تعلیمی بورڈز میں من پسند افراد کی تعیناتی کے منصوبے کا پول کھل گیا

ٹیسٹ پیپرکسی معتبر ادارے کے بجائینامعلوم افرادسے تیارکرایا گیا.

تحریری ٹیسٹ میںمن پسند افسران کوکامیاب قراردے کرانٹرویوزبھی کرلیے گئے،ٹیسٹ پیپرکسی معتبر ادارے کے بجائے نامعلوم افرادسے تیارکرایا گیا. .فوٹو فائل

سندھ کے تعلیمی بورڈز اورجامعات کے سیکریٹری کی جانب سے تعلیمی بورڈز میں من پسندافراد کی تعیناتی کے منصوبے کا پول کھل گیا اور سرکاری تعلیمی بورڈز میں بھرتیوں کے بجائے من پسند سرکاری افسران کو سپریم کورٹ کے احکام کے برعکس ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنے کا منصوبہ سامنے آیاہے جس کے لیے عام امیدواروں کو بھرتیوں کے عمل سے باہرکردیا گیا ہے۔

سرکاری افسران کے تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو مکمل کرلیے گئے ، تحریری ٹیسٹ کے لیے ٹیسٹ پیپر بھی کسی معتبر ادارے کے بجائے نامعلوم افراد سے تیارکرایا گیا، ٹیسٹ میں من پسند سرکاری افسران کو کامیاب قراردے کر ان کے انٹرویوز بھی کرلیے گئے ہیں، اس بات کا انکشاف اس وقت ہواجب سیکریٹری برائے تعلیمی بورڈزنے بدحواسی میں بورڈز میں خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے لیے درخواست دینے والے سرکاری اداروں سے غیر وابستہ تقریباً تین درجن امیدواروں کوبھرتیوں کے عمل سے باہرکردیا ایک روزقبل سندھ کے تعلیمی بورڈ میں انسپکٹرآف کالجز اورآڈٹ افسرکی اسامیوں پر تقرری کے لیے سرکاری اداروں سے غیر وابستہ امیدواروں کو تحریری ٹیسٹ میں شرکت سے روک دیا گیا۔


یہ تحریری ٹیسٹ ڈائویونیورسٹی آف میڈیکل سائنس میں ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی، اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی اور ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ سکھر میں خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے سلسلے میں منعقد ہونا تھاجس کیلیے 63 امیدوار جب ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پہنچے تو پہلے ان کا ٹیسٹ لینے کے لیے وہاں سیکریٹری بورڈزیا کوئی دوسرا ذمے دارافسر یا عملہ موجود ہی نہیں تھا متعلقہ افراد ایک گھنٹے کی تاخیر سے وہاں پہنچے تووہاں موجود امیدواروں کے درمیان یہ اعلان کیا گیاہے ، ٹیسٹ میں صرف ایسے امیدوارشریک ہوسکتے ہیں جو پہلے سے کسی سرکاری ادارے میں ملازم یا افسر ہوں کیونکہ حکومت نے بورڈ کی ان اسامیوں پر تقرریوں کے بجائے پہلے سے کام کرنے والے سرکاری افسران کوڈیپوٹیشن پر بھجوانے کا فیصلہ کیاہے لہذا ایسے امیدوار جو کسی سرکاری ادارے میں ملازم نہیں ہیں وہ واپس چلے جائیں حکام کی جانب سے اس اعلان کے ساتھ ہی صورتحال خراب ہوگئی اور تقریباً50 فیصد امیدوارجن کا تعلق کسی سرکاری ادارے سے نہیں تھا۔



انھوں نے اس فیصلے کوقبول کرنے سے انکارکردیاجس سے صورتحال بدنظمی کا شکار ہوگئی ، امیدواروں کا کہنا تھا کہ جب من پسندسرکاری افسران کوہی ان اسامیوں پرتعینات کرنا تھا تو اشتہارمیں یہ بات واضح کیوں نہیں کی گئی اور اشتہارکوعام افرادکے لیے کیوں شائع کیا گیاجس کاجواب وہاں موجود کسی ذمے دارکے پاس نہیں تھا بعدازاں جب صورتحال قابو میں آئی تو33سرکاری افسران کا60نمبروں پر مشتمل تحریری ٹیسٹ شروع ہوا ایک گھنٹے کے تحریری ٹیسٹ کے بعد بظاہر ٹیسٹ پاس کرنیوالے سرکاری افسران کی ایک فہرست چیئرمین بورڈزپرمشتمل انٹرویو
Load Next Story