پولیو سے پاک پاکستان کیوں نہیں
جدید سائنس کا یہ اعزاز ہے کہ طب کے شعبے میں ہونے والی تحقیقات اور ترقی کے نتیجے میں گزشتہ صدی ...
پولیو کی ٹیموں پر قاتلانہ حملے اور پولیو ورکرز کی ہلاکت نے اس مہم کو نہ صرف شدید نقصان پہنچایا ہے فوٹو: فائل
جدید سائنس کا یہ اعزاز ہے کہ طب کے شعبے میں ہونے والی تحقیقات اور ترقی کے نتیجے میں گزشتہ صدی میں موجود موذی اور خطرناک امراض سے لاکھوں انسانوں کو نجات ملی ہے۔ چیچک اور پولیو جیسے امراض کا ویکسی نیشن کے ذریعے نہ صرف علاج ممکن ہوا، بلکہ تواتر سے ہونے والی کوششوں کے نتیجے میں متعدد ممالک میں ان امراض کا جڑ سے خاتمہ ہو گیا ہے، منگل کو سوا ارب سے زائد آبادی کے ملک بھارت کے حوالے سے ایک خوش کن خبر اخبارات کی زینت بن گئی کہ بھارتی حکومت نے ملک کو پولیو سے پاک قرار دیدیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھارت کو گزشتہ برس ان ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا تھا جہاں پولیو کے اثرات تھے۔ وطن عزیز میں بھی پولیو سے پاک پاکستان کی مہم تو جاری ہے لیکن اس کے خلاف شدت پسند مذہبی عناصر نے ایک معاندانہ اور ظالمانہ مہم شروع کر رکھی ہے جس کا کسی بھی مہذب ملک میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔
پولیو کی ٹیموں پر قاتلانہ حملے اور پولیو ورکرز کی ہلاکت نے اس مہم کو نہ صرف شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ جہادی میڈیا کے ذریعے پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف ایک منفی پروپیگنڈا مہم کے نتیجے میں بھی عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات ابھارے گئے۔ حکومتی سطح پر ایسے عناصر کی بیخ کنی نہیں کی گئی۔ جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے، المیہ تو یہ ہوا کہ ہم اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے ملک کو پولیو سے پاک نہیں کر سکے ہیں۔ خدشہ اس امر کا ہے کہ دیگر ممالک پاکستانی باشندوں کے داخلے پر پابندی بھی عائد کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں پولیو کے حوالے سے اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر آصفہ بھٹو زرداری نے بھارت کو پولیو فری ملک قرار دیے جانے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھی پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے اور بہت جلد یہ کامیابی حاصل کرے گا،خیبر پختونخوا کے وزیر صحت نے کہا کہ پولیوکے قطرے پلانے سے انکار کرنے کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے مدارس و علماء کو مہم کا حصہ بنایا جائے گا۔ بہر حال فیصلہ تو پاکستانی حکومت اور عوام نے کرنا ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو مستقل معذور بنانا چاہتی ہیں یا پولیو سے پاک صحتمند پاکستان بنانے کے لیے جدوجہد کو جاری رکھنا ہے۔
پولیو کی ٹیموں پر قاتلانہ حملے اور پولیو ورکرز کی ہلاکت نے اس مہم کو نہ صرف شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ جہادی میڈیا کے ذریعے پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف ایک منفی پروپیگنڈا مہم کے نتیجے میں بھی عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات ابھارے گئے۔ حکومتی سطح پر ایسے عناصر کی بیخ کنی نہیں کی گئی۔ جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے، المیہ تو یہ ہوا کہ ہم اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے ملک کو پولیو سے پاک نہیں کر سکے ہیں۔ خدشہ اس امر کا ہے کہ دیگر ممالک پاکستانی باشندوں کے داخلے پر پابندی بھی عائد کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں پولیو کے حوالے سے اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر آصفہ بھٹو زرداری نے بھارت کو پولیو فری ملک قرار دیے جانے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھی پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے اور بہت جلد یہ کامیابی حاصل کرے گا،خیبر پختونخوا کے وزیر صحت نے کہا کہ پولیوکے قطرے پلانے سے انکار کرنے کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے مدارس و علماء کو مہم کا حصہ بنایا جائے گا۔ بہر حال فیصلہ تو پاکستانی حکومت اور عوام نے کرنا ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو مستقل معذور بنانا چاہتی ہیں یا پولیو سے پاک صحتمند پاکستان بنانے کے لیے جدوجہد کو جاری رکھنا ہے۔