پاک بھارت تجارت بڑھانے کیلیے نئے راستے کھولے جائیں ڈاکٹر راگھوان
آپس میں تجارت کی بڑی گنجائش ہے، آئندہ ہفتے سارک اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرا ٹریڈکے فروغ پر بات چیت کریں گے
راولپنڈی: پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کر رہے ہیں ۔ فوٹو : آئی این پی
پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان نے دو طرفہ تجارت کے فروغ کے لیے نئے راستے کھولنے کی تجویز دیدی ہے۔
سارک ممالک کے وزرائے تجارت کا اجلاس آئندہ ہفتے بھارت میں ہو گا، اس موقع پر پاک بھارت وزرائے تجارت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ پر بات چیت کریں گے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹری کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر راگھوان کا کہنا تھا کہ رواں سال پاک بھارت تجارت میں اضافہ ہوا ہے، اب تک 2.5ارب ڈالر کی تجارت ہو چکی ہے تاہم تجارت کے فروغ کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی آزاد تجارتی معاہدے (سافٹا) سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔ راولپنڈی چیمبر کو بھرپور تعاون کایقین دلالتے ہوئے ڈاکٹر راگھوان نے کہا کہ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے چیمبرتجاویز دے، ہائی کمشن ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔ انہوں نے بتایاکہ بھارت کو پولیو فری ملک کا درجہ ملنے کے بعد پاکستان سے بھارت سفر کرنے والوں کے لیے اورل پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے حصول کی شرط رکھی ہے۔
جس کا اطلاق 30جنوری سے ہو گا، او پی وی سرٹیفکیٹ کی شرط صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پولیو وائرس کے خطرے سے دوچار تمام ممالک کے لیے ہے۔ اس سے قبل راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر شمائل داؤد آرائیں نے ہائی کمشنر کو راولپنڈی چیمبر اور کاروباری برادری کو تجارت میں درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بزنس ویزا کے حوالے سے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیاجائے، راولپنڈی چیمبر بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے حق میں ہے۔
جس سے یورپی ممالک کے ساتھ مہنگی درآمدات کے بجائے ہمسایہ ملک سے سستی ایکسپورٹ کی جا سکتی ہے جس سے ملک کا قیمتی زرمبادلہ بھی بچایا جا سکتا ہے اور علاقائی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ انھوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین بہترین تجارتی روابط قائم ہوں، دونوں ممالک کے تجارتی فروغ سے تعلقات مستحکم ہوں گے اور دونوں ممالک پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہوں گے، چینی ، تازہ خشک میوہ جات، مچھلی، ٹیکسٹائل وغیرہ پاکستان سے بھارت برآمد کیے جاتے ہیں جبکہ مرچیں، چائے اور آٹو پارٹس وغیرہ بھارت سے پاکستان درآمد کی کیے جاتے ہیں۔ صدر چیمبر نے میڈیا کو بتایا کہ راولپنڈی چیمبر آف کامرس رواں سال لدھیانہ، چندی گڑھ اور جالندھر میں تجارتی نمائش کا اہتمام کرے گا جس کے لیے بھارت سے بات چیت جاری ہے۔
سارک ممالک کے وزرائے تجارت کا اجلاس آئندہ ہفتے بھارت میں ہو گا، اس موقع پر پاک بھارت وزرائے تجارت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ پر بات چیت کریں گے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹری کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر راگھوان کا کہنا تھا کہ رواں سال پاک بھارت تجارت میں اضافہ ہوا ہے، اب تک 2.5ارب ڈالر کی تجارت ہو چکی ہے تاہم تجارت کے فروغ کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی آزاد تجارتی معاہدے (سافٹا) سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔ راولپنڈی چیمبر کو بھرپور تعاون کایقین دلالتے ہوئے ڈاکٹر راگھوان نے کہا کہ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے چیمبرتجاویز دے، ہائی کمشن ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔ انہوں نے بتایاکہ بھارت کو پولیو فری ملک کا درجہ ملنے کے بعد پاکستان سے بھارت سفر کرنے والوں کے لیے اورل پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے حصول کی شرط رکھی ہے۔
جس کا اطلاق 30جنوری سے ہو گا، او پی وی سرٹیفکیٹ کی شرط صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پولیو وائرس کے خطرے سے دوچار تمام ممالک کے لیے ہے۔ اس سے قبل راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر شمائل داؤد آرائیں نے ہائی کمشنر کو راولپنڈی چیمبر اور کاروباری برادری کو تجارت میں درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بزنس ویزا کے حوالے سے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیاجائے، راولپنڈی چیمبر بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے حق میں ہے۔
جس سے یورپی ممالک کے ساتھ مہنگی درآمدات کے بجائے ہمسایہ ملک سے سستی ایکسپورٹ کی جا سکتی ہے جس سے ملک کا قیمتی زرمبادلہ بھی بچایا جا سکتا ہے اور علاقائی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ انھوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین بہترین تجارتی روابط قائم ہوں، دونوں ممالک کے تجارتی فروغ سے تعلقات مستحکم ہوں گے اور دونوں ممالک پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہوں گے، چینی ، تازہ خشک میوہ جات، مچھلی، ٹیکسٹائل وغیرہ پاکستان سے بھارت برآمد کیے جاتے ہیں جبکہ مرچیں، چائے اور آٹو پارٹس وغیرہ بھارت سے پاکستان درآمد کی کیے جاتے ہیں۔ صدر چیمبر نے میڈیا کو بتایا کہ راولپنڈی چیمبر آف کامرس رواں سال لدھیانہ، چندی گڑھ اور جالندھر میں تجارتی نمائش کا اہتمام کرے گا جس کے لیے بھارت سے بات چیت جاری ہے۔