ریفری پر تنقید مانچسٹر یونائٹیڈ کے منیجر مشکل میں پڑ گئے
فٹبال ایسوسی ایشن نے الزامات پر جواب کے لئے ڈیوڈ موئز کو 15 جنوری تک مہلت دے دی۔
فٹبال ایسوسی ایشن نے الزامات پر جواب کیلیے 15 جنوری تک مہلت دے دی۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
فٹبال ایسوسی ایشن نے مانچسٹر یونائٹیڈ کے منیجر ڈیوڈ موئز کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ان پر یہ الزام منگل کو میچ کے بعد بیان کے نتیجے میں لگایا گیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مانچسٹر یونائٹیڈ کے لوگ ریفری کے خراب فیصلوں پر ہنسنے لگے ہیں۔
واضح رہے کہ ان کی ٹیم فرسٹ لیگ سیمی فائنل میں سنڈرلینڈ سے ایک کے مقابلے میں2گول سے ہار گئی تھی، موئز نے اس شکست کے بعد مزید کہا تھا کہ ہماری ٹیم کو مخالف ٹیم کے علاوہ ریفری کیخلاف بھی کھیلنا پڑا۔ وہ اس بیان کے بعد مشکل میں پڑ گئے، انھیں الزامات پر جواب کیلیے 15 جنوری تک کی مہلت دی گئی ہے۔فٹبال ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیاکہ ضابطہ اخلاق کی شق ایک 3 (1) کے تحت منیجر کا بیان میچ کرانے والے حکام کی دیانت داری پر سوالیہ نشان ہے،اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ میچ آفیشلز تعصبات کا شکار ہیں، یہ بیان کھیل کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔ لیگ کے پہلے مرحلے میں گذشتہ ایک ہفتے میں یہ یونائٹیڈ کی تیسری شکست ہے،اس سے قبل ایسا1992ء میں ہوا تھا۔
2014 کی شروعات میں پریمیئر لیگ کی چیمپئن ٹیم اپنے ہی گراؤنڈ پر ٹاٹنہم سے ایک کے مقابلے 2گول سے شکست کھا گئی تھی،اولڈ ٹریفورڈ کے میدان پر ہی سوانسی کے ہاتھوں شکست کے بعد ایف اے کپ سے خارج ہو گئی۔ ایورٹن کے سابق منیجر یونائٹیڈ کی حالیہ شکست کے دوران ایک فیصلے سے غضبناک ہوگئے، انھوں نے اس فیصلے کو 'اسکینڈل' قرار دیا،ان کے مطابق کھیل کے آخری مراحل میں یونائٹیڈ کو پنالٹی نہیں دی گئی۔ موئز نے گذشتہ سیزن کے خاتمے پر سر ایلکس فرگوسن سے یونائٹیڈ کی ذمہ داری لی تھی، انھوں نے کہا کہ بُرے وقت میں کلب کی رہنمائی کا انھیں حق حاصل ہے، ہم پہلے بھی مشکل حالات سے نکل چکے ہیں، میں تجربہ کار ہوں اور مجھے یہ لگتا ہے کہ حالات بدلنے والے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اسی ہفتے لیورپول کے منیجر برینڈن روجرز ریفری لی میسن کے بارے میںکمنٹ دے کر8 ہزار پاؤنڈ جرمانے کی زد میں آ گئے تھے۔
واضح رہے کہ ان کی ٹیم فرسٹ لیگ سیمی فائنل میں سنڈرلینڈ سے ایک کے مقابلے میں2گول سے ہار گئی تھی، موئز نے اس شکست کے بعد مزید کہا تھا کہ ہماری ٹیم کو مخالف ٹیم کے علاوہ ریفری کیخلاف بھی کھیلنا پڑا۔ وہ اس بیان کے بعد مشکل میں پڑ گئے، انھیں الزامات پر جواب کیلیے 15 جنوری تک کی مہلت دی گئی ہے۔فٹبال ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیاکہ ضابطہ اخلاق کی شق ایک 3 (1) کے تحت منیجر کا بیان میچ کرانے والے حکام کی دیانت داری پر سوالیہ نشان ہے،اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ میچ آفیشلز تعصبات کا شکار ہیں، یہ بیان کھیل کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔ لیگ کے پہلے مرحلے میں گذشتہ ایک ہفتے میں یہ یونائٹیڈ کی تیسری شکست ہے،اس سے قبل ایسا1992ء میں ہوا تھا۔
2014 کی شروعات میں پریمیئر لیگ کی چیمپئن ٹیم اپنے ہی گراؤنڈ پر ٹاٹنہم سے ایک کے مقابلے 2گول سے شکست کھا گئی تھی،اولڈ ٹریفورڈ کے میدان پر ہی سوانسی کے ہاتھوں شکست کے بعد ایف اے کپ سے خارج ہو گئی۔ ایورٹن کے سابق منیجر یونائٹیڈ کی حالیہ شکست کے دوران ایک فیصلے سے غضبناک ہوگئے، انھوں نے اس فیصلے کو 'اسکینڈل' قرار دیا،ان کے مطابق کھیل کے آخری مراحل میں یونائٹیڈ کو پنالٹی نہیں دی گئی۔ موئز نے گذشتہ سیزن کے خاتمے پر سر ایلکس فرگوسن سے یونائٹیڈ کی ذمہ داری لی تھی، انھوں نے کہا کہ بُرے وقت میں کلب کی رہنمائی کا انھیں حق حاصل ہے، ہم پہلے بھی مشکل حالات سے نکل چکے ہیں، میں تجربہ کار ہوں اور مجھے یہ لگتا ہے کہ حالات بدلنے والے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اسی ہفتے لیورپول کے منیجر برینڈن روجرز ریفری لی میسن کے بارے میںکمنٹ دے کر8 ہزار پاؤنڈ جرمانے کی زد میں آ گئے تھے۔