چوہدری اسلم کے بعد سینئر پولیس افسر خرم وارث دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پرہیں

خرم وارث نے فول پروف سیکیورٹی نہ ملنے پر نہ صرف اپنی سرگرمیاں محدودکردی ہیں

خرم وارث کو سی آئی ڈی آپریشن میں تعینات کیا گیا ہے تاہم انھیں وہ سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی فوٹو: فائل

ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کوسر راہ بم دھماکے کے ذریعے دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے کے بعدکراچی پولیس میں تعینات ایسے سینئرپولیس افسران جنھوں نے کالعدم تنظیموں کے کارندوں کونہ صرف گرفتارکیابلکہ کئی بم دھماکوں اوردہشت گردی کی وارداتوں کی تفتیش کوپایۂ تکمیل تک پہنچایا فل پروف سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث تذبذب کا شکارہیں۔


دہشت گردوں کی جانب سے چوہدری اسلم کوسر راہ جس منصوبہ بندی سے نشانہ بنایاگیا ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے ان سینئرپولیس افسران کوتحفظ دینے اور ان کی سیکیورٹی کا کوئی فول پروف بندوبست تاحال نہیں کیا گیاجس کی وجہ سے کالعدم تنظیموں اوردہشت گردوں کیخلاف دلیرانہ اورآزادانہ کارروائیاں کرنے والے پولیس کے سینئرافسران نہ صرف ذہنی دباؤ کاشکار ہیں بلکہ وہ جان بچانے کیلیے اپنے طورپرجوبھی حفاظتی اقدامات کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔عدالتی حکم پرتنزلی پانے والے کراچی پولیس کے افسران میں شامل سابق ایس پی نارتھ ناظم آباد خرم وارث نے فول پروف سیکیورٹی نہ ملنے پر نہ صرف اپنی سرگرمیاں محدودکردی ہیں بلکہ تنزلی کے بعد انھیں پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے نظرانداز بھی کیا جاتارہاتاہم چند روز قبل پولیس کے سینئر پولیس خرم وارث کو سی آئی ڈی آپریشن میں تعینات کیا گیا ہے تاہم انھیں وہ سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی جس طرح کے انھوں نے اپنی سابقہ تعیناتی کے دوران دہشت گردوں کے خلاف کام کیے ہیں ، کراچی پولیس کے سینئر افسر خرم وارث بھی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پرہیں اور انھیں بھی کالعدم تنظیموں کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں جس سے وہ اپنے اعلیٰ افسران کوبھی آگاہ کرتے رہے ،سینئر پولیس افسرخرم وارث نے روزنامہ ایکسپریس سے رابطہ کرنے پرکہاکہ چوہدری اسلم کی شہادت ایک المیہ ہے،وہ ایک بہادراوردلیر پولیس افسر تھے جو دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کربات کرتے تھے ۔

ان کی شہادت سے ہم ایک انتہائی جرات مند اورنڈر پولیس افسر سے محروم ہوگئے،چند سال قبل چوہدری اسلم کے گھرپرکیے جانے والے خودکش حملے کے بعدنہ صرف انھیں بلکہ فاروق اعوان،راجاعمر خطاب اور فیاض خان کوبھی دہشت گردوں کی جانب سے دھمکیاں ملی تھیں جس کی وجہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں تھیں،خرم وارث نے بتایا کہ جب وہ ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی تعینات رہے تودہشت گردوں کی جانب سے سی آئی ڈی سینٹرکوبھی اڑانے کی دھمکی دی گئی جس کے بعد حفاظتی اقدامات کو سخت کر دیا گیا تھا،خرم وارث کی کراچی میں پولیس کے مختلف تفتیشی یونٹس میں تعیناتی کے دوران اپنی پولیس پارٹی کے ہمراہ اہم دہشت گردوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جس میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس،اکرم لاہوری ، علامہ حسن ترابی خودکش حملہ ، شیرٹن بم دھماکے میں ملوث آصف ظہیر گروپ اور آصف رمزی گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد شامل ہیں جبکہ ڈاکٹرزکی سیریل ٹارگٹ کلنگ کے ماسٹر مائینڈ دلدارعرف دلاور کو گرفتار کیا جس کی گرفتاری پر 10 لاکھ روپے انعام تھا،انھوں نے آصف رمزی گروپ سے تعلق رکھنے والے راشداندھا کو بھی گرفتارکیا جس کے سر کی قیمت 5 لاکھ روپے تھی جبکہ نسیم فرعون اورآصف دنبہ کو بھی گرفتار کیا جو کئی سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔خرم وارث نے بتایاکہ انھوں نے اہم گرفتاریوں پرترقی حاصل کی تھی جس میں ان کی جان کوبھی شدیدخطرات لاحق ہیں تاہم ہمارے حوصلے آج بھی بلندہیں،چوہدری اسلم کے دلیرانہ مشن کوجاری رکھنے کاعزم کیے ہوئے ہیں۔
Load Next Story