محکمہ خوراک کے گودام پر چھاپہ ریت ملی گندم کی1300سے زائد بوریاں برآمد

اینٹی کرپشن کو محکمہ خوراک کی جانب گندم کی خریداری میں خورد برد کی تحقیق کی ہدایت

محکمہ خوراک کی لا کھو ں گندم کی بو ریا ں جو خریدی گئی تھیں وہ غائب ہیں۔منظوروسان۔فوٹو:فائل

NEW DELHI:
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی نااہلی سے تنگ آکر صوبائی وزرا میدان میں آگئے ۔

منظور وسان اور جام مہتاب حسین ڈہر نے محکمہ خوراک کے گودام پر چھاپہ مار کر1300 سے زائد ریت اور مٹی سے بھری گندم کی بوریاں برآمد کرلیں، اینٹی کرپشن حکام کو گزشتہ 12 سال کے دوران محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی خریداری کے عمل میں مبینہ خورد برد کی تحقیقات کی ہدایت کردی گئی ہے تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی سال سے عضو معطل رہنے والے محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کی نااہلی سے تنگ آکر صوبائی وزیر منظور وسان نے صوبائی محکموں میں کرپشن کے خاتمے کیلیے میدان عمل میں آنے کا فیصلہ کیا ہے، بدھ کو منظور وسان اور صوبائی وزیر خوراک جام مہتاب حسین ڈہر نے لانڈھی میںمحکمہ خوراک کے گودام نمبر3پر چھاپہ مارا جہا ں پر خیرپور سے کراچی منتقل ہونیوالی 5 ہزار گندم کی بوریاں دکھائی گئیں جس میں سے1365بوریوں میں ریت اور مٹی ملی ہوئی تھی،اس موقع پر صو با ئی وزیر منظو ر حسین وسا ن نے کہا کہ محکمہ خوراک کی لا کھو ں گندم کی بو ریا ں جو خریدی گئی تھیں وہ غائب ہیں۔




اس سلسلے میں2002سے تحقیق کرائی جائے گی، انھوں نے میڈیا کو بتایاکہ محکمہ خوراک میں بدعنوانی کے25کیس اینٹی کر پشن میں چل رہے ہیں جبکہ سکھر،گھو ٹکی، خیر پو ر کشمو ر،جیکب آبا د ،شہید بینظیر آباد، بو لہا ڑ ی اور دیگر اضلاع میں گندم کی غائب بوریوں کی تحقیقات کی جائیگی اور جو بھی افسر یا ملازم ملوث ہوا اس کیخلاف مقدمات داخل کرکے معاملات اینٹی کرپشن عدالت کو بھیجے جائیںگے، صوبائی وزیرجام مہتاب حسین ڈہر نے کہا کہ محکمہ خوراک میںکسی بھی قسم کی کرپشن کو بر دا شت نہیں کیا جائے گا، گندم کی بوریاں غائب کرنیوالے افسران کیخلاف کیس دا خل ہونگے اور انھیں گر فتا ر کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا، آج اینٹی کرپشن کے وزیر اور افسران کی مو جو د گی کرپٹ افسرا ن کیلیے پیغام ہے کہ اب قانون حر کت میں آچکا ہے، سندھ میں 40فو ڈ انسپکٹروں پر مقدمات چل رہے ہیں،8بر طر ف کر دیے گئے ہیں، ایک ڈپٹی ڈا ئریکٹر اور ایک ڈی ایف سی کو معطل کیا گیا ہے۔
Load Next Story