امریکی میڈیا کا ہنگو کے اعتزاز حسن کو خراج عقیدت
ہر شخص کو اعتزاز پر فخر ہے، اعلیٰ اعزازات سے نوازا جائے، کرسچن سائنس مانیٹر
ملک میںاستحکام بحال کرنے کی کوششوں کے باوجودحکومت فرقہ وارانہ تشددروکنے میںکتنی بے بس ہے۔ فوٹو: فائل
امریکی میڈیانے ہنگومیں خودکش حملہ آورکو روکنے والے شہید اعتزازحسن کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے شخص کواعتزاز پرفخر ہے۔
شجاعت کوپاکستان کے اعلیٰ اعزازات سے نوازاجائے۔ امریکی اخبارکرسچن سائنس مانیٹرنے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستانی عوام کوفرقہ وارانہ فسادات اوراس کوروکنے میں حکومت کی بے عملی پرغصہ ہے۔ زندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس کی شجاعت کے لیے پاکستان کے اعلیٰ اعزازات سے نوازاجائے۔ بعض نے اس کاموازنہ ملالہ یوسف زئی سے کیاہے جسے اسکول جانے کی پاداش میں طالبان نے تقریباً مارہی دیاتھا۔
نیویارک ٹائمزکے مطابق بمبارنے جس اسکول کونشانہ بنانے کی کوشش کی تھی اس میں کم ازکم 1000لڑکے پڑھتے ہیں اور جو ایسے علاقے میںواقع ہے جہاں فرقہ وارانہ تشددعام ہے۔ علاقہ نہ صرف طالبان جنگجوؤں بلکہ لشکرجھنگوی کے حملوں کا اکثرنشانہ بنتارہا ہے۔ واقعے سے یہ حقیقت اجاگرہوتی ہے کہ ملک میںاستحکام بحال کرنے کی کوششوں کے باوجودحکومت فرقہ وارانہ تشددروکنے میںکتنی بے بس ہے۔
شجاعت کوپاکستان کے اعلیٰ اعزازات سے نوازاجائے۔ امریکی اخبارکرسچن سائنس مانیٹرنے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستانی عوام کوفرقہ وارانہ فسادات اوراس کوروکنے میں حکومت کی بے عملی پرغصہ ہے۔ زندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس کی شجاعت کے لیے پاکستان کے اعلیٰ اعزازات سے نوازاجائے۔ بعض نے اس کاموازنہ ملالہ یوسف زئی سے کیاہے جسے اسکول جانے کی پاداش میں طالبان نے تقریباً مارہی دیاتھا۔
نیویارک ٹائمزکے مطابق بمبارنے جس اسکول کونشانہ بنانے کی کوشش کی تھی اس میں کم ازکم 1000لڑکے پڑھتے ہیں اور جو ایسے علاقے میںواقع ہے جہاں فرقہ وارانہ تشددعام ہے۔ علاقہ نہ صرف طالبان جنگجوؤں بلکہ لشکرجھنگوی کے حملوں کا اکثرنشانہ بنتارہا ہے۔ واقعے سے یہ حقیقت اجاگرہوتی ہے کہ ملک میںاستحکام بحال کرنے کی کوششوں کے باوجودحکومت فرقہ وارانہ تشددروکنے میںکتنی بے بس ہے۔