ایک بار مل تو لیں

مجھ جیسوں کو پچھلےوزیرِ داخلہ رحمان ملک اس لیےپسندتھےکہ وہ پانچ پالیسی گیندیں ایک ساتھ فضا میں اچھالنےکےماہرتھےمگر...

KARACHI:
بانوِ شہر سے کہہ دو کہ ملاقات کرے
ورنہ ہم جنگ کریں گے وہ شروعات کرے

افضال احمد سید کا یہ شعر مجھے کبھی یاد نہ آتا اگر چوہدری نثار علی خان آف چکری یہ نہ کہتے کہ بات چیت سے انکار کرنے والے طالبان سے جنگ ہوگی اور یہ کہ مذاکرات کی پیش کش قبول نہ کرنے والوں کا تعاقب کیا جائے گا اور یہ کہ کچھ گروہوں سے بات چیت ہورہی ہے اور یہ کہ ہم نظر نہ آنے والے دشمن سے برسرِ پیکار ہیںکیونکہ یہ کسی ایک جگہ موجود نہیں اور یہ کہ ڈرون حملوں پر حکومت کا کنٹرول نہیں، اس لیے ان حملوں کی سزا عام شہریوں کو دینا مناسب نہیں...

مجھے چوہدری صاحب کی بل اصرار پیش کش پر ایک دیواری اشتہار یاد آگیا۔

'' ایک بار مل تو لیں ''منجانب حکیم سدن خاں ، ماہرِ امراضِ پوشیدہ و جملہ کمزوریات و جنسیات۔۔۔۔۔

مجھ جیسوں کو پچھلے وزیرِ داخلہ رحمان ملک اس لیے پسند تھے کہ وہ پانچ پالیسی گیندیں ایک ساتھ فضا میں اچھالنے کے ماہر تھے مگر چوہدری صاحب نے رحمان ملک کا غمِ فراق بھی بھلا دیاکیونکہ اعلیٰ حضرت کو یہ کرتب آتا ہے کہ ایک دفعہ منہ میں پٹرول بھر کے آگ کا گولہ نکالتے ہیں اور پھر اسی پٹرول کی دوسری پھوار نکالتے ہیں تو فضا میں پھول بکھر جاتے ہیں۔

لگتا ہے چوہدری صاحب کے لہجے میں تازہ اعتماد نادرا کے تجربے کے بعد آیا ہے۔جس طرح انھوں نے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کے چیرمین طارق ملک کا محاصرہ کرکے انھیں استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا اور جس طرح حکومت نے پیمرا کے سربراہ چوہدری رشید احمد کو عدالتی بحالی کے باوجود جبری چھٹی لینے پر مجبور کردیا۔ یہی ٹکنیک وہ طالبان کے معاملے میں بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

مگر طالبان بھی چوہدری صاحب سے مظفر گڑھ کے زرخیز دریائی علاقے کے اس پٹواری کی طرح پیش آرہے ہیں جو اوپر کی وافر آمدنی اور اپنے اثر و رسوخ کے سبب دس برس سے ایک ہی جگہ براجمان تھا اور کوئی بھی اسسٹنٹ کمشنر اس کا تبادلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔آخر چوہدری نثار صاحب کی طرح کا ایک ذہین اسسٹنٹ کمشنر آیا اور اس نے پٹواری کو خط بھیجا کہ سرکار آپ کی قابلیت اور خدمات کے اعتراف میں آپ کو نائب تحصیلدار کے عہدے پر ترقی دے کر تونسہ شریف بھیج رہی ہے لہذا آپ ایک ہفتے میں اپنا چارج سنبھال لیں۔مظفر گڑھ کے مقابلے میں تونسہ ایک خشک اور غریب علاقہ تھا لہذا پٹواری نے خط پھاڑ کے پھینک دیا۔دو ہفتے بعد پٹواری صاحب کو ایک اور خط ملا کہ آپ نے اب تک نہ ترقی قبول کی ہے اور نہ ہی چارج سنبھالا ہے۔ اگلے تین روز میں آپ نے تعمیل نہ کی تو پھر ضوابط کے مطابق تادیبی کارروائی کی جائے گی۔پٹواری نے اسی خط کی پشت پر یہ لکھ کے واپس کردیا کہ


'' حضورِ والا جب فدوی ترقی نہیں کرنا چاہتا تو سرکار بہادر فدوی کو ترقی کرنے پر کیوں مجبورکررہی ہے ''۔۔۔۔۔۔۔۔

چوہدری صاحب کو طالبان آخر کیسے یقین دلائیں کہ وہ بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔موجودہ نظام کو وہ تسلیم نہیں کرتے ورنہ اسی نظام کے تحت چھپنے والے اسٹامپ پیپر پر لکھ کے دے دیتے کہ بھائی ہماری جان چھوڑو ہم مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔متعدد طالبان ترجمان بار بار کہہ چکے ہیں کہ جب تک فلاں فلاں شرائط پر عمل نہیں ہوتا، مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔حالانکہ نواز شریف وزیرِ اعظم بننے سے پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بات چیت کے عمل پر یقین رکھتے ہیں لیکن ان کے یومِ حلف کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑ کر ڈھائی سو سے زائد قیدی آزاد کرانے سے لے کے تادمِ تحریر لگ بھگ آٹھ سو تیس دہشت گرد حملوں میں تقریباً بائیس سو مزید سویلین و غیر سویلین جاں بحق ہوچکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں بات چیت مشروط ہوگی ، آپ کہتے ہیں غیر مشروط ہوگی۔وہ کہتے ہیں آپ کی حکومت امریکا کی کٹھ پتلی اور لادین پالیسیوں کی نمایندہ ہے ، آپ کہتے ہیں ہم ایک منتخب آئینی اور خود مختار حکومت ہیں۔وہ کہتے ہیں یہ جمہوریت ایک فراڈ ہے ، آپ کہتے ہیں یہ جمہوریت ایک اثاثہ ہے۔وہ کہتے ہیں ہم موجودہ آئین کو نہیں مانتے ، آپ کہتے ہیں بات چیت آئین کے دائرے میں ہوگی۔وہ کہتے ہیں پہلے مکمل شریعت نافذ کی جائے ، آپ ان کی تشریح شدہ شریعت ماننے کو تیار نہیں۔وہ کہتے ہیں پہلے ڈرون حملے بند کراؤ ، آپ کہتے ہیں ڈرون ہمارے اختیار سے باہر ہیں۔وہ کہتے ہیں سوات اور فاٹا سے فوج واپس بلاؤ ، آپ کہتے ہیں حکومت جہاں مناسب سمجھے گی فوج بھیجے گی بھی اور رکھے گی بھی۔وہ کہتے ہیں پہلے ہمارے پکڑے ہوئے لوگ رہا کرو ، آپ کہتے ہیں یہ فیصلہ عدالت اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی کلیرنس کے بغیر ممکن نہیں۔تو پھر بتائیے کہ بات چیت کن کن نکات پر ہوگی ؟

ایک طرف آپ بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نظر نہ آنے والے دشمن سے برسرِپیکار ہیں اور یہ لوگ کسی ایک جگہ موجود نہیں اور پھر آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ کچھ گروہوں سے بات چیت ہو بھی رہی ہے اور پھر آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر طالبان نے بات چیت کا راستہ اختیار نہ کیا تو ان کا تعاقب کیا جائے گا۔کیا ان سب باتوں میں کوئی ربط ہے یا پھر

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ، والی پالیسی ہے ؟

آج تک جو ہمیں بتایا ، سمجھایا یا سکھایا گیا وہ یہ ہے کہ مذاکرات تب ہوتے اور کامیاب ہوتے ہیں جب فریقین اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ مقصد یا ہدف حاصل کرنے کے دیگر طریقے ناکام ہوچکے ہیں۔بات چیت کی خاطر اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لیے کچھ بنیادی اقدامات بھی فریقین کی جانب سے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ بدزنی کے ہوتے ہوئے بات چیت آگے نہیں جاسکتی۔بات چیت کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر آگے بڑھتی ہے اور بات چیت برابری کی بنیاد پر کامیاب ہوتی ہے ورنہ اسے سرینڈر کہا جاتا ہے۔جہاں فریقین خود کو برابری کی بنیاد پر دو طرفہ بات چیت کا اہل نہیں سمجھتے تو کسی ایسے شخص یا ادارے کو بیچ میں ڈالتے ہیں جس کی غیرجانبداری اور اخلاص پر انھیں یکساں اعتماد ہو۔بات چیت ایسی جگہ پر زیادہ بہتر اور بلاتکلف ہوتی ہے جسے تیسری جگہ کہا جاتا ہے۔ بات چیت کا نتیجہ زبانی یقین دہانیوں اور وعدے وعید کی شکل میں بھلے ہی نکلے لیکن تمام تفصیلات تحریری شکل میں بھی بطور ریکارڈ اور ریفرنس رکھی جاتی ہیں۔بات چیت کے نتیجے میں جو سمجھوتہ اور میکنزم وجود میں آتا ہے اس کی نگرانی کے لیے بھی کچھ معززین کو کمیٹی یا کمیشن کی شکل میں باہمی رضامندی سے مقرر کیا جاتا ہے تاکہ عمل درآمد میں چھوٹی موٹی رکاوٹوں کی صورت میں ان معززین سے رجوع کیا جاسکے۔

مگر حکومت اور طالبان کے مذاکرات کا عمل بادی النظر میں وہیں کھڑا ہے جہاں تین ماہ قبل کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کے وقت تھا۔حتیٰ کہ کوئی ایسا ایلچی بھی نظر نہیں آرہا جس پر فریقین یکساں اعتماد رکھتے ہوں۔اب ایک ہی شکل ہے کہ کوئی ایک فریق اتنا تھک جائے کہ دوسرے کی شرائط مان لے۔ہونا شائد یہی ہے لیکن ابھی تھکنے میں کچھ وقت باقی ہے۔شائد چند ہزار لاشیں اور درکار ہوں گی قیامِ امن تک پہنچنے سے پہلے۔

تو پھر جب تھک ہار کے میز تک ہی آنا ہوتا ہے تو اتنی تباہی کیوں ضروری ہے۔ اگر اتنی آسان سی بات آدمی کی سمجھ میں آجائے تو وہ انسان کا بچہ نہ بن جائے۔۔۔۔۔ شاید اسے ہی سرشت کہتے ہیں۔۔۔۔۔
( وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.comپر کلک کیجیے )
Load Next Story