متنازع آرڈیننس پرساری قوم کو اعتراض ہےجاوید لطیف
اچھی بات ہوتی تو رات کی تاریکی میں آرڈیننس جاری نہ کیا جاتا،الطاف خان، تکرار میں گفتگو
اچھی بات ہوتی تو رات کی تاریکی میں آرڈیننس جاری نہ کیا جاتا،الطاف خان، تکرار میں گفتگو
مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ سندھ کے متنازع آرڈیننس پر قوم پرست جماعتوں کو ہی نہیں ساری قوم کو اعتراض ہے۔
حکومت نے ایم کیو ایم کوراضی کرنے اور الیکشن کے خوف کو کم کرنے کے یہ سب کچھ کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار میں اینکر پرسن عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم زرداری کے ذریعے جناح پور کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے، ان کو جب اپنا ریٹ بڑھانا ہوتا ہے تو یہ مسلم لیگ ن سے مل جاتے ہیں اور جب ان کا ریٹ بڑھ جاتا ہے تو یہ پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے کہاکہ آرڈیننس پر اگرکسی کو اعتراض ہو تو اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے، جن دوستوں اتحادیوں نے اس آرڈیننس کو پڑھے بغیر ہڑتال اور احتجاج کا رویہ اپنایا ہے وہ افسوسناک ہے لیکن ہم ساتھیوں سے مشاورت کا عمل جاری رکھیں گے، آرڈیننس کے اجرا کا کوئی بھی ٹائم ہوسکتا ہے۔
ایم کیوایم کے رہنما عبدالرشید گوڈیل نے کہاکہ آرڈیننس اسمبلی میں آئے گا بحث ہوگی اگر کوئی اچھی رائے کسی کے پاس ہے تو وہ اس میں شامل کی جائے گی، ن لیگ نے و پنجاب میں کرپشن کا بازارگرم کررکھا ہے یہ قوم پرستوں کے ساتھ مل کر سندھ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ اے این پی کے رہنما الطاف خان نے کہاکہ کہنے کو ہم حکومت کے اتحادی ہیں لیکن کسی نے ہم کو آرڈیننس کے حوالے سے آن بورڈ نہیں لیا اور ہمیں اس پر شدید اعتراض ہے۔
اگر اس آرڈیننس میں کوئی اچھی بات ہوتی تو رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح جاری نہ کیا جاتا، ان کو اتنی جلدی کی کیا ضرورت تھی اتنی عجلت میں ان کو اس وقت مٹھائی بھی نہ ملی پھر ان کو کراچی ائر پورٹ سے مٹھائی لانی پڑی۔ جئے سندھ محاذ کے رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی نے کہاکہ پورے سندھ میں 13 ستمبر کو مکمل طور پر ہڑتال اور شٹرڈائون کیا جائے گا ۔ہم سندھ کو آمریت کے انداز میں تقسیم کرنے پر آواز اٹھائیں گے۔
حکومت نے ایم کیو ایم کوراضی کرنے اور الیکشن کے خوف کو کم کرنے کے یہ سب کچھ کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار میں اینکر پرسن عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم زرداری کے ذریعے جناح پور کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے، ان کو جب اپنا ریٹ بڑھانا ہوتا ہے تو یہ مسلم لیگ ن سے مل جاتے ہیں اور جب ان کا ریٹ بڑھ جاتا ہے تو یہ پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے کہاکہ آرڈیننس پر اگرکسی کو اعتراض ہو تو اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے، جن دوستوں اتحادیوں نے اس آرڈیننس کو پڑھے بغیر ہڑتال اور احتجاج کا رویہ اپنایا ہے وہ افسوسناک ہے لیکن ہم ساتھیوں سے مشاورت کا عمل جاری رکھیں گے، آرڈیننس کے اجرا کا کوئی بھی ٹائم ہوسکتا ہے۔
ایم کیوایم کے رہنما عبدالرشید گوڈیل نے کہاکہ آرڈیننس اسمبلی میں آئے گا بحث ہوگی اگر کوئی اچھی رائے کسی کے پاس ہے تو وہ اس میں شامل کی جائے گی، ن لیگ نے و پنجاب میں کرپشن کا بازارگرم کررکھا ہے یہ قوم پرستوں کے ساتھ مل کر سندھ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ اے این پی کے رہنما الطاف خان نے کہاکہ کہنے کو ہم حکومت کے اتحادی ہیں لیکن کسی نے ہم کو آرڈیننس کے حوالے سے آن بورڈ نہیں لیا اور ہمیں اس پر شدید اعتراض ہے۔
اگر اس آرڈیننس میں کوئی اچھی بات ہوتی تو رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح جاری نہ کیا جاتا، ان کو اتنی جلدی کی کیا ضرورت تھی اتنی عجلت میں ان کو اس وقت مٹھائی بھی نہ ملی پھر ان کو کراچی ائر پورٹ سے مٹھائی لانی پڑی۔ جئے سندھ محاذ کے رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی نے کہاکہ پورے سندھ میں 13 ستمبر کو مکمل طور پر ہڑتال اور شٹرڈائون کیا جائے گا ۔ہم سندھ کو آمریت کے انداز میں تقسیم کرنے پر آواز اٹھائیں گے۔