کورونا وائرس اور بے پروائی کا چلن

حکومت کا انسانی جانوں کے تحفظ کی خاطر سخت پابندیاں عائد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔

حکومت کا انسانی جانوں کے تحفظ کی خاطر سخت پابندیاں عائد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ فوٹو: فائل

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق کوروناوائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے8 سے16مئی تک تمام کاروباری مراکز، دکانیں اور سیاحتی مقامات بند رہیں گے، جب کہ پاکستان نے کورونا پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر افغانستان اور ایران کے ساتھ زمینی سرحدیں عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔

ملک بھر میں ایک دن میں مزید 161 افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں۔ بلاشبہ وطن عزیز میں کورونا وائرس کی تیسری لہر شدت اختیار کرتی جارہی ہے ، وبائی مرض کا پھیلاؤ اس لیے بھی زیادہ ہورہا ہے کہ عوام نے احتیاطی تدابیر کو یکسر نظرانداز کردیا ہے ، عید کی آمدآمد ہے تو شاپنگ کا جنون سرچڑھ کر بول رہا ہے ، ہجوم میں کوئی بھی ماسک پہنے نظر نہیں آتا ۔ ہم اس حقیقت سے نظر نہیں چرا سکتے کہ پوری دنیا میں 32لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ آئے دن ہزاروں کی تعداد میں نئے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں مگر عوام ذرا احتیاط نہیں برت رہے۔

عام مشاہدے میں آیا ہے کہ انسانوں کا ایک دوسرے سے مناسب فاصلے سے گزر کر جانا محال ہے، ہر جگہ، ہر دکان، ہر بازار میں یہی عالم ہے، نہ کوئی ماسک اور نہ حکومتی ایس او پیز پر کوئی عمل کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ، جب کہ رمضان المبارک میں رعایتی بازاروں میں بھی انسانوں کا جم غفیر نظر آرہا ہے ۔ ایک جانب تو روزانہ کی بنیاد پر حکومتی وزراء اعلان کرتے ہیں کہ کورونا ایس اوپیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا ، لیکن عملی طور ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کوئی نہیں کررہا، حکومتی سطح پر صرف اعلانات ہورہے ہیں ، اور عوام بازاروں میں رش لگاکر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں ۔

یہ طرزعمل کسی بھی طور درست نہیں ہے ، قوم اپنے رویے پر نظر ثانی کرے ، جب کہ حکومت کا انسانی جانوں کے تحفظ کی خاطر سخت پابندیاں عائد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او اور پاکستانی ڈاکٹرز بار بار تنبیہ کرچکے ہیں کہ تیزی سے کورونا کیسز بڑھنے کا شدید اندیشہ ہے مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر اور مسائل کے شکار ملک میں زیادہ آبادی غربت کا شکار ہے اور ان کا واحد ذریعہ معاش محنت مزدوری ہے، لاک ڈاؤن کی صورت میں ایسے خاندانوں کی حالت فاقوں تک پہنچ جاتی ہے ، ایسے صورت حال میں حکومت کے لیے بھی فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ پبلک کو کورونا سے بچانا ہے کہ غربت سے۔

کورونا وبائی مرض کے باعث زندگی کے تمام شعبے حد درجہ متاثر ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والا تعلیم کا شعبہ ہے۔ وبائی مرض کی وجہ سے پیدا شدہ اندیشوں اور خدشات کے اطمینان بخش جواب آج بھی سائنسی علوم کے ماہرین کے پاس موجود نہیں ہیں۔ اندیشوں،خدشات اور مفروضات کے نرغے میں پھنسے انسانی ذہنوں نے اس کا واحد اور موثر حل لاک ڈاؤن جان کر دنیا بھر میں کاروبار زندگی پر لگام کس دی اور یک لخت ساری دنیا کو ساکت و جامد کر کے رکھ دیا۔ اس کے باوجود وباء کے پھیلاؤ میں آج بھی کوئی کمی نظر نہیں آرہی ہے۔

وباء سے پیدا شدہ تعلیمی بحران وخلاء نے طلبہ کو نا قابل تلافی تعلیمی نقصان سے دو چار کر دیا ہے وہیں تعلیمی اداروں اور اس سے منسلک افراد بھی غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن کی وجہ سے متعدد مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔ مرض کی شدت اور خوف سے نہ صرف اسکولوں کو بند کر دیا گیا بلکہ طلبہ کو اپنے گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ موجودہ صورت حال میں والدین اور بچوں کا جذباتی ونفسیاتی ہیجان میں مبتلا ہو جانا ایک فطری عمل ہے۔

ملک میں اسکولوں اور تعلیمی ادارہ جات کی طویل امکانی بندش کے پیش نظر تعلیمی نظام میں تیز رفتار تبدیلیوں کو رواج دینا بے حد ضروری ہو چکا ہے تاکہ طلبہ کو درس واکتساب میں مشغول رکھا جا سکے اور ان کے قیمتی اوقات کو ضایع ہونے سے بچایا جا سکے۔

بیشتر اسکولوں اور تعلیمی ادارہ جات نے کشادگی میں تاخیر کو محسوس کرتے ہوئے اور طلبہ کے تعلیمی نقصان کو کم سے کم کرنے کی نیت سے آن لائن طریقہ تعلیم کے ذریعہ درس وتدریس کی سرگرمیوں کو انجام دینا شروع کر دیا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد متعارف کیا جانے والا ای لرننگ یا آن لائن ایجوکیشن سسٹم ٹیکنالوجی سہولتوں کی کمی یا فقدان کے باعث تعلیم اداروں اور طلبہ کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے اور سہولتوں کی کمی یا فقدان اور غیر مناسب منصوبہ بندی کی وجہ سے یہ ناقابل عمل اور ناکامی سے دوچار ہو رہا ہے۔ طلبہ اور ماہرین تعلیم بھی غیر روایتی آن لائن ذریعہ تعلیم پر اپنی ناراضگی اندیشوں اور خدشات کا برملا اظہار کرنے لگے ہیں کہ یہ سسٹم تعلیمی ضروریات کی تکمیل سے قاصر ہے۔


موجودہ صورت حال نے جہاں بچوں کے مطالعہ کے اوقات، کھیل وتفریح کے اوقات اور طلبہ کے شخصی اوقات کو خلط ملط کر دیا ہے وہیں حکومت کے متعین کردہ تعلیمی قواعد، اصول وضوابط کی پاسداری بھی ناممکن بن گئی ہے۔ ان حالات میں جب کہ بچوں کی رسائی اسکول اور کمرہ جماعت تک تقریباً نا ممکن ہوگئی ہے، مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم کے متبادل طریقوں پر عمل پیرا ہوں جس سے بچوں کا تعلیمی نقصان کم سے کم ہو اور تعلیمی عمل اور علمی معیار بھی کسی طور متاثر نہ ہونے پائے۔

ملک میں مثبت کیسوں کی شرح 8.9 فیصد ہے۔ این سی او سی کے مطابق ملک میں کورونا سے مجموعی اموات 18 ہزار 310 اور متاثرین کی کل تعداد 8 لاکھ 37 ہزار 523 تک جا پہنچی ہے۔ اس بات سے ہرگز انکار ممکن نہیں کہ کورونا ہماری لاپروائی کی وجہ سے خطرناک رفتار سے پھیل رہا ہے اور انسانی زندگیوں کو بے دردی سے نگل رہا ہے۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور ڈاکٹرز کی طرف سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، حکومت کو بھی لاک ڈاؤن والے آپشن پر آخرکار مجبوری سے واپس سوچنا ہوگا نہیں تو خدانخواستہ ایک ایسے ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے کہ جس کا انجام قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر منتج ہوتا دکھائی دیتا ہے،کیونکہ نہ تو ہماری صحت کے شعبہ میں اتنی سکت ہے کہ وہ زیادہ مریضوں کو سنبھال سکے اور نہ ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں کہ اس صورتحال کو قابو کیا جا سکے۔

دوسری جانب رمضان المبارک میں مہنگائی کا سونامی آچکا ہے،چینی کے بعد برائلر مرغی کے گوشت نے قیمتوں میں اضافے کے تمام ریکارڈ توڑدیے ہیں، مارکیٹ میں برائلر مرغی کا گوشت 410روپے فی کلو سے زائد پر فروخت ہورہا ہے۔ آٹا،چینی ،گھی ،پھل ،سبزیاں تو پہلے ہی مہنگی مل رہی ہیں، کوکنگ آئل رواں ماہ میں تین بارمہنگا ہوچکا ہے۔

چینی بلیک میں فروخت کی جا رہی ہے، کئی علاقوں میں اسٹاک ہی موجود نہیں ہے۔لاک ڈاون کے باعث چینی کا بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے ۔ اسٹورز کے پاس چینی سرے سے موجود ہی نہیں۔ اسی طرح شہری سستے آٹے کے لیے خوار ہورہے ہیں، شہر میں دکانوں پرآٹے کا 20کلو کا تھیلا دستیاب ہی نہیں ہے۔مہنگائی کے روکنے کے لیے حکومتی اور انتظامی سطح پر اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں ، صرف چند نمائشی چھاپوں کی خبریں میڈیا میںآتی ہیں ۔عوام چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں ، عام آدمی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوتا جارہا ہے ، حکومت کو چاہیے کہ وہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے ۔

ایک جانب تو کورونا وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے ، اور موت ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے ، اور دوسری جانب ہم تاحال توہمات اور سازشی تھیوریوں کا شکار ہیں ، یعنی عوام انتہائی کم علمی اور لاپروائی کا شکار ہیں، کم علمی کو شدید الفاظ میں ''جہالت'' بھی کہتے ہیں مگر لاپروائی اتنی کہ نہ اپنی صحت کا خیال نہ اپنی فیملی کی حالت کی کوئی فکر۔ حالانکہ اب تو ہرجگہ کورونا وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر نظر آ رہی ہیں، چاہے وہ موبائل فون پر کال کرتے وقت ہو، الیکٹرانک میڈیا ہو، سوشل میڈیا ہو، اخبارات ہوں آگاہی مل رہی ہوتی ہے۔

باوجود اس کے ہر کوئی جانتے ہوئے بھی انجان بنا ہوا ہے۔چند جملے روزانہ ہم سب کی سماعت سے ٹکراتے ہیں جیسے کہ''کورونا مورونا کچھ نہیں ہے، یہ سب یہودیوں کی سازش ہے، مسلمانوں کو تو یہ چھو بھی نہیں سکتا، یہ سارا گیم ڈالرز کا ہے، قرضے معاف کروانے کا پلان ہے، پاکستانی کورونا دو نمبر ہے اس کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے، یہ ایک سادہ زکام ہے بس، دیکھنا رمضان میں کورونا فنا ہو جائے گا، یہ ہمیں مساجد میں عبادتوں سے روکنے کی ایک سازش ہے، ماسک کیوں پہنا ہے اتنا ایمان کمزور ہے آپ کا؟ بلاشبہ اس ملک میں ہمیشہ ایسے حالات اور واقعات رہے ہیں کہ جن کو پہلے ایک طرح سے پیش کیا جاتا رہا مگر بعد میں واپس ماضی کو غلط کہہ کر کچھ اور کہا جاتا رہا جس کی وجہ سے عوام کا حکمرانوں، میڈیا اور اس سسٹم پر اعتبار نہیں رہاہے ۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی اور غیرمصدقہ خبروں کی بھرمار ہے۔ غلط، بغیر تصدیق اور سنسنی سے بھرپور خبروں نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور لوگوں کی اکثریت اس پر بھروسا بھی کرتی ہے۔ ان سطور کے ذریعے پہلے بھی ہم حکام بالا کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کی سعی کرچکے ہیں کہ سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والی خبروں کو روکنے کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات کیے جائیں ، لیکن ابھی تک سوشل میڈیا پر پھیلایاجانے والا منفی تاثر ہمارے ذہنوں کو متاثر کررہا ہے ۔

یہ ایک الگ بحث ہے کہ کورونا قدرتی آفت ہے یا پھر انسان کی پیدا کردہ ایک سازش ہے مگرہمیں اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کرنی ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤکیسے روکا جائے ، قوم سے ان سطور کے ذریعے دردمندانہ اپیل ہے کہ خدارا ، کورونا ایس او پیز پر عمل کو اپنے اوپر لازم کرلیں، اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کا خیال کیجیے ، بازاروں اور رش والی جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں کیونکہ زندگی ، صرف اور صرف ایک بار ملتی ہے ، اس کی قدر کیجیے ۔
Load Next Story