خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف قانون …

جنسی ہراسگی جیسے سماجی برائی کا شکار ہونے کے باوجود ان ہی خواتین کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

خواتین جو معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں ، اس کے باوجود حقوق سے محروم ہیں اور مختلف قسم کے مسائل کا شکار بھی ہیں۔

جنسی ہراسگی جیسے سماجی برائی کا شکار ہونے کے باوجود ان ہی خواتین کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس سماجی برائی کیخلاف کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کیخلاف باقاعدہ کوئی قانون موجود نہیں تھا تاہم خواتین کی مختلف تحریکوں کی جانب سے اٹھنے والی آوازوں کے نتیجے میں مثبت تبدیلی آئی اور پارلیمنٹ میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف بل پیش کیے گئے جن میں سے ایک قانون ''کام کرنے کی جگہوں پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کیخلاف قانون 2010 '' میں پاس کیا گیا۔

اس قانون کا مقصد مختلف شعبوں اداروں کو خواہ وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری یا سول سوسائٹی کے ادارے ، میں کام کرنے والی خواتین کے حقوق کا تحفظ ہے اور اس ضابطہ اخلاق کو اپنانا سب اداروں پر لازم ہے۔ ان اداروں/ محکموں کی انتظامیہ اس بات کی ذمے دار ہے کہ ادارے/ محکمہ کے ماحول کو خواتین کے لیے باعزت بنایا جائے ان کو پرسکون ذہنی ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ بہتر طور پر اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔

ہراسگی کے خلاف قانون 2010 کی منظوری کے بعد صوبہ سندھ میں سب سے پہلے محتسب اعلیٰ کا تقررکیا گیا تاکہ محتسب اعلیٰ کی زیر نگرانی اس قانون کا اطلاق سرکاری وسول سوسائٹی کے تمام اداروں میں کیا جاسکے تاکہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے والی برائی کا خاتمہ کرکے محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔اس مقصد کے لیے محتسب اعلیٰ کے دفترکی کاوشوں سے تمام سرکاری محکموں میں تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں اور باقی کچھ رہ جانے والے محکموں کے سربراہان سے رجوع کرکے تحقیقاتی کمیٹیوں کو تشکیل دیا جا رہا ہے اور نجی اداروں میں بھی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کے لیے بھی بھرپور عملی کوششیں جاری ہیں۔

تمام سرکاری و غیر سرکاری محکموں/ اداروں کی انتظامیہ اس قانون کے روح کے مطابق باقاعدہ نافذ کرنے کی ذمے دار ہے کسی بھی قسم کی حق تلفی کے بغیر، مساوی حقوق کی فراہمی اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سے پاک ماحول کی فراہمی اہم ذمے داری ہے۔ محکمہ/ ادارے کی انتظامیہ کو کسی بھی قسم کی شکایت وصول ہونے پر خواہ وہ فعل زبانی، تحریری مراسلت کا ہو یا جنسی نوعیت کے عملی اقدام یا جنسی تذلیل کا ہو جس سے کام کی انجام دہی میں مداخلت کا سبب بنے یا خوف مخالفانہ یا جارحانہ ماحول پیدا ہوتا ہو۔

اس کے علاوہ کسی خاص تقاضے کے پورے نہ ہونے کی صورت میں اسے ملازمت سے نکالنے کی دھمکی دینا اور ناجائز فعل کو ملازمت سے مشروط کرنا خواہ وہ دفتر کے اندر ہو یا باہر ہو ، سب اس ضابطے اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ تمام سرکاری وغیر سرکاری محکموں/ اداروں میں تین اراکین پر مشتمل ایک مستقل تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائیں گی جن میں کم از کم ایک رکن عورت ہوگی ایک رکن سینئر انتظامیہ میں سے ہوگا۔ ایک یا زائد اراکین کو ادارے کے باہر سے شریک رکن کے طور پر بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

کمیٹی کے اراکین کے لیے لازم ہے کہ وہ شریف النفس اچھے کردارکے اور قابل احترام ہوں اورکسی بھی رکن یا شکایت کنندہ کی جانب سے عدم اعتماد کی صورت میں رکن تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی قسم کی شکایت ایکٹ ہذاکے سیکشن 3 کے تحت ادارے میں قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی میں تحریری طور پر درج کروائی جا سکتی ہے جب کہ سیکشن A(1) کے تحت تحریری درخواست صوبائی محتسب سندھ کے دفتر یا قریبی انچارج ضلع شکایتی مرکز میں بھی جمع کروائی جاسکتی ہے۔

شکایت بذریعہ ڈاک، کوریئر سروس، فیکس، ای میل یا کسی اور ذریعے سے بھی بھیجی جاسکتی ہے۔ محکمہ یا ادارے کو شکایت وصول ہونے پر تحقیقاتی کمیٹی نہایت غیر جانبداری اور منصفانہ تحقیقات کرے گی اور انتظامیہ شکایت کنندہ یا گواہوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جوابی انتقامی کارروائی نہیں کرے گی لیکن اگر محسوس ہو کہ اس معاملے میں منصفانہ سماعت ادارے کے اندر ممکن نہیں توکارکن براہ راست محتسب اعلی کو درخواست دے کر منصفانہ سماعت کے لیے رابطہ کر سکتا ہے اور محکمے کی انتظامیہ محتسب کے فیصلے کی پابند ہوگی اور اگر انتظامیہ محتسب کی ہدایات پر عمل نہیں کرتی یا اس فیصلے کی پابندی نہیں کرتی تو انتظامیہ کو وہی سزا دی جائے گی جو ہائی کورٹ کے معاملے میں توہین عدالت کی صورت میں مقرر ہے۔


شکایت کنندہ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کو تحریری شکایت موصول ہونے پر ملزم کو تین روز کے اندر ان الزامات اور فرد جرم سے تحریری طور پر آگاہ کرے گی تاکہ ملزم اطلاع ملنے کے دن سے سات یوم کے اندر تحریری دفاع پیش کرے اورکسی معقول وجہ کے بغیر وہ ایسا نہیں کرتا تو یک طرفہ کارروائی کی جاسکتی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کو الزام کی تحقیق کرنے، دستاویزات و شہادتوں کا جائزہ لینے اور گواہان سے پوچھ گچھ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

تحقیقاتی عمل کے دوران حاصل شدہ بیانات اور دیگر شواہد خفیہ تصورکیے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر تحقیقاتی کمیٹی پوری کارروائی کو خفیہ قرار دے سکتی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی تحقیقات کو نہایت خفیہ رکھتے ہو ئے 30 دنوں کے اندر نتائج اخذ کر کے سفارشات حاکم مجاز کو بھیجے گی اور اگر ملزم کو قصوروار پائے تو مجاز اتھارٹی کو ذیل میں دی گئی ایک یا زائد سزائیں دینے کی سفارش کرے گی۔

معمولی سزائیں: (ا)ملامت کرنا (ب) ایک مقررہ مدت کے لیے اس محکما نہ ترقی اور تنخواہ میں اضافہ کو روکنا (ج) ایک مخصوص مدت تک ٹائم اسکیل میں اہلیتی حد کو روکنا (د) شکایت کنندہ کو قابل ادا معاوضہ ملزم کی تنخواہ یا کسی دوسرے ذرایع سے وصول کرنا۔

بڑی سزائیں: (ا) عہدے یا ٹائم اسکیل میں تخفیف یا ٹائم اسکیل کے نچلے درجے میں لانا (ب) جبری ریٹائرمنٹ (ج) ملازمت سے برطرفی (د) ملازمت سے موقوفی (ر) جرمانہ، جرمانے کا ایک حصہ شکایت کنندہ کے لیے بطور معاوضہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مجاز اتھارٹی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے سفارش کردہ سزائوں پر عمل درآمد اور سفارشات کی موصول ہونے کے ایک ہفتے کے اندر اندر عائد کرے گی۔

مجاز اتھارٹی کی جانب سے ملزم ملنے والی سزائوں کے خلاف تحریری اطلاع ملنے کے 30 یوم کے اندر وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی طرف سے مقررکیے گئے محتسب کو اپیل کرنے کا حق رکھتا ہے۔

اپیلیٹ اتھارٹی، اپیل اور دوسرے متعلقہ امور پر غور کرتے ہوئے 30 یوم کے اندر اس فیصلے کی توثیق منسوخ ، تبدیل یا ترمیم کر سکتی ہے، اگر ملزم کے خلاف الزامات غلط اور بد نیتی پر مبنی ثابت ہو جائیں تو تحقیقاتی کمیٹی محتسب کو شکایت کنندہ کے خلاف مناسب کارروائی کی سفارش کرسکتی ہے۔ محتسب اعلیٰ کے ادارے نے خواتین کو کام کرنے والی جگہوں پر ہراساں کیے جانے والی اس برائی کے خلاف مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے صوبہ سندھ کے مختلف اضلاع میں دفاتر قائم کیے ہیں جن میں کراچی سائوتھ ،کراچی ویسٹ ، کراچی سینٹرل ، کورنگی ، ملیر ، کراچی ہیڈ آفس،کراچی کیمپ آفس کے علاوہ حیدرآباد ، نوشہروفیروز، خیرپور، عمر کوٹ، ٹھٹھہ، مٹیاری، ٹنڈوالہیار اور شہید بے نظیر آباد شامل ہیں۔

مختلف علاقوں میں محتسب اعلیٰ کی جانب سے قائم کردہ شکایتی مراکز کی دستیابی کی بدولت خواتین باآسانی اپنی شکایات درج کروا سکتی ہیں اور سستا اور فوری انصاف کے حصول کے بعد ورک پلیس (کام کی جگہوں) میں مکمل ذہنی اطمینان کے ساتھ کام جاری رکھ سکتی ہیں، جس سے ان کی کارکردگی میں مثبت اثرات پڑیں گے۔

(مضمون نگار صوبہ سندھ میں ڈپٹی ڈائریکٹر، محکمہ اطلاعات ہیں )
Load Next Story