خفیہ سرگرمیوں میںملوث این جی اوزکیخلاف کارروائی کی جائے
امریکا پاکستان میں این جی اوز کومذموم مقاصد کیلیے استعمال کر رہاہے، انجینئرنوید قمر.
امریکا پاکستان میں این جی اوز کومذموم مقاصد کیلیے استعمال کر رہاہے، انجینئرنوید قمر فوٹو: فائل
جماعۃالدعوۃکراچی کے امیرانجینئر نوید قمر نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان میں این جی اوز کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
مغربی ممالک کے رفاہی ادارے ریلیف اور تعلیم کی آڑ میں سی آئی اے کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں ،سپریم کورٹ ملک میں کام کرنے والی این جی اوز کی تحقیقات کرواکرملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف قانونی کاروائی کا نوٹس جاری کرے۔
اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ غیرملکی این جی اوز باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان میں کام کرنے کے لیے بھیجی جاتی ہیں،جو امدادکی آڑ میں پاکستانی سلامتی کو نقصان پہنچانے اورمعاشرے میں بے راہ روی پھیلا نے کے مشن پرکام کررہی ہیں،انجینئر نوید قمر نے کہاکہ پاکستان میں غیرملکی بالخصوص امریکی این جی اوزکی سرگرمیاں اب خفیہ نہیں رہیں۔
بلکہ سب کے سامنے آ چکی ہیں،کئی بار این جی اوز کی گاڑیوں میںگھومنے والے غیرملکی افراد مشکوک سرگرمیوںکی وجہ سے گرفتار بھی ہوئے ہیں لیکن ان میں سے کسی کے خلاف کوئی باقاعدہ قانونی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ ہمیشہ وزارت داخلہ کی مداخلت پر ان کو چھوڑ دیا گیا، انھوں نے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی اپیل کی۔
مغربی ممالک کے رفاہی ادارے ریلیف اور تعلیم کی آڑ میں سی آئی اے کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں ،سپریم کورٹ ملک میں کام کرنے والی این جی اوز کی تحقیقات کرواکرملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف قانونی کاروائی کا نوٹس جاری کرے۔
اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ غیرملکی این جی اوز باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان میں کام کرنے کے لیے بھیجی جاتی ہیں،جو امدادکی آڑ میں پاکستانی سلامتی کو نقصان پہنچانے اورمعاشرے میں بے راہ روی پھیلا نے کے مشن پرکام کررہی ہیں،انجینئر نوید قمر نے کہاکہ پاکستان میں غیرملکی بالخصوص امریکی این جی اوزکی سرگرمیاں اب خفیہ نہیں رہیں۔
بلکہ سب کے سامنے آ چکی ہیں،کئی بار این جی اوز کی گاڑیوں میںگھومنے والے غیرملکی افراد مشکوک سرگرمیوںکی وجہ سے گرفتار بھی ہوئے ہیں لیکن ان میں سے کسی کے خلاف کوئی باقاعدہ قانونی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ ہمیشہ وزارت داخلہ کی مداخلت پر ان کو چھوڑ دیا گیا، انھوں نے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی اپیل کی۔