پاک سعودی تعلقات تعاون کی نئی جہتیں

دونوں ممالک کے درمیان توانائی، سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت اور ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا

بیتے برس سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کے علاوہ 2.75 ارب ریال سے زیادہ کا سامان برآمد کیا فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا، جس میں دورے کے دوران دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات پر مبنی باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سعودی پاکستان سپریم کوآرڈی نیشن کونسل کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کونسل کی سربراہی وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد مشترکہ طور پر کریں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان توانائی، سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت اور ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ سعودی ولی عہد نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے حوالے سے متعلق پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ مفاہمت کا خیرمقدم کیا اور مقبوضہ کشمیر تنازعہ کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔

بلاشبہ پاکستان کے مختلف شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری قابل تحسین ہے،بھاری سرمایہ کاری پاکستان پر سعودی قیادت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہوگی۔

دونوں ممالک کے اہم بین الاقوامی معاملات پر خیالات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اوردونوں ملکوں نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ یکساں موقف اختیار کیا ہے۔وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر گرین پاکستان، گرین سعودی عرب، گرین مشرق وسطی، نیشنل سپریم کوآرڈی نیشن کونسل کی تشکیل، وزارت داخلہ، وزارت ثقافت و اطلاعات سمیت کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔یقینی طور پر ان معاہدوں سے پاک سعودی تعلقات مزید مضبوط اور گہرے ہوں گےْ

اس سے قبل پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے گمراہ کن افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں تھی اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جو خود کو سعودی عرب میں'پاکستان کا سفیر'کہلانے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر مختلف منصوبوں کے تحت 20 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے تھے،یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نہ صرف شدید معاشی مشکلات سے دوچار تھا بلکہ ہماری کرنسی عالمی منڈی میں تیزی سے انحطاط کا شکار تھی۔

ہمیں اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ سعودی عرب ہمیشہ سے ہی پاکستان کی ترقی اور استحکام کا خواہاں رہا ہے، سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات انتہائی مستحکم ہیں جن کی بنیاد اور مرکز مشترکہ عقیدہ ہے، اسلام کی مشترکہ بنیاد نے دونوں ممالک کے مابین مثالی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔

دونوں برادر ممالک کے مابین مثالی تعلقات کی اہمیت عالمی سطح پر بھی تسلیم کی جاتی ہے جب کہ دنیا یہ بات بھی جانتی اور تسلیم کرتی ہے کہ سعودی عرب نے دنیا کے نقشے پر سب سے پہلے پاکستان کوتسلیم کیاتھا۔قیام پاکستان سے لے کرآج تک سعودی عرب ہمیشہ اور ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ رہا اور پاکستان بھی ہمیشہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہرقسم کی قربانی دینے کا عزم کرتا رہا ہے، ارض حرمین شریفین ہونے کی حیثیت سے بھی سعودی مملکت کا تقدس ہر سطح پر نمایاں ہے۔

مشرق وسطیٰ میں سعودی معیشت سب سے بڑی ہے ،جس کا شمار دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے۔ سعودی عرب کی فی کس آمدن 57 ہزار امریکی ڈالرز سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی سعودی عرب کے لیے سالانہ برآمدات گزشتہ کئی برسوں سے 50 کروڑ امریکی ڈالرز سے آگے نہیں جا سکیں، جب کہ سعودی عرب کے لیے بھارت کی برآمدات چھ ارب ڈالر اور مصر کی دو ارب ڈالر ہیں۔ سعودی عرب میں بھارت کے آٹھ چین اسٹورز ہیں ، یہ اسٹور پاکستانی اشیا نہیں رکھتے کیونکہ تمام اشیا بھارت سے منگواتے ہیں،گو کہ پاکستانی چاول، مصالحہ جات، گوشت اور پھل چھوٹی دکانوں پر موجود ہیں لیکن سعودی شہری ان دکانوں پر شاپنگ کے لیے کم ہی جاتے ہیں۔

پاکستان کے چین اسٹورز کو اس موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے، اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے لیے اپنے چین اسٹورز کا فوری قیام عمل میں لانا چاہیے ۔ اس طرح پاکستانی چین اسٹورز ملک میں بننے والی دیگر اشیا کو بھی پروموٹ کر سکتے ہیں۔یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ پاکستانی ایکسپورٹرز نے اتنے عرصے سے اس بڑی مارکیٹ کو نظر انداز کیا اور تجارت و برآمدات کے لیے اپنی زیادہ تر توجہ یورپی اور امریکا جیسے ممالک پر مرکوز رکھی 'سعودی عرب نئے کاروبار کے لیے آٹھ سو ارب ڈالر کی کنزیومر مارکیٹ آفر کرتا ہے۔


سعودی عرب میں تیل کے باعث روزگار میں فراوانی ہے، ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں حکومت 2016ء سے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں اور 2030ء تک بے روزگاری کی شرح 7 فیصد سے کم کی جائے۔

کورونا وائرس اور دیگر اخراجات کے باعث گزشتہ برس سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح ریکارڈ 15 اعشاریہ 4 فیصد کو پہنچی تھی۔سعودی حکومت نے 12 فیصد جی ڈی پی میں 4 اعشاریہ 9 فیصد کمی ریکارڈ کی اور اس وجہ سے اپنے بڑے اخراجات میں کمی لائی تھی۔پی آئی ایف کے منصوبے میں 2025 تک مقامی معیشت کو سالانہ بنیاد پر 150 ارب ریال (40 ارب ڈالر) فراہم کرنا بھی شامل ہے اور اثاثوں کو 4 کھرب ریال (1.07 کھرب ڈالر) تک لے کر جانا ہے۔

محمد بن سلمان سمجھتے ہیں کہ جب تک معیشت 6.5 فیصد کی شرح سے ترقی نہیں کرتی تو نوجوانوں کی بے روزگاری ایک ٹائم بم ثابت ہوسکتی ہے،لہذا سعودی عرب کے ولی عہد مستقبل میں درپیش چیلنجزسے نمٹنے کے لیے دن رات بہتر اقتصادی اور تجارتی پالیسیاں تشکیل دینے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں ۔

بیتے برس کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کے علاوہ 2.75 ارب ریال سے زیادہ کا سامان برآمد کیا جب کہ پاکستان سے 1.97 ارب ریال کا سامان درآمد کیا گیا۔ اسی تناظر میں سعودی وزیر صنعت و معدنیات کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تیل کے علاوہ مصنوعات کی درآمد و برآمد کا سلسلہ فروغ پذیر ہے۔

غذائی اشیا، معدنیات، کیمیکلز، تعمیراتی سامان، اشیائے صرف، الیکٹرانک اشیا کا لین دین چل رہا ہے۔ سعودی عرب میں معدنیات کی سرمایہ کاری کے قانون کے اجرا کے بعد پاکستان کے ساتھ اس شعبے میں تعاون کی نئی جہتیں کھلیں گی ،بلاشبہ ان کی باتیں صائب ہیں ۔

سعودی جیولوجیکل سروے بورڈ نے پاکستان میں معدنیات کی تلاش کے لیے فضائی اور جیوفزکس معائنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے اور اس تناظر میں سعودی، مقامی اورغیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں نئے مواقع پیدا ہوں گے ، صنعت اور معدنیات کے شعبوں میں سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں جو ایک انتہائی مستحسن اقدام قرار دیا جاسکتا ہے، لاکھوں پاکستانی محنت کش سعودی عرب میں موجود ہیں ، جوکہ قیمتی زرمبادلہ پاکستان میں بھیجتے ہیں۔

اس طرح وہ ملکی معیشت کے استحکام میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں ، گوکہ اس وقت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب کاروبار حیات منجمد ہوچکا ہے، لیکن پھر بھی مستقبل قریب میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی سعودی عرب واپس چلے جائے گی ۔دینی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو ہر سال تمام اسلامی ممالک کی نسبت سب سے زیادہ پاکستانی عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں ، جس سے سعودی حکومت کو کافی بڑی رقم وصول ہوتی ہے ۔

وزیراعظم پاکستان کا اپنے وفد کے ہمراہ یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا ہے ، اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم بنیادوں پر استوار ہوں گے ۔ پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو دن پہلے سعودی عرب پہنچ کر ولی عہد سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات بالخصوص عسکری اور دفاعی شعبوں میں تعاون اور ترقی کے مواقعے سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ پاکستانی فوج سعودی عرب کا دفاع کرنا بھی اپنا فرض اولین سمجھتی ہے۔سفارتی سطح پر بھی دیکھا جائے تو سعودی عرب نے مسئلہ کشمیر پر ہماری بھرپور حمایت کی ہے ، جب کہ پاکستان نے بھی مسئلہ فلسطین سمیت تمام حل طلب امور پر سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے ۔تجارتی تعلقات کے علاوہ برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے پاکستان سے ہر سطح پر سعودی عرب کے تعلقات گہرے ہیں۔

اس وقت نہ صرف پاک سعودی تعلقات بلکہ تمام عرب ممالک سے تعلقات گزشتہ پندرہ سال کی نسبت بہترین پوزیشن میں ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ پاک سعودی تعلقات کو مضبوط سے مضبوط بنایا جائے۔بلاشبہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت مل کر امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل کو نہ صرف حل کرے گی بلکہ دونوں برادر ممالک آنے والے وقتوں میں امت مسلمہ کی قیادت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔
Load Next Story