سعودی عرب ایران مفاہمت و خیر سگالی

آج حقیقت میں عرب و عجم میں ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کا احساس ہوگا۔

آج حقیقت میں عرب و عجم میں ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کا احساس ہوگا۔ فوٹو: فائل

مشرق وسطیٰ کی سیاست میں بلاشبہ ایک غیر معمولی پیراڈائم شفٹ آ رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عرب دنیا سمیت عالم اسلام کے لیے سعودی عرب اور ایران میں مفاہمت، خیر سگالی اور ہمسائیگی میں موجودہ سیاسی تلخی اور تناؤ میں کمی سے علاقے کی سیاسی ترتیب اور تعلقات میں بہتری کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور ایران میں مفاہمت ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے جس کے دور رس اثرات سے عالمی سیاست اور ایران سے دیگر عالمی طاقتوں کے تعلقات کی کیمسٹری بھی ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، مشرق وسطیٰ کی تزویراتی، سیاسی، اقتصادی، اور سفارتی ڈائنامکس کے نتیجہ خیز ثمرات سامنے آسکتے ہیں۔

قریبی ممالک نے اس مفاہمت کو سیاسی اشتراک، اقتصادی و دفاعی تعلقات کے ضمن میں ایک قابل تعریف اقدام قرار دیا اور کہا کہ سعودی عرب اور ایران دوستی کی طرف سفر عالمی امن اور مشرق وسطی میں سیاسی صورت گری کے امکانات کو زیادہ معنویت عطا کریگا اور جو دور حاضر کی ایک نمایاں کثیر جہتی سیاسی بریک تھرو ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ''ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہم تہران کے ساتھ اچھے اور خاص تعلقات چاہتے ہیں ''۔ ولی عہد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور سعودی عرب کے سینئر عہدیداران کے مابین عراق میں ''خفیہ بات چیت'' کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ سعودی عرب کے قومی چینل پر صحافی عبد اللہ المودائفر کو دیے گئے تقریباً 90 منٹ کے انٹرویو میں ولی عہد نے سعودی عرب کے امریکا، یمن اور ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات چیت کی۔

ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے شہزادہ سلمان سے پوچھا گیا کہ کیا دونوں ممالک تصفیہ طلب معاملات پر کسی فیصلے پر پہنچنے کی کوئی کوشش کر رہے ہیں؟۔ ولی عہد کا کہنا تھا ''ہم نہیں چاہتے کہ ایران کی صورتحال مزید خراب ہو، اس کے برعکس، ہم چاہتے ہیں کہ ایران ترقی کرے اور خطے اور دنیا کو خوشحالی کی طرف لے جائے''۔ ان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں امید ہے کہ ہم مسائل کا حل نکال لیں گے اور ایران کے ساتھ اچھے اور مثبت تعلقات استوار کریں گے جس سے تمام فریقین کو فائدہ ہو گا۔''

ایران اور سعودی عرب خطے میں ایک دوسرے کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوششیں کرتے آئے ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کیا اور پھر سفارتی تعلقات منقطع کر دیے۔ تاہم ایران کے حوالے سے سعودی عرب ولی عہد کا لہجہ پہلی مرتبہ نرم ہوا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران سعودی عرب تنازع بیسویں صدی کا مشکل ترین اور پیچیدہ سیاسی سوال تھا، تاہم سعودی عرب اور ایران میں مفاہمت اور خیر سگالی ایک ''چنگھاڑ'' بن کر سنی گئی ہے۔


عالمی قوتوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام اور ایران کی سلامتی و اقتصادی مسائل کو ہمیشہ اپنے ایجنڈے سے مربوط رکھا، مغرب نے ایران کو بگولے کے رقص میں مصروف رکھا اور عالمی استعماری طاقتوں نے ایران کی سعودی عرب سے اس کی دوستی، مفاہمت اور خیرسگالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا، سپر پاورز کی خواہش بھی مشرق وسطیٰ کو نہ امن اور نہ جنگ جیسی صورتحال میں الجھتی رہی۔

آج حقیقت میں عرب و عجم میں ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کا احساس ہوگا، عالم اسلام کے لیے پاکستان کی کوششوں اور اس روح پرور موقعے پر اہل وطن کی خوشی قابل دید ہے، جب کہ فلسطین، شام، عراق، لبنان و یمن میں سیاسی و جمہوری استحکام، امن کے چراغ روشن ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے، حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کے دشمنوں کے لیے ایران اور سعودی مفاہمت ایک سونامی ہے، یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ بحالی امن کے حوالے سے سعودی عرب کی کاوش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا ایران ہمارا ہمسایہ تو سعودی عرب قریب ترین دوست ہے۔ امن کی جانب اٹھایا گیا یہ قدم امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ تقویت ہو گا۔

یہ ایک خوش آیند حقیقت ہے کہ ایران و سعودی عرب ''دیتانت '' بہت نمایاں کامیابی ہے، اس تلخی میں دہائیاں گزر گئیں، خطے کی سیاست، معیشت، سفارت اور تاریخی و روحانی تعلقات اور رشتوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، دشمنوں نے ہمیشہ دو ہمسایہ ملکوں میں غلط فہمیوں، بد اعتمادی اور تلخیوں کے بیج بوئے، ایران کی سلامتی کے لیے امریکا نے کئی منصوبے بنائے، ایران کے ایٹمی معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے ہر سطح پر ریشہ دوانیوں کے جال بچھائے، مگر صدر جوبائیڈن نے سیاسی دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔

ایران سے تنازع کو ڈونلڈ ٹرمپ جس ہولناک سطح پر لے گئے اسے جوبائیڈن نے دوطرفہ تعلقات کی تدبیر اور جمہوری اسپرٹ کے ساتھ مدھم کیا، ایران نے بھی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا اور آج اس کا نتیجہ ایک کثیر جہتی مفاہمت کے باثمر مکالمہ کی صورت سامنے آگیا۔ لیکن اس سچائی کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے مابین خیر سگالی کے لیے ناقابل یقین جوش وجذبہ اور جمہوری و سیاسی حکمت و دانائی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

وزیر اعظم عمران خان کی دور اندیشی ایک بڑی پیش رفت بن کر قوم کے سامنے آگئی، یہ کامیابی ملکی سیاسی ٹمپریچر میں کمی کے لیے بھی لانی چاہیے، اس کی قوم کو ضرورت ہے۔
Load Next Story