لیاری ایکسپریس وے کا حفاظتی سقم دہشت گردوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا
چوہدری اسلم پر حملے میں استعمال کی گئی گاڑی لیاری ایکسپریس وے پر آنے سےقبل ٹول ٹیکس دےکر ہی پہنچی تھی، ابتدائی تحقیق
لیاری ایکسپریس وے سے گزرنے والی گاڑیوں کا ریکارڈ محفوظ نہیں کیا جاتا، ، ابتدائی تفتیش فوٹو:فائل
MULTAN:
لیاری ایکسپریس وے عیسیٰ نگری انٹر چینج پر ٹول ٹیکس وصول کرنے والے ٹھیکیدارکے پاس وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کا کوئی ریکارڈ موجود ہی نہیں کیونکہ ٹھیکیدار کا عملہ ٹول ٹیکس وصول کر کے صرف رسید دیتا ہے وہاں نہ توکوئی کیمرے نصب ہیں اور نہ ہی گاڑیوں کے نمبر نوٹ کیے جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے موٹر وے پولیس کا بھی کام صرف لیاری ایکسپریس وے پرگشت کرنا اور دوران سفر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کا چالان کرنا ہے جبکہ چالان کی رقم بھی این ایچ اے کا ٹھیکیدار وصول کرتا ہے اسی طرح لیاری ایکسپریس وے سے گزرنے والی گاڑیوں کا ریکارڈ محفوظ نہیں کیا جاتا، جمعرات کو ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے کانوائے کو بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کے بعد پولیس کے تحقیقاتی یونٹس اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حملہ خودکش تھا جس میں پک اپ یا ہائی روف استعمال کی گئی اور یقیناً یہ گاڑی لیاری ایکسپریس وے پر آنے سے قبل ٹول ٹیکس دے کر ہی پہنچی تھی۔
جس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذکورہ گاڑی لیاری ایکسپریس وے عیسیٰ نگری انٹر چینج سے گئی ہو، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرٹول ٹیکس وصول کرنے والے ٹھیکیدارکی جانب سے گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ریکارڈ اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوتے تو خودکش دھماکے میں استعمال کی جانے والی گاڑی کا سراغ لگانے میں نہ صرف مدد ملتی بلکہ اس ریکارڈ سے تحقیقاتی ٹیم کوکئی اہم کامیابی بھی حاصل ہوجاتیں تاہم اس قسم کے کوئی اقدامات نہ ہونے کا دہشت گردوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اورکراچی پولیس کے ایک دلیر،بہادر اور نڈر پولیس افسر چوہدری اسلم کوبم دھماکے میں دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا۔
لیاری ایکسپریس وے عیسیٰ نگری انٹر چینج پر ٹول ٹیکس وصول کرنے والے ٹھیکیدارکے پاس وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کا کوئی ریکارڈ موجود ہی نہیں کیونکہ ٹھیکیدار کا عملہ ٹول ٹیکس وصول کر کے صرف رسید دیتا ہے وہاں نہ توکوئی کیمرے نصب ہیں اور نہ ہی گاڑیوں کے نمبر نوٹ کیے جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے موٹر وے پولیس کا بھی کام صرف لیاری ایکسپریس وے پرگشت کرنا اور دوران سفر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کا چالان کرنا ہے جبکہ چالان کی رقم بھی این ایچ اے کا ٹھیکیدار وصول کرتا ہے اسی طرح لیاری ایکسپریس وے سے گزرنے والی گاڑیوں کا ریکارڈ محفوظ نہیں کیا جاتا، جمعرات کو ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے کانوائے کو بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کے بعد پولیس کے تحقیقاتی یونٹس اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حملہ خودکش تھا جس میں پک اپ یا ہائی روف استعمال کی گئی اور یقیناً یہ گاڑی لیاری ایکسپریس وے پر آنے سے قبل ٹول ٹیکس دے کر ہی پہنچی تھی۔
جس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذکورہ گاڑی لیاری ایکسپریس وے عیسیٰ نگری انٹر چینج سے گئی ہو، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرٹول ٹیکس وصول کرنے والے ٹھیکیدارکی جانب سے گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ریکارڈ اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوتے تو خودکش دھماکے میں استعمال کی جانے والی گاڑی کا سراغ لگانے میں نہ صرف مدد ملتی بلکہ اس ریکارڈ سے تحقیقاتی ٹیم کوکئی اہم کامیابی بھی حاصل ہوجاتیں تاہم اس قسم کے کوئی اقدامات نہ ہونے کا دہشت گردوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اورکراچی پولیس کے ایک دلیر،بہادر اور نڈر پولیس افسر چوہدری اسلم کوبم دھماکے میں دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا۔