پچزکی تیاریمشاورت کے عمل میں کپتان شریک رہے
پلان ناکام رہنے کے سبب دبئی ٹیسٹ ہارنے پر اس حوالے سے واویلا مچایا،ذرائع
پاکستانی بیٹسمینوں کو’’فارم‘‘ میں لانے کیلیے شارجہ میں فلیٹ پچ تیار کر لی گئی فوٹو: اے ایف پی
ٹیم کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یو اے ای سیریز کے لئے پچز کی تیاری میں کپتان مصباح الحق کی مکمل مشاورت شامل رہی تاہم پلان ناکام رہنے پر انھوں نے اس حوالے سے واویلا مچایا،اب شارجہ میں پاکستانی بیٹسمینوں کو ''فارم'' میں لانے کیلیے فلیٹ پچ تیار کر لی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق دبئی ٹیسٹ میں پاکستان کو 9 وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا،مصباح نے اس کا ملبہ پچ پر ڈالتے ہوئے کہاکہ ''ٹیم کی اصل قوت اسپنرز کے لئے اس میں کچھ نہ تھا''۔ اس حوالے سے نمائندہ ''ایکسپریس'' نے جب مختلف ذرائع سے حقائق کا پتا لگایا تو علم ہواکہ درحقیقت کپتان پچز کی تیاری کے مکمل عمل میں شریک رہے ہیں، سلیکٹرز اور چیئرمین بورڈ نجم سیٹھی کی موجودگی میں انھوں نے کہا تھا کہ ''تھوڑی گھانس کی حامل بائونسی اور پیسرز کے لئے سازگار وکٹیں بنائی جائیں''، اس وقت انھیں خدشہ تھا کہ اسپنرز فرینڈلی پچ پر سری لنکن سلو بولرز خصوصاً رنگانا ہیراتھ پاکستان کو ہی مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔
مصباح کی فرمائش پر کوشش کی گئی کہ پچ سے فاسٹ بولرز کو بھی مدد ملے،اس کا نقصان یہ ہوا کہ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستانی ٹیم ہی165 رنز پر ڈھیر ہو گئی، ناکامی کے بعد مصباح کو کچھ اور نہ سوجھا تو پچ کو ہی مورد الزام ٹھہرا دیا، اس سے قبل ابوظبی میں بھی ابتدا میں پچ سے پیسرز کو مدد ملی تھی جس کی وجہ سے پاکستان نے پہلی اننگز میں سری لنکا کو 204پر ٹھکانے لگایا، مصباح یہ بات اچھی طرح جانتے تھے اسی لیے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کو ترجیح دی تھی، دوسرے میچ میں ٹاس ہارنے سے معاملہ خراب ہوا، کوچ ڈیو واٹمور بھی اس کا اعتراف کر چکے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حالیہ سیریز کیلیے پچز اماراتی کیوریٹرز نے تیار کیں البتہ انھیں پی سی بی نے ہی ہدایات دی تھیں، ابوظبی میں موہن، دبئی میں ٹونی ہیمنگز اور شارجہ میں یہ کام جمیل نے انجام دیا۔ اب پاکستانی بیٹسمینوں کی ''فارم'' واپس لانے کیلیے شارجہ ٹیسٹ کیلیے مکمل فلیٹ پچ تیار کی جا رہی ہے، جمعرات سے شروع ہونیوالے اس میچ میں رنز کے انبار لگنے کی توقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق دبئی ٹیسٹ میں پاکستان کو 9 وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا،مصباح نے اس کا ملبہ پچ پر ڈالتے ہوئے کہاکہ ''ٹیم کی اصل قوت اسپنرز کے لئے اس میں کچھ نہ تھا''۔ اس حوالے سے نمائندہ ''ایکسپریس'' نے جب مختلف ذرائع سے حقائق کا پتا لگایا تو علم ہواکہ درحقیقت کپتان پچز کی تیاری کے مکمل عمل میں شریک رہے ہیں، سلیکٹرز اور چیئرمین بورڈ نجم سیٹھی کی موجودگی میں انھوں نے کہا تھا کہ ''تھوڑی گھانس کی حامل بائونسی اور پیسرز کے لئے سازگار وکٹیں بنائی جائیں''، اس وقت انھیں خدشہ تھا کہ اسپنرز فرینڈلی پچ پر سری لنکن سلو بولرز خصوصاً رنگانا ہیراتھ پاکستان کو ہی مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔
مصباح کی فرمائش پر کوشش کی گئی کہ پچ سے فاسٹ بولرز کو بھی مدد ملے،اس کا نقصان یہ ہوا کہ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستانی ٹیم ہی165 رنز پر ڈھیر ہو گئی، ناکامی کے بعد مصباح کو کچھ اور نہ سوجھا تو پچ کو ہی مورد الزام ٹھہرا دیا، اس سے قبل ابوظبی میں بھی ابتدا میں پچ سے پیسرز کو مدد ملی تھی جس کی وجہ سے پاکستان نے پہلی اننگز میں سری لنکا کو 204پر ٹھکانے لگایا، مصباح یہ بات اچھی طرح جانتے تھے اسی لیے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کو ترجیح دی تھی، دوسرے میچ میں ٹاس ہارنے سے معاملہ خراب ہوا، کوچ ڈیو واٹمور بھی اس کا اعتراف کر چکے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حالیہ سیریز کیلیے پچز اماراتی کیوریٹرز نے تیار کیں البتہ انھیں پی سی بی نے ہی ہدایات دی تھیں، ابوظبی میں موہن، دبئی میں ٹونی ہیمنگز اور شارجہ میں یہ کام جمیل نے انجام دیا۔ اب پاکستانی بیٹسمینوں کی ''فارم'' واپس لانے کیلیے شارجہ ٹیسٹ کیلیے مکمل فلیٹ پچ تیار کی جا رہی ہے، جمعرات سے شروع ہونیوالے اس میچ میں رنز کے انبار لگنے کی توقع ہے۔