جماعت اسلامی نے بلدیاتی آرڈیننس کیخلاف ہڑتال کی حمایت کردی
آئندہ الیکشن کیلیے امیدوارنامزدکردیے،سیاسی اتحادیاسیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے، منورحسن۔
آئندہ الیکشن کیلیے امیدوارنامزدکردیے،سیاسی اتحادیاسیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے، منورحسن۔ فوٹو: آئی این پی/ فائل
KARACHI:
جماعت اسلامی کے مرکزی امیرسیدمنورحسن نے سندھ میںبلدیاتی آرڈیننس کیخلاف ہڑتال کی مکمل حمایت کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی اس ہڑتال کاحصہ بنے گی۔
پشاورمیںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاہے کہ جماعت اسلامی نے آئندہ الیکشن کے لیے ملک بھرمیںقومی اورصوبائی اسمبلیوںکے امیدوارنامزدکردیے ہیںملکی یا صوبائی سطح پر کسی سیاسی جماعت سے اتحادیاسیٹ ٹوسیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے۔ حکمران ملک بھرمیںبدامنی پیداکرنے کے لیے شمالی وزیرستان میںفوجی آپریشن کاآغازکررہی ہے جسکے بعدملک میںایمرجنسی نافذکرکے انتخابات کوملتوی کرنے کابہانہ بنایاجائے گا۔
دراصل صدرزرداری یہ چاہتے ہیںکہ وہ عام انتخابات کوکسی نہ کسی بہانے ایک سال یااس سے زیادہ عرصے کے لیے ملتوی کروا کر موجودہ اسمبلیوںسے خودکودوبارہ صدرمنتخب کروائیںاوربعد میںانتخابات کروا کر دوبارہ اقتدارپرقبضہ کر لیںجبکہ ملک کی سیاسی صورتحال کاتقاضاہے حکمرانوں کو شفاف انتخابات کرانے پر مجبور کیا جائے تاہم بدقسمتی سے سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کی دعویدارن لیگ کارویہ انتہائی مایوس کن ہے۔
جماعت اسلامی کے مرکزی امیرسیدمنورحسن نے سندھ میںبلدیاتی آرڈیننس کیخلاف ہڑتال کی مکمل حمایت کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی اس ہڑتال کاحصہ بنے گی۔
پشاورمیںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاہے کہ جماعت اسلامی نے آئندہ الیکشن کے لیے ملک بھرمیںقومی اورصوبائی اسمبلیوںکے امیدوارنامزدکردیے ہیںملکی یا صوبائی سطح پر کسی سیاسی جماعت سے اتحادیاسیٹ ٹوسیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے۔ حکمران ملک بھرمیںبدامنی پیداکرنے کے لیے شمالی وزیرستان میںفوجی آپریشن کاآغازکررہی ہے جسکے بعدملک میںایمرجنسی نافذکرکے انتخابات کوملتوی کرنے کابہانہ بنایاجائے گا۔
دراصل صدرزرداری یہ چاہتے ہیںکہ وہ عام انتخابات کوکسی نہ کسی بہانے ایک سال یااس سے زیادہ عرصے کے لیے ملتوی کروا کر موجودہ اسمبلیوںسے خودکودوبارہ صدرمنتخب کروائیںاوربعد میںانتخابات کروا کر دوبارہ اقتدارپرقبضہ کر لیںجبکہ ملک کی سیاسی صورتحال کاتقاضاہے حکمرانوں کو شفاف انتخابات کرانے پر مجبور کیا جائے تاہم بدقسمتی سے سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کی دعویدارن لیگ کارویہ انتہائی مایوس کن ہے۔