توانائی بحران سے نمٹنے میں ساڑھے 4 سال لگ سکتے ہیں مرتضی جتوئی
ایران گیس منصوبے پرکام بند نہیں ہوا، مختصر و طویل مدتی اقدامات کررہے ہیں،پہلی ترجیح کول پاورہے،وفاقی وزیرصنعت وپیدوار
گوادرسے چین تک موٹروے مکمل ہونے کے بعد اس کے ہر200 کلو میٹر پر اقتصادی زون بنایا جائے گا. فوٹو:فائل
وفاقی وزیرصنعت وپیدوار غلام مرتضیٰ خان جتوئی نے کہاہے کہ نئی انڈسٹریل اورآٹو پالیسی لائی جائے گی، توانائی کے بحران پرقابوپانے کیلیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، پاک ایران گیس پائپ لائن پرکام بند نہیں ہوا بلکہ دونوں اطراف اس پر کام جاری ہے۔
ایوان تجارت وصنعت ملتان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نئی صنعتیں لگانے کیلیے اب وفاقی سطح پرکسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، صرف چند صنعتیں یا نئی ٹیکنالوجی کی صنعت لگانے کے لیے صوبائی سطح پراجازت درکار ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی ترجیح توانائی بحران کاخاتمہ ہے جس کیلیے ہم مختصراور طویل مدتی اقدامات اٹھا رہے ہیں، ہماری ترجیح کول پاور اورپھر سولر اور ونڈ انرجی ہے، بدین میں ونڈ انرجی کا بہت بڑا پراجیکٹ بنارہے ہیں۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ 500 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے باوجود بھی مسئلہ مکمل ختم ہونے میں4 سے ساڑھے4 سال لے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ قطر سے ایل پی جی، ایل این جی لیں اور ایران پاکستان گیس لائن بن جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ نئی صنعتی پالیسی تیارہورہی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرسے رابطے میں ہیں، اسی طرح آٹوپالیسی بھی لارہے ہیں جوسب کے مفادمیں ہوگی۔
غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہاکہ گوادرسے چین تک موٹروے مکمل ہونے کے بعد اس کے ہر200کلومیٹر پر اقتصادی زون بنایا جائے گا، اسی طرح بن قاسم پربھی ہزار ایکڑ پرجبکہ سرگودھامیں بھی زون بنارہے ہیں،کوشش کرینگے کہ ملتان میں بھی اکنامک زون بنائیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جب تک دیہی علاقوں تک کاٹیج انڈسٹری نہیں بنے گی روزگار کے مواقع مہیا نہیں ہوں گے۔ ٹریکٹر پرسیلز ٹیکس کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ یہ فنانس سے متعلق معاملہ ہے تاہم وہ اسے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں سامنے لائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ہم اس حق میں ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارت ہو، تعلقات اچھے ہوں لیکن ہم پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کے مفادات کاتحفظ بھی کریں گے۔
قبل ازیں ایوان تجارت و صنعت کے صدر خواجہ عثمان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انڈسٹریل سیکٹر کے لیے کم از کم 5 سال پرمحیط پالیسی لائی جائے، جنوبی پنجاب میں انڈسٹریل اوراکنامک زون بنائے جائیں، بجلی اور گیس کی فراہمی میں انڈسٹری کو فوقیت، مارک اپ میں کمی کی جائے، ملتان میں قائم سمیڈا کادفترغیر فعال ہے اس کو فعال کیا جائے، ڈیولپمنٹ کے پراجیکٹس میں چیمبر کو بھی نمائندگی دی جائے اور کاروباری برادری کی کیپسٹی بلڈنگ کیلیے تربیتی کورسزکرائے جائیں۔ علاوہ ازیں این ایف سی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں شعبہ مکینکل اورسول انجینئرنگ کے دوبلاکس کا سنگ بنیادرکھنے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت اورخطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضی خان جتوئی نے کہا کہ دہشت گردی اورتوانائی بحران ہمیں ورثے میں ملا ہے، ملک کے اکثرادارے تباہ ہوچکے ہیں، موجودہ حکومت صحیح سمت میں جا رہی ہے، 3 ماہ میں صنعتی پیداوار میں 12فیصد اضافہ ہوا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ بھارت کوپسندیدہ ملک قراردینا دونوں ملک کے مفاد میں ہے، بھارت میں اشیا بہت سستی ہیں اس لیے پاکستانی عوام اسی طرح فائدہ اٹھاسکتے ہیں جس طرح چینی مصنوعات سے اٹھارہے ہیں تاہم حکومت پاکستانی کاروباری اور صنعتی سیکٹرز کے ساتھ ساتھ ملکی مفاد کو بھی مقدم رکھے گی۔ انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم تکنیکی مسئلہ ہے اس کیلیے تمام صوبوں میں مشاورت اور ہم آہنگی ہونی چاہیے تاہم حکومت بجلی بحران کوختم کرنے کو اولیت دے رہی ہے اور اس کے لیے بڑے کول پراجیکٹس لارہے ہیں، ابھی درآمدی کوئلہ استعمال ہو رہا ہے اگر پاکستانی کوئلہ استعمال کے قابل ہو تواس سے اور زیادہ سستی بجلی مہیا ہوسکتی ہے۔ ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ پاکستانی اسٹیل ملزکا یومیہ نقصان 7کروڑ روپے ہے، مجھے 31 اداروں کی نجکاری کاعلم ہے کیونکہ حکومت معیشت کا اب مزید خون بہتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔
ایوان تجارت وصنعت ملتان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نئی صنعتیں لگانے کیلیے اب وفاقی سطح پرکسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، صرف چند صنعتیں یا نئی ٹیکنالوجی کی صنعت لگانے کے لیے صوبائی سطح پراجازت درکار ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی ترجیح توانائی بحران کاخاتمہ ہے جس کیلیے ہم مختصراور طویل مدتی اقدامات اٹھا رہے ہیں، ہماری ترجیح کول پاور اورپھر سولر اور ونڈ انرجی ہے، بدین میں ونڈ انرجی کا بہت بڑا پراجیکٹ بنارہے ہیں۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ 500 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے باوجود بھی مسئلہ مکمل ختم ہونے میں4 سے ساڑھے4 سال لے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ قطر سے ایل پی جی، ایل این جی لیں اور ایران پاکستان گیس لائن بن جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ نئی صنعتی پالیسی تیارہورہی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرسے رابطے میں ہیں، اسی طرح آٹوپالیسی بھی لارہے ہیں جوسب کے مفادمیں ہوگی۔
غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہاکہ گوادرسے چین تک موٹروے مکمل ہونے کے بعد اس کے ہر200کلومیٹر پر اقتصادی زون بنایا جائے گا، اسی طرح بن قاسم پربھی ہزار ایکڑ پرجبکہ سرگودھامیں بھی زون بنارہے ہیں،کوشش کرینگے کہ ملتان میں بھی اکنامک زون بنائیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جب تک دیہی علاقوں تک کاٹیج انڈسٹری نہیں بنے گی روزگار کے مواقع مہیا نہیں ہوں گے۔ ٹریکٹر پرسیلز ٹیکس کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ یہ فنانس سے متعلق معاملہ ہے تاہم وہ اسے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں سامنے لائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ہم اس حق میں ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارت ہو، تعلقات اچھے ہوں لیکن ہم پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کے مفادات کاتحفظ بھی کریں گے۔
قبل ازیں ایوان تجارت و صنعت کے صدر خواجہ عثمان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انڈسٹریل سیکٹر کے لیے کم از کم 5 سال پرمحیط پالیسی لائی جائے، جنوبی پنجاب میں انڈسٹریل اوراکنامک زون بنائے جائیں، بجلی اور گیس کی فراہمی میں انڈسٹری کو فوقیت، مارک اپ میں کمی کی جائے، ملتان میں قائم سمیڈا کادفترغیر فعال ہے اس کو فعال کیا جائے، ڈیولپمنٹ کے پراجیکٹس میں چیمبر کو بھی نمائندگی دی جائے اور کاروباری برادری کی کیپسٹی بلڈنگ کیلیے تربیتی کورسزکرائے جائیں۔ علاوہ ازیں این ایف سی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں شعبہ مکینکل اورسول انجینئرنگ کے دوبلاکس کا سنگ بنیادرکھنے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت اورخطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضی خان جتوئی نے کہا کہ دہشت گردی اورتوانائی بحران ہمیں ورثے میں ملا ہے، ملک کے اکثرادارے تباہ ہوچکے ہیں، موجودہ حکومت صحیح سمت میں جا رہی ہے، 3 ماہ میں صنعتی پیداوار میں 12فیصد اضافہ ہوا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ بھارت کوپسندیدہ ملک قراردینا دونوں ملک کے مفاد میں ہے، بھارت میں اشیا بہت سستی ہیں اس لیے پاکستانی عوام اسی طرح فائدہ اٹھاسکتے ہیں جس طرح چینی مصنوعات سے اٹھارہے ہیں تاہم حکومت پاکستانی کاروباری اور صنعتی سیکٹرز کے ساتھ ساتھ ملکی مفاد کو بھی مقدم رکھے گی۔ انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم تکنیکی مسئلہ ہے اس کیلیے تمام صوبوں میں مشاورت اور ہم آہنگی ہونی چاہیے تاہم حکومت بجلی بحران کوختم کرنے کو اولیت دے رہی ہے اور اس کے لیے بڑے کول پراجیکٹس لارہے ہیں، ابھی درآمدی کوئلہ استعمال ہو رہا ہے اگر پاکستانی کوئلہ استعمال کے قابل ہو تواس سے اور زیادہ سستی بجلی مہیا ہوسکتی ہے۔ ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ پاکستانی اسٹیل ملزکا یومیہ نقصان 7کروڑ روپے ہے، مجھے 31 اداروں کی نجکاری کاعلم ہے کیونکہ حکومت معیشت کا اب مزید خون بہتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔