ایس ای سی پی نے کوڈ آف کارپوریٹ گورننس میں ترامیم کردیں

لسٹڈکمپنیوں میں چیف فنانشل آفیسراورانٹرنل آڈٹ سربراہ کیلیے اہلیت کی شرائط نرم کردی گئیں

اب لسٹڈ کمپنیاں رضاکارانہ طور پر آڈٹ کمیٹی کیلیے خود مختار چیئرمین تعینات کرنے کیلیے آزاد ہوں گی۔ فوٹو: فائل

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک میں گڈگورننس کے فروغ اور لسٹڈ کمپنیوں کے لیے ان قواعد میں عمل درآمد آسان بنانے کے پیش نظر کوڈ آف کارپوریٹ گورننس میں ترامیم متعارف کرا دی ہیں۔

ان ترامیم کے ذریعے لسٹڈ کمپنیوں کے لیے چیف فنانشل آفیسر اور کمپنیوں کے انٹرنل آڈٹ کے سربراہ کے تقرر کے لیے اہلیت کی شرائط میں نرمی کی گئی ہے، کوڈ میں ترمیم کے ذریعے لسٹڈ کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر اور چیف آڈٹ آفیسر کے لیے فیلڈ میں متعلقہ تجربے کی حد 5 سال سے کم کر کے 3 سال کر دی گئی ہے جبکہ کسی میں کمپنی میں آڈٹ یا اکاؤنٹنگ ڈپارمنٹ میں کام کرنے کا تجربہ ہی متعلقہ تجربے میں شمار ہو گا۔ مزید برآں لسٹڈ کمپنیوں میں آڈٹ کمیٹی کیلیے انڈیپنڈنٹ (آزاد) چیئرمین تعینات کرنے کی لازمی شرط میں بھی نرمی کر دی گئی ہے اور اب لسٹڈ کمپنیاں رضاکارانہ طور پر آڈٹ کمیٹی کیلیے خود مختار چیئرمین تعینات کرنے کیلیے آزاد ہوں گی۔




اس طرح کمپنی کے نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو چیئرمین آڈٹ کمیٹی تعینات کیا جا سکے گا۔ کوڈ آف کارپوریٹ گورننس میں یہ ترامیم انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹ کی مشاورت سے کی گئیں ہیں جن کا مقصد لسٹڈ کمپنیوں کیلیے ان قواعد پر عمل درآمد کو آسان اور یقینی بنانا ہے، ان ترامیم سے فنانس اور آڈٹ کی فیلڈ میں نئے آنے والوں کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔
Load Next Story