انسانیت کی تکمیل اسوۂ حسنہ سے مشروط
عید میلاد النبیؐ عقیدت و احترام اور اس تجدید عہد کے ساتھ منایا گیا کہ ملک سے انتہا...
کراچی:عید میلادالنبیؐ کے موقع پر مقامی مسجد کو خوبصورت برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔فوٹو:محمد ثاقب/ایکسپریس
ملک بھر میں جشنِ عید میلاد النبیؐ عقیدت و احترام اور اس تجدید عہد کے ساتھ منایا گیا کہ ملک سے انتہا پسندی، دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے جب کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے اسوہ رسولﷺ کو مشعل راہ بنایا جائے گا۔ جشن میلاد کی سب سے اہم بات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سیکیورٹی کے انتہائی ہائی الرٹ اقدامات تھے، مرکزی جلوسوں کے مقرر کردہ راستوں اور متبادل روٹس میں تحفظ اور فول پروف انتظامات کے باعث ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال مثالی رہی اور عاشقان رسولؐ نے امن، رواداری، عقیدت و محبت کی نئی روایتیں قائم کیں۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف شہروں میں موٹر سائیکل ڈبل سواری پر پابندی عائد کرنے اور موبائل سروس معطل کرنے کا فیصلہ نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ پنجاب بھر میں ریسکیو 1122 کے عملے کو الرٹ رکھا گیا اور تمام اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں، عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جیلوں میں قیدیوں کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کیا گیا۔ صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے عید میلاد النبیؐ کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ حضور اکرمؐ جو ضابطہ حیات لائے اس میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی برائیوں کی کوئی گنجائش نہیں، ہمیں عید میلاد النبیؐ کے مبارک موقع پر اپنی توانائیاں وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی اور دین اسلام کے فروغ کے لیے وقف کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ عید میلاد النبیؐ کو مسلم امہ نہایت جوش و عقیدت سے مناتی ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس موقع پر اپنے پیارے نبیؐ کی سیرت مبارکہ پر چلنے کا عہد کرتے ہیں تاہم ملکی سطح پر یا بین الاقوامی امن، انصاف، رواداری، عفو و درگزر، انسانی اقدار کے احترام اور اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنے میں عملی استقامت و استقلال کا جہاں تک تعلق ہے تو پوری امت مسلمہ کو اپنے کردار، قول و فعل اور معمولات حیات پر احتسابی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ دنیا آج جنگ و جدل، سماجی انتشار، اقتصادی بحران، عدم مساوات اور ناانصافی کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، دہشت گردی اور بدامنی، بدانتظامی، جبر و ستم اور سامراجی استعمار و جارحیت نے ملکوں کی خود مختاری پامال کر رکھی ہے، انسانی حقوق روندے جا رہے ہیں، سپر طاقتوں نے دنیا کو اپنے مفادات کے بلاکوں میں بانٹ کر عالم اسلام کو سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور سیاسی و معاشی خود کفالت کے بجائے اپنے مالیاتی جال میں الجھا دیا ہے۔
مسلم ممالک کے مابین اتحاد عالم اسلامی ابھی تک خواب و خیال ہے۔ وقت للکار رہا ہے کہ مسلم امہ ایک ہو، تفرقوں سے نجات حاصل کرے۔ غربت اور امارت کے تضادات اور دردناک معاشی بدحالی نے افریقہ سے ایشیا تک بھوک، بیماری اور جرائم کا جہنم سُلگا دیا ہے۔ اس اندوہ ناک منظر نامہ کو تبدیل کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک بار پھر ایسی سماجی، معاشی، اخلاقی اور نظریاتی انقلابی لہر کی ضرورت ہے جو پندرہ سو سال قبل صحرائے عرب سے اٹھی تھی اور جس نے ظلمت، عصبیت، نفرت، اونچ نیچ اور اخلاقی پستیوں کا خاتمہ کر کے ہر طرف نور بکھیرا اور عرب و عجم، گورے اور کالے کا فرق مٹا دیا تھا۔ حضورؐ کی ذات پیکر عمل تھی، وہ ایثار، صبر، کشادہ دلی، فیاضی، امن پسندی، اصول پسندی اور یکساں قول و فعل میں یکتا تھے۔ ان کے ظہور سے انسانیت توحید کے نور سے جگمگائی تھی۔ پاکستان کو آج ایک نہیں کئی سر والے بحرانوں نے نڈھال کر دیا ہے، یہ بحران ہمارے حکمرانوں نے اپنی عاقبت نا اندیشی یا پھر ہمارے دوست نما دشمنوں نے پیدا کیے ہیں، اس عذاب ناک صورتحال کا ادراک نہ کیا گیا تو تباہی ہمارا مقدر ہو گی۔
یہ عالمی سماج کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ حضور پر نورؐ کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہیں، گمراہی، بے راہ روی اور بے سمت و بے منزل سیاسی، سماجی و فکری مغالطوں نے سیاست کو تجارت اور عبادات کو ریاکاریوں کی دھند میں چھپا لیا ہے، عید میلاد النبیؐ اس اندھیرے سے نکلنے کی روشن دلیل ہے۔ سید سلیمان ندوی کا ارشاد ہے کہ دنیا کے اسٹیج پر فاتحین اور سپہ سالاروں کی ہزاروں قسم کی زندگیوں کے نمونے ہیں۔ مگر ان مختلف اصناف انسانی میں کس کی زندگی نوع انسانی کی سعادت فلاح اور ہدایت کی ضامن بنی؟ کسی کی نہیں۔ قابل تقلید نمونہ شاہ مدینہ کی سیرت ہی ہے۔ نبی آخرالزماںؐ کی سیرت اور مدینہ کی حکومت و سماج کی تشکیل کے آئینہ میں ہر مسلمان کو ایک مکمل ضابطہ حیات ملتا ہے، اسی میں اہل نظر کو حضرت نوحؑ کا جوش، حضرت اسمعیل ؑ کا ایثار، حضرت موسیٰ ؑکی سعی، حضرت ہارونؑ کی رفاقت، حضرت یعقوبؑ کی تسلیم، حضرت زکریاؑ کی عبادت، حضرت عیسی ؑ کا زہد، حضرت ایوبؑ کا صبر اپنے حقیقی نقش و نگار سے مزین و آراستہ حضور اکرمؐ کی ذات و صفات میں ملتے ہیں۔ واضح رہے کہ برصغیر پاک و ہند میں عید میلاد النبیؐ کے جلوسوں کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، کراچی میں علامہ حافظ محمد عبداﷲ درس نے 1872ء میں مرکز اہلسنت و الجماعت پاکستان اور مرکزی انجمن رضائے غوثیہ کے نام سے مرکزی جلوس نکالنے کا پرمٹ حاصل کیا تھا، انھوں نے 1914ء تک مرکزی جلوس کی قیادت کی، یہ جلوس لی مارکیٹ سے عیدگاہ ایم اے جناح روڈ تک نکالا جاتا تھا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو سیاسی، معاشی اور اخلاقی اعتبار سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کا نقش اول بنانے کی سعیٔ مسلسل کی جائے، داخلی امن و امان کے قیام میں مصلحتوں کو بالائے طاق رکھا جائے، طرز حکمرانی میں شفافیت کو اولیت دی جائے، سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، قومی زندگی کو فرقہ واریت، انتہا پسندی، منافقت، ریاکاری، بے انصافی، کرپشن اور ذاتی مفادات کی تاریکیوں سے نکال کر اس عظیم ہستی کے قول و فعل کی یکسانیت سے متصف کیا جائے جس میں اس ملک اور کروڑوں عوام کی بقا مضمر ہے۔
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ عید میلاد النبیؐ کو مسلم امہ نہایت جوش و عقیدت سے مناتی ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس موقع پر اپنے پیارے نبیؐ کی سیرت مبارکہ پر چلنے کا عہد کرتے ہیں تاہم ملکی سطح پر یا بین الاقوامی امن، انصاف، رواداری، عفو و درگزر، انسانی اقدار کے احترام اور اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنے میں عملی استقامت و استقلال کا جہاں تک تعلق ہے تو پوری امت مسلمہ کو اپنے کردار، قول و فعل اور معمولات حیات پر احتسابی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ دنیا آج جنگ و جدل، سماجی انتشار، اقتصادی بحران، عدم مساوات اور ناانصافی کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، دہشت گردی اور بدامنی، بدانتظامی، جبر و ستم اور سامراجی استعمار و جارحیت نے ملکوں کی خود مختاری پامال کر رکھی ہے، انسانی حقوق روندے جا رہے ہیں، سپر طاقتوں نے دنیا کو اپنے مفادات کے بلاکوں میں بانٹ کر عالم اسلام کو سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور سیاسی و معاشی خود کفالت کے بجائے اپنے مالیاتی جال میں الجھا دیا ہے۔
مسلم ممالک کے مابین اتحاد عالم اسلامی ابھی تک خواب و خیال ہے۔ وقت للکار رہا ہے کہ مسلم امہ ایک ہو، تفرقوں سے نجات حاصل کرے۔ غربت اور امارت کے تضادات اور دردناک معاشی بدحالی نے افریقہ سے ایشیا تک بھوک، بیماری اور جرائم کا جہنم سُلگا دیا ہے۔ اس اندوہ ناک منظر نامہ کو تبدیل کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک بار پھر ایسی سماجی، معاشی، اخلاقی اور نظریاتی انقلابی لہر کی ضرورت ہے جو پندرہ سو سال قبل صحرائے عرب سے اٹھی تھی اور جس نے ظلمت، عصبیت، نفرت، اونچ نیچ اور اخلاقی پستیوں کا خاتمہ کر کے ہر طرف نور بکھیرا اور عرب و عجم، گورے اور کالے کا فرق مٹا دیا تھا۔ حضورؐ کی ذات پیکر عمل تھی، وہ ایثار، صبر، کشادہ دلی، فیاضی، امن پسندی، اصول پسندی اور یکساں قول و فعل میں یکتا تھے۔ ان کے ظہور سے انسانیت توحید کے نور سے جگمگائی تھی۔ پاکستان کو آج ایک نہیں کئی سر والے بحرانوں نے نڈھال کر دیا ہے، یہ بحران ہمارے حکمرانوں نے اپنی عاقبت نا اندیشی یا پھر ہمارے دوست نما دشمنوں نے پیدا کیے ہیں، اس عذاب ناک صورتحال کا ادراک نہ کیا گیا تو تباہی ہمارا مقدر ہو گی۔
یہ عالمی سماج کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ حضور پر نورؐ کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہیں، گمراہی، بے راہ روی اور بے سمت و بے منزل سیاسی، سماجی و فکری مغالطوں نے سیاست کو تجارت اور عبادات کو ریاکاریوں کی دھند میں چھپا لیا ہے، عید میلاد النبیؐ اس اندھیرے سے نکلنے کی روشن دلیل ہے۔ سید سلیمان ندوی کا ارشاد ہے کہ دنیا کے اسٹیج پر فاتحین اور سپہ سالاروں کی ہزاروں قسم کی زندگیوں کے نمونے ہیں۔ مگر ان مختلف اصناف انسانی میں کس کی زندگی نوع انسانی کی سعادت فلاح اور ہدایت کی ضامن بنی؟ کسی کی نہیں۔ قابل تقلید نمونہ شاہ مدینہ کی سیرت ہی ہے۔ نبی آخرالزماںؐ کی سیرت اور مدینہ کی حکومت و سماج کی تشکیل کے آئینہ میں ہر مسلمان کو ایک مکمل ضابطہ حیات ملتا ہے، اسی میں اہل نظر کو حضرت نوحؑ کا جوش، حضرت اسمعیل ؑ کا ایثار، حضرت موسیٰ ؑکی سعی، حضرت ہارونؑ کی رفاقت، حضرت یعقوبؑ کی تسلیم، حضرت زکریاؑ کی عبادت، حضرت عیسی ؑ کا زہد، حضرت ایوبؑ کا صبر اپنے حقیقی نقش و نگار سے مزین و آراستہ حضور اکرمؐ کی ذات و صفات میں ملتے ہیں۔ واضح رہے کہ برصغیر پاک و ہند میں عید میلاد النبیؐ کے جلوسوں کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، کراچی میں علامہ حافظ محمد عبداﷲ درس نے 1872ء میں مرکز اہلسنت و الجماعت پاکستان اور مرکزی انجمن رضائے غوثیہ کے نام سے مرکزی جلوس نکالنے کا پرمٹ حاصل کیا تھا، انھوں نے 1914ء تک مرکزی جلوس کی قیادت کی، یہ جلوس لی مارکیٹ سے عیدگاہ ایم اے جناح روڈ تک نکالا جاتا تھا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو سیاسی، معاشی اور اخلاقی اعتبار سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کا نقش اول بنانے کی سعیٔ مسلسل کی جائے، داخلی امن و امان کے قیام میں مصلحتوں کو بالائے طاق رکھا جائے، طرز حکمرانی میں شفافیت کو اولیت دی جائے، سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، قومی زندگی کو فرقہ واریت، انتہا پسندی، منافقت، ریاکاری، بے انصافی، کرپشن اور ذاتی مفادات کی تاریکیوں سے نکال کر اس عظیم ہستی کے قول و فعل کی یکسانیت سے متصف کیا جائے جس میں اس ملک اور کروڑوں عوام کی بقا مضمر ہے۔