اہم سوال مستقبل کی جنگ

عوام کو خوامخوا نان ایشوز پر لڑایا جا رہا ہے، ان عناصر کا ایجنڈا، فکری اور علمی انتشار پیدا کر رہا ہے۔

عوام کو خوامخوا نان ایشوز پر لڑایا جا رہا ہے، ان عناصر کا ایجنڈا، فکری اور علمی انتشار پیدا کر رہا ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاسی مافیاز،کارٹلز اورکرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے سب لوگ ہمارے خلاف کھڑے ہیں لیکن یہ جنگ ہم جیتیں گے، اس ملک میں قانون کی بالادستی قائم کریں گے اور انصاف کا نظام لائیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قومیں بمباری، جنگوں یا وسائل کی کمی سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ کرپشن سے تباہ ہوتی ہیں۔

حکومت دو نئے شہر اور دو بڑے ڈیم بنا رہی ہے، صحت کارڈ کے بعد آج کسان کارڈ لانچ کیا جا رہا ہے، غریبوں کے لیے کھانا اور کمزور طبقے کے لیے نئے گھر بن رہے ہیں، اڑھائی سال کے بعد پہلی بارکرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے،ا سٹاک مارکیٹ اوپر، لوگوں کو معیشت پر اعتماد آ رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو تحریک انصاف کے 25 ویں یوم تاسیس پر اپنے ویڈیو پیغام میں کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قومیں جنگوں اور وسائل کی کمی سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ کرپشن سے تباہ ہوتی ہیں اور کرپشن بھی وہ نہیں جو پٹواری، تھانیدار اور نچلا طبقہ کرتا ہے بلکہ جب حکمران کرپشن کرتے ہیں تو قوم مقروض ہوکر تباہ ہوجاتی ہے۔ ساری ترقی پذیر دنیا کی یہی کہانی ہے۔

اس علمی سیاق و سباق کو اگر اقتصادی اور سیاسی تاریخ اور قوموں کے عروج و زوال سے ملایا جائے تو تبدیلی اور انقلاب سمیت سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کی ابتدا اور تشکیل و تطہیر کے ہزارہا واقعات ذہن کے دریچے کھول دیتے ہیں۔

دیوار برلن سے لے کر سیاسی سسٹم اور معاشی نظام کے زلزلہ جاتی گڑگڑاہٹ میں محکوم قوموں کی نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت، انقلاب، بغاوت، نشاہ ثانیہ اور سوویت روس کی شکست و ریخت تک پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہتا ہوا ملتا ہے، ایسے مدبر وجہاں دیدہ سیاسی حکمران اور ان کی سیاسی تحریکوں کے احوال ملتے ہیں جو زیادہ دورکی بات ہیں بلکہ اس تبدیلی کی دھمک جنوبی افریقہ کے طلسماتی لیڈر نیلسن منڈیلا کی سیاسی جدوجہد میں نظر آئے گی، اس سے پہلے کے منظرنامہ پر نظر ڈالی جائے تو نظاموں کے لینڈ اسکیپ میں انسانی فکر اور معاشی حالات وسامراجی مظالم کا ایک گرداب ملتا ہے۔

محکوم قوموں نے اپنی ایک والہانہ الگ کہانی لکھی، پھر آزاد قوموں کے تجربات کا نیا جہاں آباد ہوتا گیا جو انسانیت کی دہلیز سے گلے ملتے ہوئے اہل وطن کو پاکستان کے قیام کی تاریخ سے سے جوڑ دیتا ہے۔

وزیراعظم نے اپنی پارٹی کے پچیسویں یوم تاسیس کے موقع پر سیاسی اور معاشی ملکی کہانی کا حسین سنگم کی نہایت فکر انگیز یاد داشتیں قوم کے ساتھ شیئرکی ہیں، مگر ان ساری تماثیل میں فرد کے اس تاریخی کردار پر بحث کرنے کی ضرورت ہے جس سے آج بائیس کروڑ آبادی والے اس شاندار عطیہ خداوندی کو مافیاؤں،کارٹلز اور بدعنوانیوں سے فائدہ اٹھانے والوں نے کیوں محاصرے میں لے رکھا ہے؟ آج کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے سسٹم کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور تبدیلی پر کمربستہ سسٹم کی سب سے بڑی لڑائی ان ہی عفریتی اور طاغوتی قوتوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت ملک کے مستقبل سے لڑی جانے والی جنگ کا حصہ ہے، اگر اس انداز نظر سے ملکی سیاسی و معاشی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ دورانیہ فکری تمدنی، سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کی گمبھیرتا کے دلچسپ سیاسی، ریاستی اور اقتصادی باب کی جگہ لیتا دکھائی دیتا ہے، اس سیاسی صورتحال کی لچکدار وسعت اور اثرات و نتائج کی تزویراتی کثیر جہتی بھی غیرمعمولی ہے، کیونکہ ملک ایک چومکھی سیناریوکے میدان جنگ کیا نقشہ پیش کر رہا ہے، جس میں واقعات تیزی سے بدل رہے ہیں اور حکومتی و ریاستی اقدامات، فیصلوں، حکمت عملی اور پیش رفت بلاخیز ہے، میرکا شعر ہے۔

زمانے میں مرے شور جنوں نے

قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا


حکومت بلاشبہ روایتی سیاست کے کثیر جہتی بھونچال میں ہے، نفسیاتی تناؤ اور اقتصادی دباؤ کے باعث عوام کورونا سے بچنے کے انتظامی میکنزم سے الجھن کا شکار ہیں، ویکسین اور ایس او پیز سے نمٹنے کا سماں ہے، روزے، افطار، عید شاپنگ کے ٹارگٹس کی تکمیل بھی ناگزیر ہے، غربت و مہنگائی کے ریلے بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں لیکن عجیب المیہ ہے کہ جن مسائل کا بھنور عوام کی گردن پکڑے ہوئے ہے، ارباب اختیارکی میز پر عوامی مسائل پر گفتگو کے ماہرین کا کوئی سنجیدہ سایہ نظر نہیں آتا، سیاست اور سفارت روایتی سانپ اور سیڑھی کا خارجی کھیل اور سیاسی اضطراب ہے، جس کے ڈانڈے کبھی اقتصادی، مذہبی، سفارتی، اور اسٹرٹیجک ڈیپتھ سے ملا کرتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ ملک کے بہتر سالہ سیاسی مسافت کے ہم ایک اعصاب شکن موڑ پر ہیں۔

حکومت کے نزدیک ملک ایک انقلاب سے گزر رہا ہے، کسان خوش ہیں، معیشت مستحکم ہے، مالیاتی محاذ پرمسرت آمیز اطلاعات آ رہی ہیں، جن پر حکومت خوش ہے مگر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی بلند سطح تشویشناک ہے، وہ وزیراعظم سے فریاد کناں ہے کہ عوام کو کہیں کہ کچھ گھبرا لیں۔ ادھر ادب و تحقیق کے مورچہ میں خاموشی ہے، جو چند ادبی و فکری شخصیات ہیں وہ سیاسی ہنگامہ ٔ دار و گیر سے الگ رہتے ہوئے تخلیق و تحریر میں اپنا کردار سنجیدگی سے نبھا رہے ہیں۔

ان کی کتابوں سے پاکستان کی نئی نسل سیاسی، تاریخ، سماجی اور زبان و بیان کے نئے تقاضوں سے ذہن سازی میں مصروف ہیں، لیکن ادب اور سیاست کے مابین فاصلے بہت بڑھ گئے ہیں، ارباب اختیار اس جانب توجہ دیں، ملک کے ممتاز دانشور اور ادیب عوامی حلقوں میں ایک نئے عہد کی فکر کے چراغ جلا رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ تہذیب کی عمارت کا مدار آلات اور اوزار پر ہے، انسانی تہذیب کی ترقی آلات و اوزار کی ترقی پر منحصر ہے، جس قسم کے آلات و اوزار ہونگے تہذیب بھی اسی قسم کی ہوگی۔

یہ انقلابی سوچ ہے، ملک کو ایک فکری اور تہذیبی سوچ کیے احیا کی ضرورت ہے، عوام کو خوامخوا نان ایشوز پر لڑایا جا رہا ہے، ان عناصر کا ایجنڈا، فکری اور علمی انتشار پیدا کر رہا ہے، ارباب سیاست کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس قسم کی معیشت، اورکس قسم کا نظام انصاف و اقتدار قوم کو دینا چاہتے ہیں۔ ادب کو سیاست کے دسترخوان پر لانا چاہیے، قومیں سیاسی فکر و فلسفہ کو جنگ و جدال کے زمانے میں بھی اپنے نصاب میں شامل رکھتی تھیں۔کیا وجہ ہے کہ ہماری سیاست میں فکر منطق، فلسفہ اور استدلال کو کوئی پذیرائی نہیں ملتی۔

کیا ہم روزانہ کے حساب سے محض سیاسی اعلان ہی جاری کرتے رہیں گے، جب کہ انقلاب لانے کے لیے، قوم کی فکری اور ذہنی سمت سازی ناگزیر ہے۔ ارباب اختیار عوام کو فکری انتشار سے بچائیں، ہمارے بہت سارے مسائل کا واحد حل دلیل اور منطق کو راستہ دینے میں ہے۔ چین کا صرف حوالہ کافی نہیں، نیلسن منڈیلا کی لیڈرشپ کے قصے سنانے سے ملکی سیاست تبدیل نہیں ہوگی جنھوں نے خود کو ایشین ٹائیگر منوایا ہے، ان کے تجربوں سے بھی کچھ سیکھنا پڑے گا۔

سنجیدگی اختیارکرنے کی ضرورت ہے، تدبر اور تحمل کے ساتھ معاملات پر نظر ڈالنے سے سیاست ومعیشت کا ٹریک بدل سکتا ہے، سیاسی فکر کی مرکزیت منتشر ہوئی ہے، سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ طرز حکمرانی کو رک کر، ٹھہرکر قومی فیصلوں کی سمت قدم اٹھانا چاہیے۔

ایک لیڈر نے دو روز پہلے کہا تھا کہ بھارت سے فعال پاک بھارت بات چیت کے آغاز اور ثالثی پر اخبارات میں کچھ سنا تھا مگر ایسی تو کوئی فعالیت اور ثالثی ہمیں تو دیکھنے میں نہیں ملی، لیکن آج بھارت سے کہا جارہا ہے کہ وہ فیصلوں پر نظر ثانی کرے تو پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ایسی لا علمی اور ایسی بھی بیقراری کی ضرورت کیا ہے۔ ڈپلومیسی کے زوال اور انحطاط کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ نہ کرلیں، اس باب میں بلا کی دور اندیشی، مستعدی، حاضر دماغی اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

میڈیا کے مطابق بار بار ٹیرف میں اضافے، متعدد پرانے آزاد پاور پلانٹس (آئی پی پیز)، ایندھن کی لاگت ، ٹیکس سے متعلق معقول ادائیگی اور آیندہ دو سالوں تک بروقت سبسڈی کے باوجود بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے مالی سال 2023 کے اختتام تک 11کھرب روپے سے زائد رہیں گے۔ رپورٹ کے مطابق تاہم یہ، سرجیکل اقدامات نہ کرنا کوئی آپشن نہیں ہے، ان اقدامات کے بغیرگردشی قرضے مالی سال 2023 کے اختتام تک 47 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت جاری منصوبوں کے بارے میں چینی مالیاتی اداروں کے ساتھ ایک معاہدے کے قریب پہنچنے کی اطلاع دی ہے جس سے آیندہ مالی سال (مالی سال 2022) کے دوران حکومت پر مالی بوجھ 5 ارب روپے سے کم ہوجائے گا اور مالی سال 2023 میں 25 ارب روپے یعنی دو سالوں میں 30 ارب روپے۔ یہ بچت بنیادی طور پر قرض کی مدت میں توسیع کی وجہ سے ہے۔ یہ نظر ثانی شدہ گردشی قرضے کے منیجمنٹ پلان (سی ڈی ایم پی) کا ایک حصہ ہے جو منظوری اور اس پر عمل درآمد کے لیے رواں ہفتے وفاقی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔

دستیاب دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ بلند نظر پالیسی ایکشنز کی وجہ سے گردشی قرضے 2 سال میں 20کھرب روپے تک پہنچ جائیں گے، مالی سال 2023 میں بجلی کا اوسط ٹیرف 20.25 روپے فی یونٹ ہونے کا امکان ہے جو فی الحال فی یونٹ 15.4 روپے ہے۔ اس منصوبے کے تحت مستقبل قریب میں کوئلے سے چلنے والا کوئی اضافی بجلی گھر نہیں بنایا جائے گا اور پہلے ہی کمیشنڈ اور زیر تعمیر درآمد شدہ کوئلے پر مبنی تقریباً 5500 میگاواٹ کے آئی پی پیز اور جامشورو ون کو موجودہ بلاکس 1 اور 2 سے تھر کوئلے میں تبدیل کیا جائے گا۔

اسی طرح ٹیرف کی بچت متوقع طور پر کوئلے کی قیمت فی ٹن 50 سے 60 ڈالر سے کم ہوکر 30 ڈالر تک آجائے گی، تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کیا ان دو سالوں میں تھر میں کوئلے کی پیداوار کو اس سطح تک بڑھانا قابل عمل ہے یا نہیں؟ توانائی کے شعبے پر نگاہ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ حکومت اس معاملے کو مکمل ژرف نگاہی سے ہینڈل کرے، یہ ملکی توانائی اور معاشی خود کفالت کا معاملہ ہے۔ اقتصادی فیصلے سوچ سمجھ کر اور قوم کے مفاد میں کیے جائیں، یہی صائب انداز فکر ہے۔
Load Next Story