مافیاز کا کیا ہوگا
جب تک سماج میں غربت، عدم مساوات اور بیروزگاری کی کشمکش رہیگی، شفاف اور کرپشن، چھینا جھپٹی سے پاک سماج جنم نہیں لے گا۔
جب تک سماج میں غربت، عدم مساوات اور بیروزگاری کی کشمکش رہیگی، شفاف اور کرپشن، چھینا جھپٹی سے پاک سماج جنم نہیں لے گا۔ فوٹو: فائل
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طاقتور لوگ قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتے، تمام شعبوں میں مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں، شوگر مافیا مہنگی چینی فروخت کرتا ہے اور ٹیکس نہیں دیتا، کمزور اور طاقتور کے لیے قانون ایک ہونا چاہیے، یہ بات انھوں نے نوشہرہ میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کے تحت جلوزئی ہاؤسنگ اسکیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیر اعظم نے شوگر مافیا کے حوالے سے مسئلہ بیان کیا لیکن اپنے متن، فکر، فلسفہ اور ملکی سماجی صورت حال اور مائنڈ سیٹ کے تناظر میں بڑی گہری اور معنی خیز بات کہی ہے۔ یوں تو اس بات پر آج ہر ذی شعور ہم وطن، سیاسی مورخ اور دانشور اتفاق کرتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملکی سیاسی و سماجی نظام کی تعمیر و تطہیر میں اساسی اقدام عوام کے مائنڈ سیٹ میں تبدیلی لانے کا تھا، بات خشت اول کی تھی، بابائے قوم نے لائحہ عمل کی بنیاد رکھ دی تھی۔
آداب حکمرانی بھی سمجھائے، ریاستی ترتیب کے جمہوری اصولوں پر بھی اپنی تقاریر اور خطابوں میں روشنی ڈالی تھی مگر آمریت کے پہلے جھٹکے میں ملک دشت سیاست میں جو بھٹکا تو اسے آج تک سسٹم میں چھپے ہوئے اس مائنڈ سیٹ نے چین سے رہنے نہیں دیا۔
حکومتوں نے ملک کے تہذیبی، سیاسی، معاشی اور جمہوری سفر میں معنویت، پارلیمانی حسن اور انتظامی شفافیت کے بنیادی اہداف کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، باہمی رسہ کشی، محلاتی سازشیں، سیاسی اختلافات، عہدوں کی لالچ اور مفادات کی جنگ نے ملکی سمت سازی کے سنہرے خواب چکنا چور کر دیے، نتیجہ وہی نکلا جس کا ذکر وزیر اعظم نے اپنی حالیہ تقریر میں کیا ہے، لیکن یہ بھی احساس زیاں اور ملکی صورت حال کی طرف ایک ناگزیر اشارہ ہے، انھوں نے کہا جو معاشرہ اپنے کمزور اور غریب طبقے کا خیال نہیں رکھتا وہ ترقی نہیں کر سکتا۔ مدینہ کی ریاست میں کمزور طبقے، غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کے لیے معاشرے میں احساس پیدا کیا گیا۔
اس معاشرے کی بنیاد کا دوسرا پہلو قانون کی بالا دستی تھا۔ قانون کی بالا دستی کا مطلب بار بار سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں جو پاکستان میں لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت ور کو بھی قانون کا پابند بنایا جائے۔ ہمارے ملک میں شوگر مافیا ہے جو لوگوں کو مہنگی چینی فروخت کرتا ہے اور قیمتیں بڑھا کر غربت میں اضافہ کرتا ہے لیکن یہ ٹیکس نہیں دیتا، جب ان کے خلاف کارروائی کی جائے تو وہ بھی اپنے آپ کو خاص لوگ سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمارے ملک میں طاقتور قانون کا پابند نہیں بننا چاہتا ۔
عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ غریب، مزدور، چھوٹے دکانداروں اور چھابڑی والے بھی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے اپنے گھر ہوں۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریبوں اور کمزور طبقے کے لیے ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
حکومت بلاشبہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے منصوبہ بندیوں میں مصروف ہے لیکن جب کبھی ملکی نظام میں مشکلات اور مصائب کے حوالے آتے ہیں تو اکثر وزیر اعظم ان معاملات کی جانب آ جاتے ہیں جو ملکی نظام میں بنیادی پتھر شمار ہوتے ہیں، یہ تلخ حقیقت ہے کہ سسٹم کی خرابی موجودہ حکومت کی آمد کے ساتھ وارد نہیں ہوئی، سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب نظام کے تاریخی تسلسل، بیوروکریسی کی طاقت اور جوابدہی سے بے نیاز حکمرانی کے باعث ہر کام ایڈہاک ازم کی نذر ہوتا گیا، ملک میں تعلیم کے شعبے کام تو کرتے رہے علم بھی بڑھتا رہا لیکن تہذیبی اقدار پر مبنی جمہوری نظام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔
چنگاری سلگتی رہی، حکومت کے لیے سیاسی منظرنامہ کی تفہیم ناگزیر اس لیے ہے کہ ملکی سیاست کو جس طرح جمہوری خطوط پر آگے جانا چاہیے تھا، اسے وہ رہنمائی نہیں ملی، حکومتیں انتظامی طور پر ایک نظریہ، پالیسی، چارٹر اور نصب العین کے مطابق ترقی کرتی ہیں، لیکن ہمارے سماج، نظام تعلیم، صحت، پارلیمان اور تجارت کے شعبوں میں افراط و تفریط، میرٹ کی بے توقیری اور بالادست طبقات کی سسٹم میں دخل در معقولات نے عوامی حکومت اور جمہوریت کی شفافیت کو ابھرنے نہیں دیا۔
یہی لمحہ تھا کہ بر صغیر کی سیاست کو اپنی سمت کی درستگی کا فیصلہ کر لینا چاہیے تھا، ٹوئن ٹاور پر جب طیارے ٹکرائے تو اس سے کافی پہلے ہی پاکستان دہشت گردی کے ہاتھوں مصائب کا شکار تھا، آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے، مگر منظر نامہ کا تناظر قدرے تبدیل ہوا ہے۔
اب بات پھر سے مافیاؤں کی دیدہ دلیری، بے لگامی اور رعونت پر آتی ہے، ضرورت اس وقت اس پیش رفت کی ہے کہ طرز حکمرانی جمہوری نظام کی آفاقیت کو مد نظر رکھے، عوام نے متعدد حکمرانوں کے دلفریب وعدے، دلنشیں تقاریر بہت سنیں، آج بھی کورونا، تعلیم، روزگار اور مہنگائی پر حکمراں الفاظ کے دریا بہاتے ہیں، مگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، کورونا کی ''دہشت انگیز لہر'' کی گونج شہریوں کے اعصاب جھنجھوڑ رہی ہے، وزیر منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ عوام ایس او پیز کی پابندی نہیں کر رہے، حالات خراب ہیں۔
احتیاط نہیں کی تو بڑے شہر بھی لاک ڈاؤن کی زد میں آ سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ عوام کیا کریں، کہاں جائیں، انھیںتو روزگار اور مہنگائی سے نجات کے امکانات کے بجائے سخت کارروائی کے آرڈر ملتے ہیں، یہی وہ معاملات ہیں جو عوام کو حکومتی پالیسیوں سے بے اعتباری کی دلدل میں دھکیلتے ہیں، کورونا کے سدباب کے لیے سندھ اور وفاق کے مابین تکرار اور ضد جاری ہے، کوئی ہم آہنگی نہیں، کئی مسائل محض گروہی، سیاسی اور پالیسی ٹکراؤ کے نتیجہ میں حل نہیں ہوتے حالانکہ ارباب اختیار کو قومی انداز فکر کی تعمیر اور فروغ کی جانب بھی سوچنا چاہیے کہ سیاسی عمل یا جمہوری سفر آج بند گلی میں کیوں ہے؟ کیا یہ بھی اسی مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ خود کو قانون سے بالاتر اور ''خاص'' سمجھتے ہیں۔
حکومت کے تھنک ٹینکس پر مامور افراد کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ قانون کی حکمرانی کو چیلنج کیا جاتا ہے، عوام پوچھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں، لیکن جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ارباب اختیار رعونت اور قانون شکن طبقات کی نشاندہی پر کارروائی کے ذریعے جواب دیں، شوگر مافیا ہو یا گندم مافیا ہو یا دوائیوں کی قیمتوں کو آسمان پر لے جانے والے کارٹیل، ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، یہ عناصر آج بھی قانون کی پہنچ سے دور ہیں، دوسری طرف پارلیمانی ایوانوں میں جو کچھ ہورہا ہے۔
اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جمہوری مکالمہ اور مدلل گفتگو کی روایت کہاں ہے یا دم توڑ رہی ہے،ضرورت اب ایک ایسے کلچر اور سماجی رویے کو سسٹم سے جوڑنے کی ہے جس میں حکومت پورے نظام اقتدار کو کھنگال لے، حزب اختلاف کو جمہوری گاڑی کا دوسرا پہیہ تسلیم کرے، حکومتی ارکان مثال بنیں، خالی خولی نصیحت سے کام نہ چلائیں، حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت تبدیلی کے نعرے پر اقتدار میں آئی ہے۔
تبدیلی کا ایک گھن گھرج پر مبنی کنٹینر کلچر عوام کے ذہنوں میں تاحال محفوظ ہے، لوگ نعروں یا دعوؤں سے نہیں بہلتے، وہ کچھ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، اگر کوئی ''خاص'' بنا ہوا ہے تو حکمراں طبقات کی اور عوام کی زندگی میں مماثلت یا تفاوت اور دوری کی حقیقت بھی عوام کو بتائی جائے، کیا عوام اور حکمران ایک جیسی زندگی کی نمایندگی کرتے ہیں، کیا غریب وہی کھانا کھاتا ہے جو حکمران کھاتے ہیں، ظاہر ہے حقیقت عوام جانتے ہیں۔
عوام اور حکمران کے بیچ ایک چاندی کی دیوار ہے، اور جب تک سماج میں غربت، عدم مساوات اور بیروزگاری کی کشمکش رہیگی، شفاف اور کرپشن، چھینا جھپٹی سے پاک سماج جنم نہیں لیگا، وقت کی للکار ہے کہ حکمراں اہل دانش سے ان کے افکار و تجربات سے سیکھیں، تجزیہ کار اہل حکومت کے وژن پر سوال اٹھاتے ہیں، ماہرین اقتصادیات و سیاست کا کہنا ہے کہ عوام حکومت کے وژن اور پالیسیوں میں تبدیلیوں کے سیلابی دھارے سے پریشان ہیں اور پوچھتے ہیں کہ حکومت اپنے نعرے پر قائم بھی ہے یا اسے حالات نے pic and choose پر مجبور کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے شوگر مافیا کے حوالے سے مسئلہ بیان کیا لیکن اپنے متن، فکر، فلسفہ اور ملکی سماجی صورت حال اور مائنڈ سیٹ کے تناظر میں بڑی گہری اور معنی خیز بات کہی ہے۔ یوں تو اس بات پر آج ہر ذی شعور ہم وطن، سیاسی مورخ اور دانشور اتفاق کرتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملکی سیاسی و سماجی نظام کی تعمیر و تطہیر میں اساسی اقدام عوام کے مائنڈ سیٹ میں تبدیلی لانے کا تھا، بات خشت اول کی تھی، بابائے قوم نے لائحہ عمل کی بنیاد رکھ دی تھی۔
آداب حکمرانی بھی سمجھائے، ریاستی ترتیب کے جمہوری اصولوں پر بھی اپنی تقاریر اور خطابوں میں روشنی ڈالی تھی مگر آمریت کے پہلے جھٹکے میں ملک دشت سیاست میں جو بھٹکا تو اسے آج تک سسٹم میں چھپے ہوئے اس مائنڈ سیٹ نے چین سے رہنے نہیں دیا۔
حکومتوں نے ملک کے تہذیبی، سیاسی، معاشی اور جمہوری سفر میں معنویت، پارلیمانی حسن اور انتظامی شفافیت کے بنیادی اہداف کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، باہمی رسہ کشی، محلاتی سازشیں، سیاسی اختلافات، عہدوں کی لالچ اور مفادات کی جنگ نے ملکی سمت سازی کے سنہرے خواب چکنا چور کر دیے، نتیجہ وہی نکلا جس کا ذکر وزیر اعظم نے اپنی حالیہ تقریر میں کیا ہے، لیکن یہ بھی احساس زیاں اور ملکی صورت حال کی طرف ایک ناگزیر اشارہ ہے، انھوں نے کہا جو معاشرہ اپنے کمزور اور غریب طبقے کا خیال نہیں رکھتا وہ ترقی نہیں کر سکتا۔ مدینہ کی ریاست میں کمزور طبقے، غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کے لیے معاشرے میں احساس پیدا کیا گیا۔
اس معاشرے کی بنیاد کا دوسرا پہلو قانون کی بالا دستی تھا۔ قانون کی بالا دستی کا مطلب بار بار سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں جو پاکستان میں لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت ور کو بھی قانون کا پابند بنایا جائے۔ ہمارے ملک میں شوگر مافیا ہے جو لوگوں کو مہنگی چینی فروخت کرتا ہے اور قیمتیں بڑھا کر غربت میں اضافہ کرتا ہے لیکن یہ ٹیکس نہیں دیتا، جب ان کے خلاف کارروائی کی جائے تو وہ بھی اپنے آپ کو خاص لوگ سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمارے ملک میں طاقتور قانون کا پابند نہیں بننا چاہتا ۔
عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ غریب، مزدور، چھوٹے دکانداروں اور چھابڑی والے بھی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے اپنے گھر ہوں۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریبوں اور کمزور طبقے کے لیے ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
حکومت بلاشبہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے منصوبہ بندیوں میں مصروف ہے لیکن جب کبھی ملکی نظام میں مشکلات اور مصائب کے حوالے آتے ہیں تو اکثر وزیر اعظم ان معاملات کی جانب آ جاتے ہیں جو ملکی نظام میں بنیادی پتھر شمار ہوتے ہیں، یہ تلخ حقیقت ہے کہ سسٹم کی خرابی موجودہ حکومت کی آمد کے ساتھ وارد نہیں ہوئی، سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب نظام کے تاریخی تسلسل، بیوروکریسی کی طاقت اور جوابدہی سے بے نیاز حکمرانی کے باعث ہر کام ایڈہاک ازم کی نذر ہوتا گیا، ملک میں تعلیم کے شعبے کام تو کرتے رہے علم بھی بڑھتا رہا لیکن تہذیبی اقدار پر مبنی جمہوری نظام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔
چنگاری سلگتی رہی، حکومت کے لیے سیاسی منظرنامہ کی تفہیم ناگزیر اس لیے ہے کہ ملکی سیاست کو جس طرح جمہوری خطوط پر آگے جانا چاہیے تھا، اسے وہ رہنمائی نہیں ملی، حکومتیں انتظامی طور پر ایک نظریہ، پالیسی، چارٹر اور نصب العین کے مطابق ترقی کرتی ہیں، لیکن ہمارے سماج، نظام تعلیم، صحت، پارلیمان اور تجارت کے شعبوں میں افراط و تفریط، میرٹ کی بے توقیری اور بالادست طبقات کی سسٹم میں دخل در معقولات نے عوامی حکومت اور جمہوریت کی شفافیت کو ابھرنے نہیں دیا۔
یہی لمحہ تھا کہ بر صغیر کی سیاست کو اپنی سمت کی درستگی کا فیصلہ کر لینا چاہیے تھا، ٹوئن ٹاور پر جب طیارے ٹکرائے تو اس سے کافی پہلے ہی پاکستان دہشت گردی کے ہاتھوں مصائب کا شکار تھا، آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے، مگر منظر نامہ کا تناظر قدرے تبدیل ہوا ہے۔
اب بات پھر سے مافیاؤں کی دیدہ دلیری، بے لگامی اور رعونت پر آتی ہے، ضرورت اس وقت اس پیش رفت کی ہے کہ طرز حکمرانی جمہوری نظام کی آفاقیت کو مد نظر رکھے، عوام نے متعدد حکمرانوں کے دلفریب وعدے، دلنشیں تقاریر بہت سنیں، آج بھی کورونا، تعلیم، روزگار اور مہنگائی پر حکمراں الفاظ کے دریا بہاتے ہیں، مگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، کورونا کی ''دہشت انگیز لہر'' کی گونج شہریوں کے اعصاب جھنجھوڑ رہی ہے، وزیر منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ عوام ایس او پیز کی پابندی نہیں کر رہے، حالات خراب ہیں۔
احتیاط نہیں کی تو بڑے شہر بھی لاک ڈاؤن کی زد میں آ سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ عوام کیا کریں، کہاں جائیں، انھیںتو روزگار اور مہنگائی سے نجات کے امکانات کے بجائے سخت کارروائی کے آرڈر ملتے ہیں، یہی وہ معاملات ہیں جو عوام کو حکومتی پالیسیوں سے بے اعتباری کی دلدل میں دھکیلتے ہیں، کورونا کے سدباب کے لیے سندھ اور وفاق کے مابین تکرار اور ضد جاری ہے، کوئی ہم آہنگی نہیں، کئی مسائل محض گروہی، سیاسی اور پالیسی ٹکراؤ کے نتیجہ میں حل نہیں ہوتے حالانکہ ارباب اختیار کو قومی انداز فکر کی تعمیر اور فروغ کی جانب بھی سوچنا چاہیے کہ سیاسی عمل یا جمہوری سفر آج بند گلی میں کیوں ہے؟ کیا یہ بھی اسی مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ خود کو قانون سے بالاتر اور ''خاص'' سمجھتے ہیں۔
حکومت کے تھنک ٹینکس پر مامور افراد کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ قانون کی حکمرانی کو چیلنج کیا جاتا ہے، عوام پوچھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں، لیکن جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ارباب اختیار رعونت اور قانون شکن طبقات کی نشاندہی پر کارروائی کے ذریعے جواب دیں، شوگر مافیا ہو یا گندم مافیا ہو یا دوائیوں کی قیمتوں کو آسمان پر لے جانے والے کارٹیل، ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، یہ عناصر آج بھی قانون کی پہنچ سے دور ہیں، دوسری طرف پارلیمانی ایوانوں میں جو کچھ ہورہا ہے۔
اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جمہوری مکالمہ اور مدلل گفتگو کی روایت کہاں ہے یا دم توڑ رہی ہے،ضرورت اب ایک ایسے کلچر اور سماجی رویے کو سسٹم سے جوڑنے کی ہے جس میں حکومت پورے نظام اقتدار کو کھنگال لے، حزب اختلاف کو جمہوری گاڑی کا دوسرا پہیہ تسلیم کرے، حکومتی ارکان مثال بنیں، خالی خولی نصیحت سے کام نہ چلائیں، حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت تبدیلی کے نعرے پر اقتدار میں آئی ہے۔
تبدیلی کا ایک گھن گھرج پر مبنی کنٹینر کلچر عوام کے ذہنوں میں تاحال محفوظ ہے، لوگ نعروں یا دعوؤں سے نہیں بہلتے، وہ کچھ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، اگر کوئی ''خاص'' بنا ہوا ہے تو حکمراں طبقات کی اور عوام کی زندگی میں مماثلت یا تفاوت اور دوری کی حقیقت بھی عوام کو بتائی جائے، کیا عوام اور حکمران ایک جیسی زندگی کی نمایندگی کرتے ہیں، کیا غریب وہی کھانا کھاتا ہے جو حکمران کھاتے ہیں، ظاہر ہے حقیقت عوام جانتے ہیں۔
عوام اور حکمران کے بیچ ایک چاندی کی دیوار ہے، اور جب تک سماج میں غربت، عدم مساوات اور بیروزگاری کی کشمکش رہیگی، شفاف اور کرپشن، چھینا جھپٹی سے پاک سماج جنم نہیں لیگا، وقت کی للکار ہے کہ حکمراں اہل دانش سے ان کے افکار و تجربات سے سیکھیں، تجزیہ کار اہل حکومت کے وژن پر سوال اٹھاتے ہیں، ماہرین اقتصادیات و سیاست کا کہنا ہے کہ عوام حکومت کے وژن اور پالیسیوں میں تبدیلیوں کے سیلابی دھارے سے پریشان ہیں اور پوچھتے ہیں کہ حکومت اپنے نعرے پر قائم بھی ہے یا اسے حالات نے pic and choose پر مجبور کر دیا ہے۔