ناطاقتی کے طعنے ہیں عذرِ جفا کے ساتھ
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں امن کے لیے طالبان سے مذاکرات پہلی...
وزیراعظم سے سعودی وزیر خارجہ کی رسمی ملاقات میں سابق صدر پرویز مشرف سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی ،چوہدری نثار فوٹو: اے پی پی/ فائل
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں امن کے لیے طالبان سے مذاکرات پہلی ترجیح کی پالیسی پرقائم ہے تاہم مذاکرات کی پیشکش کاجواب گولی سے دینے والے گروپوں سے جنگ ہوگی۔اتوار کوپنجاب ہاؤس اسلام آباد میں طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے صحافیوں کوبریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ طالبان کے مختلف گروپوں سے بات چیت حساس مرحلے میں ہے ،امیدہے مثبت نتائج برآمدہوں گے۔انھوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کافیصلہ کل جماعتی کانفرنس میں کیا گیا تھا اور اس میں تمام سیاسی قیادت کی مشاورت شامل تھی، ملک میں امن کے لیے طالبان سے مذاکرات اب بھی حکومت کی پہلی ترجیح ہے اور اسی پالیسی پر قائم رہیں گے ۔
بلاشبہ ایک جمہوری حکومت مکالمے سے گریز کا تصور بھی نہیں کرسکتی، تاہم وزیر داخلہ نے طالبان سے مذاکرات کو اولین ترجیح دینے اور اس پالیسی پر قائم رہنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اس کا عملی اور حرکیاتی پہلو اپنی مسلسل تشنہ کامی پر سیاسی و دفاعی مبصرین اور عوامی حلقے خاصی تشویش میں مبتلا ہیں۔ایک طرف وزیراعظم اور وزیر داخلہ ، ان کے وزرا و مشیر صاحبان رات دن بات چیت پر زور دیتے ہیں لیکن دہشت گردی بات چیت کی جگالی ، قوالی یا محض آرائشی اور زوردار انتباہی بیانات سے تو ختم نہیں ہوسکتی، اس انداز نظر سے تو طالبان اور دیگر کالعدم تنظیمیں و دہشت گرد دھڑے اس اجتماعی غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں کہ ریاست عذرخواہی ، نیم دلی ، پست ہمتی یا کشتیاں جلانے سے بوجوہ گریزکررہی ہے جب کہ فہمیدہ طبقے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت ابھی تک اسی فکری بحران کا شکار ہے کہ دہشت گردی کے چیلنج سے ''ونس فار آل'' عملی طور پر نمٹنا بھی ہے یا نہیں۔ حقیقت میں حکومت یا ریاست مخالفین کی سرکوبی کے لیے جو ریاستی پالیسی ہونی چاہیے وہ منظر عام پر نہیں آئی۔ اس لیے عوام ملک دشمنوں اور آئین کو سرے سے تسلیم نہ کرنے والوں سے مذاکرات کے آپشن کو بھی عجوبہ سمجھنے لگے ہیں کیونکہ ریاستی رٹ کو روندنے والے طالبان ملکی سطح پر ہلاکتوں کی ہولناک تاریخ رقم کرتے چلے جارہے ہیں۔
گزشہ روز میڈیا پر امریکا کے سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے ایبٹ آباد پر یورش کی تفصیلات نہ صرف حیران کن اور چشم کشا ہیں بلکہ ایک ایٹمی ملک کو امریکی سامراج ناطاقتی کے طعنے دے رہا ہے اور وہ بھی عذرِِ ِجفا کے ساتھ ۔ رابرٹ گیٹس کی کتاب کے اقتباسات کے آئینے میں ہمارے جمہوری عزم، ریاستی طاقت، عسکری مستعدی اور دشمن اور جارح قوتوں کے خلاف دفاع اور فوری جوابی حملہ سے متعلق اہلیت پر کئی سوالہ نشان لگا دیے ہیں ۔چنانچہ زمینی حقائق اور دہشت گردی کے سوال پر قومی سوچ کسی تفریق ، دو عملی اور تذبذب کی متحمل نہیں ہوسکتی، صورتحال تو رزم حق وباطل جیسی ہی ہے، کب تک محض تاریخی حوالوں کی صرف ورق گردانی ہی ہمارا شیوہ رہے گا، دشمن آئین و قانون اور جمہور نظام و عوام کی قیمتی زندگیوں کے چراغ گل کرنے پر تلا ہوا ہے اس کے عزائم پاکستان پر اپنے خود ساختہ ایجنڈے کو مسلط کرنا ہے، ایسی قوت سے مذاکرات ہونے ناگزیر ہیں تو اس کے اسباب مہیا کیے جائیں اور شہریوں اور ریاستی اہلکاروں کی جانوں سے کھیلنے والوں کو اتنی آزادی بھی نہ دی جائے کہ وفاق مذاکرت مذاکرات کا ورد کرے اور طالبان ہماری لاشیں گراتے جائیں۔
وقت آگیا کہ قومی سلامتی اور سیاسی و معاشی نظام کے تحفظ اور ملکی یکجہتی کے لیے سیاسی رہنما مل بیٹھ کر حتمی فیصلہ کریں۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے یا نہ کرنے پر قوم کے سامنے دل کی بات کہہ دینی چاہیے۔مذاکرات ترجیح ہے تو اس سمت میں اٹھتے قدم اورٹھوس عملی اقدامات نظر آنے چاہئیں ، ادھر سیاسی محفلوں ، نجی ملاقاتوں اور میڈیا میں بے ہنگم اور لاحاصل مباحثے جاری ہیں، افراط و تفریط کا عالم ہے، بھانت بھانت کی بولیاں ہیں، وزیرداخلہ کا موقف ہے کہ فاٹا میں صرف فوجی کارروائی سے دہشت گردی ختم ہونے کا تاثر درست نہیں ، لیکن بندہ پرور جو درست تاثر ہے وہ بھی تو وفاقی حکومت کو قائم کرنا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ ریاست لڑنے پر تیار ہو تو عوام کو اپنے شانہ بشانہ پائے گی۔ یہ فکری و عملی دوری ختم ہونی ضروری ہے۔ اگر صرف آپریشن سے مسئلہ حل نہیں ہوگا تو مذاکرات پاکستان کی آئین کے مطابق اور ملک کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھ کر کریں اور جلد کریں ۔طالبان کے مذاکرات پسند رہنما کہاں ہیں؟ پتا تو چلے کہ ان کا نقطہ نظر کیا ہے۔
ان رہنماؤں کو سامنے بٹھائیں جو بات چیت کا استحقاق اور عملی قوت و نتیجہ خیزی کا سامان رکھتے ہیں، چوہدری نثار کا یہ انکشاف کہ اگر فضل اللہ گروپ نے مذاکرات سے انکار کیا اور بات چیت نہیں چاہتا تو ڈرون حملے کرنے والی طاقتیں بھی یہ نہیں چاہتیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دشوار راہ میں ابھی سخت مقام اور بھی ہیں۔اسی انتظار روز وشب کا شاخسانہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایس ایس پی سی آئی ڈی کراچی چوہدری اسلم کے قتل میں ٹی ٹی پی کے سربراہ مولوی فضل اللہ اور ترجمان شاہد اللہ شاہد کی بطورملزم نامزدگی کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا ہے، ادھر کالعدم تنظیم بلوچ ری پبلکن آرمی نے ڈیرہ بگٹی میں فورسز پر حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے جس کے نتیجے میں 3 اہلکار ہلاک اور2 زخمی ہوئے،اس طرح مقصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست کسی کے آگے سرنڈر نہیں کرے گی، تمام مکاتب فکر کے علماء پر مشتمل کونسل بنا رہے ہیں جو دہشت گردی کے خاتمے اور مکاتب فکر میں ہم آہنگی کے لیے کام کرے گی، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی سے ریاست کمزور ہورہی ہے اور دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سر براہ مولانا فضل الر حمن کا کہنا ہے کہ طالبان اورحکو مت کو مذاکرات کی راہ میں ''اسپیڈ بر یکر'' بنانیوالوں پر نظر رکھنا ہو گی 'ہم طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر مایوس نہیں مگر حکومت کونیک نیتی سے مذاکرات کے لیے کوشش جا ری رکھنی چاہیے ' ساتھ ہی سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ دہشتگردوں کا نام کھل کر نہیں لیتے جب کہ سندھ حکومت نے ایس ایس پی چوہدری اسلم کے قتل میں ملوث تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں پر مقدمات درج کروائے ہیں،وفاقی حکومت بھی طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انتہا پسندی ، دہشت گردی اور سیاسی ،فرقہ وارانہ و لسانی ٹارگٹ کلنگ سے ملکی سیاسی افق لہو لہان ہے ، منی پاکستان اور لیاری مقتل کی تصویر پیش کررہے ہیں، بلوچستان میں شورش اور بدامنی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں،ہر مسلح گروپ اپنی گلی کا شیر ہے۔
قانون کی حکمرانی سرنگوں اور معیشت کی کشتی غیر ملکی قرضوں، مہنگائی، لوڈشیڈنگ ، داخلی بدانتظامی ،بے لگام کرپشن اور طرز حکمرانی کی عدم شفافیت کے تھپیڑے کھا رہی ہے، جب کہ دوسری جانب دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پی پی،ایم کیو ایم اور اے این پی سمیت دیگر جمہوری حلقے اور سول سوسائٹی بات چیت اورریاستی آپریشن کے حوالے واضح لائحہ عمل کا مطالبہ کررہی ہیں۔ارباب اختیار دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کہاوت پر توجہ دیں کہ '' آسمان پر دو سورج نہیں ہو سکتے اسی طرح ایک ملک میں دو بادشاہ بھی نہیں ہوسکتے۔''لہٰذا ان قوتوں کو کٹ ٹو سائز کیا جائے جو جمہوری نظام کا دھڑن تختہ کرکے اپنی بادشاہت یا امارات قائم کے جنون میں مبتلا ہیں۔Enough is enough ۔
بلاشبہ ایک جمہوری حکومت مکالمے سے گریز کا تصور بھی نہیں کرسکتی، تاہم وزیر داخلہ نے طالبان سے مذاکرات کو اولین ترجیح دینے اور اس پالیسی پر قائم رہنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اس کا عملی اور حرکیاتی پہلو اپنی مسلسل تشنہ کامی پر سیاسی و دفاعی مبصرین اور عوامی حلقے خاصی تشویش میں مبتلا ہیں۔ایک طرف وزیراعظم اور وزیر داخلہ ، ان کے وزرا و مشیر صاحبان رات دن بات چیت پر زور دیتے ہیں لیکن دہشت گردی بات چیت کی جگالی ، قوالی یا محض آرائشی اور زوردار انتباہی بیانات سے تو ختم نہیں ہوسکتی، اس انداز نظر سے تو طالبان اور دیگر کالعدم تنظیمیں و دہشت گرد دھڑے اس اجتماعی غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں کہ ریاست عذرخواہی ، نیم دلی ، پست ہمتی یا کشتیاں جلانے سے بوجوہ گریزکررہی ہے جب کہ فہمیدہ طبقے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت ابھی تک اسی فکری بحران کا شکار ہے کہ دہشت گردی کے چیلنج سے ''ونس فار آل'' عملی طور پر نمٹنا بھی ہے یا نہیں۔ حقیقت میں حکومت یا ریاست مخالفین کی سرکوبی کے لیے جو ریاستی پالیسی ہونی چاہیے وہ منظر عام پر نہیں آئی۔ اس لیے عوام ملک دشمنوں اور آئین کو سرے سے تسلیم نہ کرنے والوں سے مذاکرات کے آپشن کو بھی عجوبہ سمجھنے لگے ہیں کیونکہ ریاستی رٹ کو روندنے والے طالبان ملکی سطح پر ہلاکتوں کی ہولناک تاریخ رقم کرتے چلے جارہے ہیں۔
گزشہ روز میڈیا پر امریکا کے سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے ایبٹ آباد پر یورش کی تفصیلات نہ صرف حیران کن اور چشم کشا ہیں بلکہ ایک ایٹمی ملک کو امریکی سامراج ناطاقتی کے طعنے دے رہا ہے اور وہ بھی عذرِِ ِجفا کے ساتھ ۔ رابرٹ گیٹس کی کتاب کے اقتباسات کے آئینے میں ہمارے جمہوری عزم، ریاستی طاقت، عسکری مستعدی اور دشمن اور جارح قوتوں کے خلاف دفاع اور فوری جوابی حملہ سے متعلق اہلیت پر کئی سوالہ نشان لگا دیے ہیں ۔چنانچہ زمینی حقائق اور دہشت گردی کے سوال پر قومی سوچ کسی تفریق ، دو عملی اور تذبذب کی متحمل نہیں ہوسکتی، صورتحال تو رزم حق وباطل جیسی ہی ہے، کب تک محض تاریخی حوالوں کی صرف ورق گردانی ہی ہمارا شیوہ رہے گا، دشمن آئین و قانون اور جمہور نظام و عوام کی قیمتی زندگیوں کے چراغ گل کرنے پر تلا ہوا ہے اس کے عزائم پاکستان پر اپنے خود ساختہ ایجنڈے کو مسلط کرنا ہے، ایسی قوت سے مذاکرات ہونے ناگزیر ہیں تو اس کے اسباب مہیا کیے جائیں اور شہریوں اور ریاستی اہلکاروں کی جانوں سے کھیلنے والوں کو اتنی آزادی بھی نہ دی جائے کہ وفاق مذاکرت مذاکرات کا ورد کرے اور طالبان ہماری لاشیں گراتے جائیں۔
وقت آگیا کہ قومی سلامتی اور سیاسی و معاشی نظام کے تحفظ اور ملکی یکجہتی کے لیے سیاسی رہنما مل بیٹھ کر حتمی فیصلہ کریں۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے یا نہ کرنے پر قوم کے سامنے دل کی بات کہہ دینی چاہیے۔مذاکرات ترجیح ہے تو اس سمت میں اٹھتے قدم اورٹھوس عملی اقدامات نظر آنے چاہئیں ، ادھر سیاسی محفلوں ، نجی ملاقاتوں اور میڈیا میں بے ہنگم اور لاحاصل مباحثے جاری ہیں، افراط و تفریط کا عالم ہے، بھانت بھانت کی بولیاں ہیں، وزیرداخلہ کا موقف ہے کہ فاٹا میں صرف فوجی کارروائی سے دہشت گردی ختم ہونے کا تاثر درست نہیں ، لیکن بندہ پرور جو درست تاثر ہے وہ بھی تو وفاقی حکومت کو قائم کرنا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ ریاست لڑنے پر تیار ہو تو عوام کو اپنے شانہ بشانہ پائے گی۔ یہ فکری و عملی دوری ختم ہونی ضروری ہے۔ اگر صرف آپریشن سے مسئلہ حل نہیں ہوگا تو مذاکرات پاکستان کی آئین کے مطابق اور ملک کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھ کر کریں اور جلد کریں ۔طالبان کے مذاکرات پسند رہنما کہاں ہیں؟ پتا تو چلے کہ ان کا نقطہ نظر کیا ہے۔
ان رہنماؤں کو سامنے بٹھائیں جو بات چیت کا استحقاق اور عملی قوت و نتیجہ خیزی کا سامان رکھتے ہیں، چوہدری نثار کا یہ انکشاف کہ اگر فضل اللہ گروپ نے مذاکرات سے انکار کیا اور بات چیت نہیں چاہتا تو ڈرون حملے کرنے والی طاقتیں بھی یہ نہیں چاہتیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دشوار راہ میں ابھی سخت مقام اور بھی ہیں۔اسی انتظار روز وشب کا شاخسانہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایس ایس پی سی آئی ڈی کراچی چوہدری اسلم کے قتل میں ٹی ٹی پی کے سربراہ مولوی فضل اللہ اور ترجمان شاہد اللہ شاہد کی بطورملزم نامزدگی کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا ہے، ادھر کالعدم تنظیم بلوچ ری پبلکن آرمی نے ڈیرہ بگٹی میں فورسز پر حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے جس کے نتیجے میں 3 اہلکار ہلاک اور2 زخمی ہوئے،اس طرح مقصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست کسی کے آگے سرنڈر نہیں کرے گی، تمام مکاتب فکر کے علماء پر مشتمل کونسل بنا رہے ہیں جو دہشت گردی کے خاتمے اور مکاتب فکر میں ہم آہنگی کے لیے کام کرے گی، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی سے ریاست کمزور ہورہی ہے اور دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سر براہ مولانا فضل الر حمن کا کہنا ہے کہ طالبان اورحکو مت کو مذاکرات کی راہ میں ''اسپیڈ بر یکر'' بنانیوالوں پر نظر رکھنا ہو گی 'ہم طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر مایوس نہیں مگر حکومت کونیک نیتی سے مذاکرات کے لیے کوشش جا ری رکھنی چاہیے ' ساتھ ہی سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ دہشتگردوں کا نام کھل کر نہیں لیتے جب کہ سندھ حکومت نے ایس ایس پی چوہدری اسلم کے قتل میں ملوث تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں پر مقدمات درج کروائے ہیں،وفاقی حکومت بھی طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انتہا پسندی ، دہشت گردی اور سیاسی ،فرقہ وارانہ و لسانی ٹارگٹ کلنگ سے ملکی سیاسی افق لہو لہان ہے ، منی پاکستان اور لیاری مقتل کی تصویر پیش کررہے ہیں، بلوچستان میں شورش اور بدامنی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں،ہر مسلح گروپ اپنی گلی کا شیر ہے۔
قانون کی حکمرانی سرنگوں اور معیشت کی کشتی غیر ملکی قرضوں، مہنگائی، لوڈشیڈنگ ، داخلی بدانتظامی ،بے لگام کرپشن اور طرز حکمرانی کی عدم شفافیت کے تھپیڑے کھا رہی ہے، جب کہ دوسری جانب دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پی پی،ایم کیو ایم اور اے این پی سمیت دیگر جمہوری حلقے اور سول سوسائٹی بات چیت اورریاستی آپریشن کے حوالے واضح لائحہ عمل کا مطالبہ کررہی ہیں۔ارباب اختیار دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کہاوت پر توجہ دیں کہ '' آسمان پر دو سورج نہیں ہو سکتے اسی طرح ایک ملک میں دو بادشاہ بھی نہیں ہوسکتے۔''لہٰذا ان قوتوں کو کٹ ٹو سائز کیا جائے جو جمہوری نظام کا دھڑن تختہ کرکے اپنی بادشاہت یا امارات قائم کے جنون میں مبتلا ہیں۔Enough is enough ۔