2006میں نشترپارک میں ہولناک سانحہ پیش آیا تھا

نماز مغرب کے دوران خوفناک دھماکے سے60سے زائد علما،حفاظ اور طلبہ شہید ہوئے

امسال عیدمیلاد النبیؐ کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کیلیے 5ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ فوٹو : فائل

نشترپارک میں 11 اپریل 2006 (12 ربیع الاول) کو دہشت گردی کا ہولناک سانحہ پیش آیا ۔

جب نشترپارک میں عید میلاد النبیؐ کے جلسے میں عین مغرب کی نماز کے دوران خوفناک بم دھماکا ہوا جس میں 60 سے زائد علما، حفاظ، قائدین و طلبہ شہید ہوگئے شہدا میں سابق رکن قومی اسمبلی حافظ محمد تقی، سنی تحریک کے سربراہ محمد عباس قادری، افتخاراحمد بھٹی، مولانا اکرم قادری، حاجی حنیف بلو، مولانا مختارقادری، سید فرید الحسنین کاظمی، حافظ محمد ادریس قادری، عبدالقدیر عباسی، مولانا عبدالوحید بندیالوی، حافظ محمد شہزاد قادری و دیگر شامل تھے، علاوہ ازیں امسال عیدمیلاد النبیؐ کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کیلیے 5ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔




جلوس میں خواتین اور بچوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے، مجموعی طور پر شہر میں 290 چھوٹے بڑے جلوس نکالے جائیں گے جن کی حفاظت کیلیے ڈیڑھ ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی کے فرائض انجام دیں گے، عیدمیلاد النبیؐ کے مرکزی جلوس اور نشترپارک کے جلسہ عام کی سیکیورٹی کیلیے جماعت اہلسنت کراچی کے 1500 رضا کار اور اسکائوٹس بھی فرائض انجام دیں گے۔
Load Next Story