینی شروع کر دی ہے۔سیکیورٹی سے متعلق روس، چین، پاکستان کے ملتے جلتے مفادات اور افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر نے روس اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔
بھارت روس کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو سپورٹ کرتا ہے۔ماسکو کی پالیسی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے اس کی حقیقت پسندی اور عمل پسندی کا بھی اظہار ہوتا ہے وہ پاکستان کے تعاون سے افغانستان میں استحکام لانا چاہتا ہے، کابل کا استحکام وسطی ایشیا کے امن کا پیش خیمہ ہوگا۔
افغانستان میں سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل پورے خطے میں روسی مال کی فروخت کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کا کردار کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس لیے روس چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان سے بھرپور مستفید ہو، ایسی صورت میں روس کے لیے پورے خطے میں معاشی روابط بہتر بنانے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ ماسکو داعش کو افغانستان میں قابو کرنے کے لیے طالبان کو ضروری سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے وہاں پر امن لانے میں پاکستان کے کردار کو بھی ناگزیر سمجھتا ہے۔
بھارت،امریکا دفاعی تعلقات اور بھارت،روس تعلقات میں سرد مہری نے پاکستان اور روس کے لیے تعلقات استوار کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ روس نے پاکستان کے ساتھ پہلی دفعہ مشترکہ فوجی مشقیں کیں اگرچہ یہ بھارت،روس دفاعی تعلقات کے جتنی وسیع نہیں تھیں تاہم یہ مشقیں اس وقت ہوئیں جب پاکستان اور بھارت کے بیچ اڑی حملے کے بعد تناؤ چل رہا تھا۔ روس نے پاکستان کو چار ہیلی کاپٹرز بھی فراہم کیے ہیں، یہ چیزیں دکھاتی ہیں کہ روس جہاں تاریخی طور پر بھارت سے دور ہو رہا ہے وہیں وہ پاکستان کے قریب ہو رہا ہے۔
سی پیک کی صورت میں پاکستان کو جو معاشی فوائد اور مواقعے ملے ہیں، پاکستان ان میں روس کو شامل کر کے تعلقات کو وسعت دے سکتا ہے۔ سی پیک علاقائی اور عالمی معاشی سرگرمیوں کی وسعت میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک''لینڈ لاکڈ'' ملکوں کو بحیرہ عرب کے گرم پانیو ں تک رسائی بھی دے گا جس کی روس نے ایک عرصے سے خواہش رکھی ہے۔ گرم پانیوں تک رسائی کے علاوہ روس پاکستان کو ہتھیار بھی فروخت کر سکتا ہے۔ پابندیوں میں جکڑا ہوا اور دفاعی منڈی میں ہتھیاروں کی فروخت میں سخت مقابلے کی وجہ سے روس نئی منڈیاں تلاش کر رہا ہے۔
افغانستان میں دیرپا استحکام لانے میں روس کو پاکستان کی ضرورت ہو گی جب کہ دوسری طرف پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کا ضامن ہے۔ مزید برآں روس چین کے قریب ہو رہا ہے۔ پاک،روس تعلقات میں دو طرفہ گرمجوشی اس تبدیلی کی بڑی مثال ہے۔ پاکستان کے لیے روس کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کا عالمی سیاست اور امریکا کو ایک واضح پیغام ہو گا کہ ایک نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ سیکیورٹی، توانائی اور معاشی تعلقات میں بہتری یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ سرد جنگ کی سرد مہری ختم ہو گئی ہے۔ علاقائی امن اور خوشحالی کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں لگاتار تبدیلی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
ملاقات میں وزیر اعظم نے روس کو کورونا ویکسین سپوتنک بنانے پر مبارکباد پیش کی اور اس کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی اورمغربی ایشیا، خلیج، مشرق وسطیٰ اور ایشیا بحر الکاہل کے خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے روسی صدر پوٹن کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔ یہ سب باتیں اس طرف واضح اشارہ ہے کہ تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے ۔پاکستان نے ماسکو میں تعینات اپنے سفیر کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ ماسکو کی انرجی وزارت کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کرنے کے مجاز ہوں گے، پاکستان نے اسٹیل مل کی دوبارہ بحالی کے لیے بھی روس سے کہا ہے، جس کی بنیاد روس نے رکھی تھی ۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی، دفاعی و سیکیورٹی تعاون بڑھانے، علاقائی سیکیورٹی، بالخصوص افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور علاقائی امن واستحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی، انھوں نے افغان مفاہمتی عمل کے لیے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو بھی سراہا۔
پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، پاکستان روس کے ساتھ فوجی تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے، پاکستان افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے، افغانستان میں دیر پا امن و ستحکام سے خطے کو فائدہ ہوگا۔آرمی چیف نے خطے کی اسٹرٹیجک صورتحال میں تبدیلی کا واضح اشارہ دیا ہے ۔دوسری جانب یہ حقیقت بھی واضح ہوتی نظر آرہی ہے کہ بھارت اب روس کو چھوڑ کر امریکی دائرہ اثر میں داخل ہو رہا ہے۔
ایسی حالت میں روس کے لیے بھارت کے بحری علاقے میں قدم جمانا لازم ہوجائے گا اور ایسا ہوا تو نئی دہلی کی پریشانی بڑھے گی۔ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور اشتراکِ عمل کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے ماسکو جو کچھ کر رہا ہے، اس سے اتنا تو واضح ہے کہ نئی دہلی میں پریشانی ہے۔
تزویری سطح پر رونما ہونے والی یہ تبدیلیاں روس اور بھارت کے تعلقات کو بھی نئی، حقیقت پسندانہ سوچ سے ہم کنار کرسکتی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بھارت کو امریکا سے تعلقات کا بھی جائزہ لیتے ہوئے وہ سب کچھ کرنا ہوگا جو روس کے تحفظات دور کرے۔پاکستان کا جنوبی ایشیا میں کردار اپنے دیرینہ دوست چین اور امریکا سے تعلقات کی بنیاد پر ہے۔
اب وہ روس سے بھی قربت اختیار کر رہا ہے۔ چین پاک راہداری منصوبے نے پاکستان کو ایک مضبوط معاشی،سفارتی اور تزویری بنیاد فراہم کی ہے۔ چین اور روس کی طرف غیر معمولی جھکاؤکے باعث پاک امریکا تعلقات کے شیشے میں بھی بال آرہا ہے۔ روس اگر چاہے تو پاکستان کو عسکری طور پر مضبوط کرکے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھ سکتا ہے۔
ماضی کے برعکس خطے میں پاکستان کی بدلتی خارجہ پالیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ہمسایہ ممالک اور بعید کے دوستوں سے تعلق زیادہ اہم اور ضروری ہے جس سے خطے میں حالات میں بہتری اور پاکستان کا کردار مزید نمایا ںاور اہمیت کا حامل ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستان اور روس کے تعلقات میں گرم جوشی خطے میں نمایاں تبدیلی لائے گی ، بلاشبہ مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں روس اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے ، اگر آنے والے دنوں میںتنازع کشمیر کا پرامن حل نکل آتا ہے تو یہ عمل جنوبی ایشیا میں قیام امن کی راہ ہموار کردے گا ۔ پاکستان امن کا داعی ہے یقینا روس پاکستان کا ساتھ دیتا رہے گا تاکہ یہ خطے امن وسکون کا گہوارہ اور دنیا کے لیے ترقی کا خوشحالی کا استعارہ بن سکے ۔