بلدیاتی انتخابات کا پھر التوا
سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کی مراد بر آئی، سپریم کورٹ نے اپنے تازہ ترین فیصلے میں پنجاب...
بلدیاتی انتخابات بھی عام انتخابات کی طرح آئینی تقاضا ہیں۔ فوٹو : فائل
سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کی مراد بر آئی، سپریم کورٹ نے اپنے تازہ ترین فیصلے میں پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخوں میں توسیع کی الیکشن کمیشن کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیا انتخابی شیڈول جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ نا جانے کیوں عذر در عذر کی روایت کو آگے بڑھانے کا عمل عوام کے منتخب کردہ نمایندے اور حکومتیں کر رہی ہیں۔ مسائل کا ایک انبار ہے جسے بلاکم و کاست عوام کی دہلیز پر بلدیاتی نمایندوں کے ذریعے حل ہونا ہے، بلدیاتی قوانین میں سقم اور متنازعہ حلقہ بندیوں کا جواز کامیاب سیاسی حربہ ثابت ہوا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں عروج پر تھیں لیکن اب صرف پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کے بعد 2 لاکھ سے زائد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی ضایع ہو گئے ہیں کیونکہ نیا انتخابی شیڈول آنے پر نئے نامزدگی فارم جاری کیے جائیں گے۔ مقامی حکومتوں کی اہمیت و افادیت سے انکار قطعاً ممکن نہیں، اختیارات کا ایک جگہ ارتکاز عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کرتا ہے۔ جب ان کے مسائل مقامی سطح پر حل نہیں ہوتے تو وہ اس کا ذمے دار وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو گردانتے ہیں، لسانی اور صوبائی عصبیت بھی پیدا ہوتی ہے۔
بلدیاتی انتخابات بھی عام انتخابات کی طرح آئینی تقاضا ہیں، لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتوں میں بیٹھے منتخب نمایندے بیوروکریسی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ حلقہ بندیوں میں تبدیلیوں، انتخابی فہرستوں، نئے اضلاع کی تشکیل جیسے امور چھیڑکر ان تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو متنازع بنانا سیاسی کامیابی تو ہو سکتا ہے لیکن عوام کی امیدوں پر پانی پھیرنے والی بات ہے۔ عمران خان نے تو وعدہ کیا تھا کہ وہ سب سے پہلے صوبہ خبیرپختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کروا کے اختیارات عوام کو منتقل کروا دیں گے لیکن پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت تاحال اس سلسلے میں کسی قسم کے شیڈول تک کا اعلان نہیں کر سکی۔ قابل تقلید مثال شورش زدہ صوبہ بلوچستان کی ہے جس نے سپریم کورٹ کے حکم پر آمنا صدقنا کہتے ہوئے بلدیاتی الیکشن کروا کے عوام کو ان کا بنیادی حق دے دیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ باقی تینوں صوبائی حکومتیں اس روشن مثال کی تقلید کریں گی اور بلدیاتی الیکشن کرا کے اس بات کا ثبوت دیں گی کہ وہ جمہوریت کے اس ناگزیر زینے کو بھی جمہوری عمل کے استحکام کی بنیادی ضرورت سمجھتی ہیں۔
بلدیاتی انتخابات بھی عام انتخابات کی طرح آئینی تقاضا ہیں، لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتوں میں بیٹھے منتخب نمایندے بیوروکریسی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ حلقہ بندیوں میں تبدیلیوں، انتخابی فہرستوں، نئے اضلاع کی تشکیل جیسے امور چھیڑکر ان تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو متنازع بنانا سیاسی کامیابی تو ہو سکتا ہے لیکن عوام کی امیدوں پر پانی پھیرنے والی بات ہے۔ عمران خان نے تو وعدہ کیا تھا کہ وہ سب سے پہلے صوبہ خبیرپختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کروا کے اختیارات عوام کو منتقل کروا دیں گے لیکن پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت تاحال اس سلسلے میں کسی قسم کے شیڈول تک کا اعلان نہیں کر سکی۔ قابل تقلید مثال شورش زدہ صوبہ بلوچستان کی ہے جس نے سپریم کورٹ کے حکم پر آمنا صدقنا کہتے ہوئے بلدیاتی الیکشن کروا کے عوام کو ان کا بنیادی حق دے دیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ باقی تینوں صوبائی حکومتیں اس روشن مثال کی تقلید کریں گی اور بلدیاتی الیکشن کرا کے اس بات کا ثبوت دیں گی کہ وہ جمہوریت کے اس ناگزیر زینے کو بھی جمہوری عمل کے استحکام کی بنیادی ضرورت سمجھتی ہیں۔