انتخابی اصلاحات وقت کی ضرورت

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تحت ووٹ کے ٹریل کا سسٹم بنانا انتہائی ضروری ہے

موجودہ انتخابی نظام نے قوم پرستی،علاقائیت اور قبائلی ازم کو فروغ دیا ہے فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ میں اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ انتخابی اصلاحات پر ہمارے ساتھ بیٹھیں ،ہماری حکومت انتخابی نظام میں اصلاحات لانے کے لیے پرعزم ہے ، ٹیکنالوجی کے استعمال سے انتخابی نظام میں شفافیت آئے گی۔

انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے2020 کاامریکی الیکشن متنازع بنانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے کوئی انتخابی بے ضابطگی ثابت نہ ہوسکی، ایک سال سے اپوزیشن کو کہہ رہے ہیں انتخابی اصلاحات میں ہمارا ساتھ دے۔

انتخابی اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم کا اپوزیشن کو دعوت دینا ایک مستحسن اور صائب اقدام قرار دیا جاسکتا ہے ، اس بارے میں پہلا اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتخابی اصلاحات کے بعد دھاندلی کے الزامات سے پاک الیکشن ممکن ہو پائیں گے؟ اگرچہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں ای وی ایم کے ذریعے ہی انتخابات کرائے جاتے ہیں ،ای ووٹنگ میں صاف شفاف انتخابات کے لیے دو بنیادی چیزیں جن میں ووٹ کی درست گنتی اور سسٹم ہیک نہ ہونا انتہائی ضروری ہیں۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تحت ووٹ کے ٹریل کا سسٹم بنانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اگر دھاندلی کا کوئی الزام لگاتا ہے تو آپ کیسے ثابت کریں گے کہ دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں؟جیسا کہ 2018کے عام انتخابات میں آرٹی ایس سسٹم متعارف کروایا گیا اور وہی ٹیکنالوجی پورے انتخابات کے متنازع ہونے کی وجہ بن گئی۔

ایک رائے یہ بھی سامنے آتی ہے کہ بجائے پرانی ٹیکنالوجی کی طرف جانے کے انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے الیکشن ہونے چاہیے تاکہ اس سارے عمل پر اعتماد بحال رہے۔ مثال کے طور پربھارت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کروائے جاتے ہیں جب کہ بنگلہ دیش میں بھی گزشتہ انتخابات میں اس نظام کو آزمائشی طور پر استعمال کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں بھی ای وی ایم کے ذریعے ہی انتخابات کرائے جاتے ہیں جب کہ امریکا میں ووٹوں کی گنتی مشین کے ذریعے کی جاتی ہے ۔

کسی بھی ملک کے نظام کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے اور اسے عوامی خواہشات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات کی ہمیشہ گنجائش ہوتی ہے۔پاکستان میں بھی آئینی، انتظامی، قانونی، انتخابی، عدالتی اور معاشی اصلاحات کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وقت کے ساتھ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں انھیں مزید بہتر بنایا جا سکے۔قیام پاکستان کے وقت سے ہی ملک میں ہونے والے تقریباً ہر الیکشن کے بعد ان کے دھاندلی زدہ ہونے کے الزامات لگتے رہے۔1973کے آئین میں صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات یقینی بنانے کی ضمانت موجود ہے مگر طریق کار پر اختلافات رفع نہیں ہو سکے۔

سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعد پھر ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ جامع انتخابی اصلاحات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کیا جائے،اگرچہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کی وسیع خلیج حائل ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کی پیش کش پر فوری ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی تجویز مسترد کر تے ہوئے کہا کہ ملک کی ساکھ انصاف، شفافیت اور قانون کی حکمرانی سے بہتر ہوتی ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے نہیں۔

انتخابی اصلاحات تمام فریقین کی مشاورت، عوام کی رائے کی روشنی اور اتفاق رائے سے ممکن ہوتی ہیں۔ ہم ان سطور کے ذریعے قومی سیاسی قیادت سے اپیل کرتے ہیں کہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاست سے بالاتر ہو کر نہ صرف انتخابات بلکہ ملکی نظام کے ہر شعبے میں اتفاق رائے سے اصلاحات لائی جائیں اور پارلیمنٹ میں بحث و تمحیص کے بعد انھیں حتمی شکل دی جائے۔

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات ایک روایت بن چکی ہے ، جوانتخابی عمل کو نہ صرف مشکوک بناتی ہے بلکہ اس کی شفافیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں ، لیکن اصلاحات کے عمل کو کسی بھی حکومت نے سنجیدگی سے سرانجام نہیں دیا ہے ،سب نے وقت گزاری کے چلن کو اپنایا ہے ، جس کی وجہ سے موجودہ انتخابی نظام میں خرابیاں جڑ پکڑ چکی ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات ، وسائل اور فنڈز انتہائی محدود ہیں ۔سب کے علم میں ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ الیکشن کمیشن پر حکومتی وزیروں کی نکتہ چینی اداروں کو متنازعہ بنانے کے مترادف ہے حالانکہ وزیراعظم عمران خان اداروں کو مضبوط کرنے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔


انتخابی نظام میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے ۔ دراصل پاکستان کا موجودہ انتخابی نظام 12 ویں صدی کا قدیم ترین نظام ہے، جس کے لیے فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ کی اصطلاح یعنی ایف پی ٹی پی استعمال ہوتی ہے۔ایف پی ٹی پی سسٹم میں زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار فاتح کہلاتا ہے،ووٹر صرف اپنے انتخابی حلقے میں اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام پر مہر لگاتا ہے اور سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار جیت جاتا ہے۔

یہ نظام قانون سازی کے عمل کی شفافیت کے لیے ایک واضح اپوزیشن تشکیل دیتا ہے۔حلقہ بندیوں اور ان کے نمایندوں کے مابین روابط کو فروغ ملتا ہے۔ ووٹرز جماعتوں کے بجائے لوگوں کے درمیان انتخاب کرسکتے ہیںجب کہ مقبول آزاد امیدواروں کے منتخب ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے گو کہ یہ نظام سادہ اور سمجھنے میں آسان لگتا ہے، لیکن اس میں خامیاں بھی پائی جاتی ہیں، جیسا کہ چھوٹی جماعتوں کو 'منصفانہ' نمائندگی کا موقع کم ملتا ہے،ایک اصول کے مطابق اقلیتوں کو منصفانہ نمائندگی سے خارج کیا گیا ہے ، خواتین کے براہ راست منتخب ہونے کے مواقعے انتہائی کم اور مسدود ہیں ۔

موجودہ انتخابی نظام برادری سسٹم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے جہاں ایک پارٹی کسی صوبے یا علاقے کی تمام سیٹیں جیت لیتی ہے، اگر کسی جماعت کو کسی ملک کے کسی خاص حصے میں زبردست حمایت حاصل ہے تو وہ کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کرتی ہے تو وہ اس علاقے کی تمام یا قریب قریب تمام سیٹیں جیت لے گی۔

بیشمار ووٹ غیر واضح ہونے کی وجہ سے مسترد کرکے ضایع کردیے جاتے ہیں۔ اس نظام سے ووٹ تقسیم ہونے کا سبب بن سکتا ہے جہاں دو جماعتیں یا امیدوار مقابلہ کرتے ہیں۔ ملک کی انتخابی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو 1970سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے ہونے والے ہر انتخابات ایف پی ٹی پی نظام کے تحت ہوئے ہیںاورہمیشہ پاکستان میں کم ٹرن آؤٹ نے انتخابات کو متاثر کیا ہے۔

صرف چار انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا عمل 50 فیصد سے زیادہ تھا، جب کہ دیگر انتخابات میں رائے دہندگان کی تعداد 35 فیصد سے 45 فیصد تک ہے۔رائے دہندگان کی عدم دلچسپی کی بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ووٹرز کو یقین ہے کہ ان کے ووٹ سے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا یہی وجہ ہے کہ لوگ انتخابی عمل سے الگ ہوگئے ہیں، جیسا کراچی کے حلقہ قومی اسمبلی 249 کے انتخابات کے دوران ووٹنگ کی شرح انتہائی کم ترین رہی ، اور اس پر تنازعات نے بھی جنم لیا ، اصولی طور پر ووٹنگ کی شرح انتہائی کم رہنے پر الیکشن کے عمل کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخاب کا انقعاد کروایا جانا چاہیے۔

کیونکہ قومی اسمبلی کی نشست جیتنے والا امیدوار صرف سولہ ہزار ووٹ لے کر جیتے تو یہ بھی ایک مذاق سے کم نہیں ہے ،جب کہ مخالف امیدواروں کے کل ووٹ کئی گنا زائد ہوں ۔یہ حقیقی نمایندگی سے عاری نظام محسوس ہوتا ہے ، اس کا حل ترکی کی طرز پر دو سب سے زائد ووٹ لینے امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ کروانا اور پچاس فی صد ووٹوں کا حصول بھی لازمی قراردیا جانا چاہیے ۔

دوسری جانب یہ امربھی انتہائی پریشان کن ہے کہ فاتح جماعتوں نے کل رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 15% سے 20% تک ہی ووٹ حاصل کیے۔مزید 20% سے 25% رائے دہندگان نے دوسری پارٹیوںکو ووٹ دیا جب کہ 55% سے 65% نے ووٹ ڈالنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ کل ووٹوں میں سے صرف 15 سے 20 فیصد ووٹ لینے والی جماعت کاپوری 100% فیصد آبادی پر حکومت کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انتخابی نظام کو لوگوں کے حقیقی مینڈیٹ کی عکاسی کرنی چاہیے اور صرف حقیقی اکثریت حاصل کرنے والے کو ہی ملک پر حکمرانی کرنی چاہیے۔

اگر موجودہ انتخابی نظام پر مزید بات کی جائے تو اس نظام نے قوم پرستی،علاقائیت اور قبائلی ازم کو فروغ دیا ہے۔ پاکستان میں موجودہ انتخابی نظام نے قوموںاور برادریوں کو فرقوں میں تقسیم کردیا ہے،لہذا یہ بات وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے کہ موجودہ انتخابی نظام اور عمل میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ عوام اپنے حقیقی نمایندوں کا انتخاب کرسکیں ، اس وقت ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک واضح خلیج دکھائی دیتی ہے، 2018کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف واحد جماعت تھی جس نے چاروں صوبوں سے ووٹ حاصل کیے۔

ہمیں موجودہ سسٹم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ، کچھ حلقے صدارتی اور کچھ متناسب نمایندگی کے نظام کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ کسی بھی انتخابی نظام کے ساتھ متناسب نمائندگی کے فوائد اور نقصانات ہیں۔ اس کے بنیادی فوائد یہ ہیں کہ اس سے اکثریت رائے کو فوقیت حاصل ہوتی ہے اوراس سے پارٹیوں کو اپنے گھر سے باہر انتخابی مہم چلانے کی ترغیب ملتی ہے۔ تاہم اس نظام کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی بڑی پارٹی کو اتحادی جماعتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے،جس کے نتیجے میں قانون سازی کے عمل میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔

حالیہ سینیٹ اور ضمنی انتخابات کے بعد جو تلخیاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بصورت ایک خلیج جنم لے چکی ہیں ،اس خلیج کو پاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہماری تمام قومی سیاسی جماعتوں کی قیادت تدبر اور فہم وفراست کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ایک میز کے گرد بیٹھ کر مسئلے کا صائب حل نکالیں ،اب ملک میں انتخابی نظام میں اصلاحات اور تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔وزیراعظم متعلقہ ماہرین اور منتخب ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک کمیشن قائم کریں،جس کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔
Load Next Story