دنیا مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی پکار سنے
عالمی برادری نے اسرائیل کے اس غیر انسانی اقدام کی مذمت کی ہے۔
عالمی برادری نے اسرائیل کے اس غیر انسانی اقدام کی مذمت کی ہے۔ فوٹو: فائل
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسرائیل نے ظلم و جبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف مسجد اقصیٰ پرحملہ کیا بلکہ غزہ پر وحشیانہ فضائی بمباری کے عمل کو بھی جاری رکھا ہوا ہے، بمباری کے نتیجے میں نہتے اور معصوم فلسطینیوں کی شہادت نے فضا سوگوار کردی ہے۔ عالمی برادری نے اسرائیل کے اس غیر انسانی اقدام کی مذمت کی ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں فلسطین اور کشمیر دو ایسے حل طلب مسائل ہیں جن کے حوالے سے سنگین غفلت برتی جا رہی ہے، اس وقت دونوں کشمیر اور فلسطین تاریخ کے سنگین دور سے گزر رہے ہیں، دنیا میں پھیلی کورونا وبا کے باعث جہاں کئی مسائل نے جنم لیا ہے، وہاں مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کو بھی پس پشت ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر مظالم کے آغاز کی ٹائمنگ پر اگر ہم غور کریں تو وہ کچھ یوں ہے، رمضان المبارک کی ستائیسویں شب ہے، پورا عالم اسلام عبادت میں مصروف ہے، فلسطینی بھی مسجد اقصیٰ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہیں کہ اسرائیلی فوجی مسجد میں داخل ہوکر نمازیوں کو گولیاں مارنا شروع کردیتے ہیں، دوسری جانب عالم اسلام کے دو اہم ممالک سعودی عرب اور پاکستان کی اعلیٰ سطح قیادت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعظم پاکستان اپنے وفد کے ہمراہ سعودی عرب میں موجود تھے اور عالم اسلام کے دو بڑے ممالک پاکستان اور سعودی عرب کی طرف سے فلسطینیوں کا حق ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا بیان خوش آیند تھا۔ اسرائیل نے سب کچھ جان بوجھ کر اور طے شدہ پلاننگ سے یہ اقدام اٹھایا ہے، اسرائیل عالم عرب کے بیچ میں بیٹھ کر فلسطینیوں پر مظالم کا سلسلہ صرف اس لیے جاری رکھے ہوئے ہے کہ مسلم امہ میں نفاق ہے، ظالم کو ظلم سے روکنے والا کوئی ہاتھ نہیں، جب کہ اسرائیل کو امریکا کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔
اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ کئی عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات بحال کر لیے ہیں۔ او آئی سی بھی فعال اور طاقت ور نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کو ظلم کرنے سے باز رکھ سکے، البتہ اس موقعے پر اسلامی ممالک کی تنظیم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر ہم تاریخ کے حوالے سے دیکھیں تو فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے، یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان تھا جس کے بیشتر حصے پر اب اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی ہے۔ 1948 سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا جو خلافت عثمانیہ میں بھی قائم رہا مگر بعد میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا اور 1948 میں یہاں کے بیشتر علاقے پر اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔ فلسطین کا دارالحکومت بیت المقدس تھا جس پر 1967 میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔
بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں اور یہ شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ فلسطین کے مسئلہ پر 1948 اور 1967 میں دو بڑی جنگیں ہو چکی ہیں تاہم پہلی عالمی جنگ کے بعد عرب ممالک کے حصے بخرے ہوگئے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد فلسطین میں یہودی آباد کاری کی راہیں ہموار ہوگئیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان انتہائی پیچیدہ تنازعہ پر دونوں اقوام کسی بھی حل پر متفق نہیں ہوسکیں، سرحدی تنازعات، باہمی شناخت، سلامتی، آبی حقوق، یروشلم پر کنٹرول، اسرائیلی بستیوں کا قیام، فلسطینیوں کی نقل و حرکت کی آزادی اور فلسطینیوں کا وطن واپسی کا حق یہ وہ نکات ہیں جن پر اسرائیل اور فلسطین کبھی متفق نہیں ہو پائے ۔
چند روز قبل ایک انٹرویو کے دوران وزیراعظم عمران خان نے یہ دو ٹوک موقف اپنایا کہ فلسطینیوں کو ان کا حق ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا فلسطین کو حق ملے گا تو اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔'' اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں مقبوضہ کشمیر کو بھی چھوڑدینا ہو گا کیونکہ دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے یہ دو ٹوک موقف ہر پاکستانی کے دلی جذبات ہیں، خوش آیند امر یہ ہے کہ سعودی عرب نے بھی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا موقف اپنایا ہے۔
وزیراعظم نے جس تاریخی سچائی کو بیان کیا ہے، اس کے پس منظر کچھ یوں ہے کہ اگست 1948 کو اپنے پیغامِ عید میں قائداعظمؒ نے فرمایا تھا ''تمام اسلامی مملکتوں کو عید مبارک ہو۔ میرا عید کا پیغام سوائے دوستی اور بھائی چارے کے اور کیا ہوسکتا ہے، ہم سب یکساں طور پر خطرناک اور کٹھن دور سے گزر رہے ہیں۔ سیاسی اقتدار کا جو ڈرامہ فلسطین' انڈونیشیا اور کشمیر میں کھیلا جارہا ہے، وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔
ہم اپنے اسلامی اتحاد کے ذریعے ہی دنیا کے مشورہ خانوں میں اپنی آواز کی قوت محسوس کراسکتے ہیں۔'' قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی دور اندیش فکر کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کرکے اسرائیل کی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور عالمی بدامنی کے خطرے کے پیشِ نظر اسرائیل کے اقوامِ متحدہ کا رکن بننے کی مخالفت کی۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے خلاف ووٹ دیکر اس صیہونی ریاست کو تسلیم نہ کیا۔ قائدِ اعظمؒ کی اِس غیرمبہم، واضح اور بایقین بصیرت کے پیشِ نظر فلسطینی قربانیوں سے پاکستانیوں کا تعلق پختہ تر و مضبوط تر ہے۔
اسرائیل کو تسلیم کرنا، ناجائز طریقہ سے غاصب و قابض طاقت کو قانونی و اخلاقی جواز فراہم کرنا ہے، معصوم اور بے گناہ فلسطینیوں کی موت کے پروانے پہ دستخط کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ ایک ظلم کو جائز تسلیم کرنا نئے ظلم کے لیے راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے، جیسا کہ مسئلہ کشمیر جو پاکستان اور بھارت کے درمیان گزری سات دہائیوں سے حل طلب ہے۔
موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنے قائد اور بانی کی دی ہوئی دانشمندانہ اور مبنی برحق حکمت عملی کو پورے جوش و خروش سے اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ دنیا میں اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ فلسطین کے متعلق قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے افکار و نظریات کو نہ صرف زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے بلکہ اسے نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل کو آگہی ہو کہ عالم اسلام کے ان دونوں رہنماؤں کا وژن کس قدر وسیع تھا اور انھوں نے کئی دہائیاں قبل ہی اس مسئلہ کی حساسیت کو سمجھ لیا اور مسلم امہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔
مسئلہ فلسطین کو فلسطینیوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے اور اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کرنا چاہئیں۔ یہی پاکستان کا اصولی موقف ہے اور اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے عالمی معاہدوں کے تحت ہی امن حاصل کیا جاسکتا ہے اور جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ ہوئے بین الاقوامی امن معاہدوں کو تسلیم نہ کرلے اور امن قائم نہ ہوجائے تب تک تعلقات ممکن نہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر کی پانچ اگست 2019 والی حیثیت بحال ہونے تک بھارت سے مذاکرات نہیں ہونگے۔ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی اور دفتر خارجہ کی کوششوں کی بدولت ہندو توا اور آر ایس ایس کا نظریہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگنے سے اسمگلنگ ختم ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ صائب ہیں۔ بھارت کسی بھی عالمی ادارے کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہ دے کر حقیقی تصویر کو چھپا رہا ہے۔
ہم سب اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ بھارت کی یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائی کا مقصد جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنا اور باہر کے افراد کو وہاں آباد ہونے کی اجازت دے کر اس کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔
کشمیری عوام نے گزشتہ 72 سال سے غاصب اور ظالم بھارتی فوجوں اور دوسری سیکیورٹی فورسز کے جبر و تشدد کو برداشت کرتے، ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرتے اور متعصب بھارتی لیڈران کے مکر و فریب کا مقابلہ کرتے ہوئے جس صبر و استقامت کے ساتھ اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے، وہ ایک مثال ہے، کشمیر کی آزادی کی تحریک انسانی تاریخ کی بے مثال تحریک ہے جس کی پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے منزل بھی متعین ہے۔
اس تناظر میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی درحقیقت پاکستان کی تکمیل و استحکام کی جدوجہد ہے جس کا دامے، درمے، قدمے، سخنے ہی نہیں' عملی ساتھ دینا بھی پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کی بنیادی اخلاقی ذمے داری ہے۔ بلاشبہ کشمیر کے حل کے لیے کی جانیوالی کاوشیں ایک دن ضرور کامیاب ہونگی اور کشمیر کی آزادی کی صبح طلوع ہوگی۔
فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اقوام عالم کی تشویش اور توجہ کا باعث ہونی چاہیے، اگر دنیا میں امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے تو مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں فلسطین اور کشمیر دو ایسے حل طلب مسائل ہیں جن کے حوالے سے سنگین غفلت برتی جا رہی ہے، اس وقت دونوں کشمیر اور فلسطین تاریخ کے سنگین دور سے گزر رہے ہیں، دنیا میں پھیلی کورونا وبا کے باعث جہاں کئی مسائل نے جنم لیا ہے، وہاں مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کو بھی پس پشت ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر مظالم کے آغاز کی ٹائمنگ پر اگر ہم غور کریں تو وہ کچھ یوں ہے، رمضان المبارک کی ستائیسویں شب ہے، پورا عالم اسلام عبادت میں مصروف ہے، فلسطینی بھی مسجد اقصیٰ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہیں کہ اسرائیلی فوجی مسجد میں داخل ہوکر نمازیوں کو گولیاں مارنا شروع کردیتے ہیں، دوسری جانب عالم اسلام کے دو اہم ممالک سعودی عرب اور پاکستان کی اعلیٰ سطح قیادت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعظم پاکستان اپنے وفد کے ہمراہ سعودی عرب میں موجود تھے اور عالم اسلام کے دو بڑے ممالک پاکستان اور سعودی عرب کی طرف سے فلسطینیوں کا حق ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا بیان خوش آیند تھا۔ اسرائیل نے سب کچھ جان بوجھ کر اور طے شدہ پلاننگ سے یہ اقدام اٹھایا ہے، اسرائیل عالم عرب کے بیچ میں بیٹھ کر فلسطینیوں پر مظالم کا سلسلہ صرف اس لیے جاری رکھے ہوئے ہے کہ مسلم امہ میں نفاق ہے، ظالم کو ظلم سے روکنے والا کوئی ہاتھ نہیں، جب کہ اسرائیل کو امریکا کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔
اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ کئی عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات بحال کر لیے ہیں۔ او آئی سی بھی فعال اور طاقت ور نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کو ظلم کرنے سے باز رکھ سکے، البتہ اس موقعے پر اسلامی ممالک کی تنظیم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر ہم تاریخ کے حوالے سے دیکھیں تو فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے، یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان تھا جس کے بیشتر حصے پر اب اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی ہے۔ 1948 سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا جو خلافت عثمانیہ میں بھی قائم رہا مگر بعد میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا اور 1948 میں یہاں کے بیشتر علاقے پر اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔ فلسطین کا دارالحکومت بیت المقدس تھا جس پر 1967 میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔
بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں اور یہ شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ فلسطین کے مسئلہ پر 1948 اور 1967 میں دو بڑی جنگیں ہو چکی ہیں تاہم پہلی عالمی جنگ کے بعد عرب ممالک کے حصے بخرے ہوگئے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد فلسطین میں یہودی آباد کاری کی راہیں ہموار ہوگئیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان انتہائی پیچیدہ تنازعہ پر دونوں اقوام کسی بھی حل پر متفق نہیں ہوسکیں، سرحدی تنازعات، باہمی شناخت، سلامتی، آبی حقوق، یروشلم پر کنٹرول، اسرائیلی بستیوں کا قیام، فلسطینیوں کی نقل و حرکت کی آزادی اور فلسطینیوں کا وطن واپسی کا حق یہ وہ نکات ہیں جن پر اسرائیل اور فلسطین کبھی متفق نہیں ہو پائے ۔
چند روز قبل ایک انٹرویو کے دوران وزیراعظم عمران خان نے یہ دو ٹوک موقف اپنایا کہ فلسطینیوں کو ان کا حق ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا فلسطین کو حق ملے گا تو اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔'' اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں مقبوضہ کشمیر کو بھی چھوڑدینا ہو گا کیونکہ دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے یہ دو ٹوک موقف ہر پاکستانی کے دلی جذبات ہیں، خوش آیند امر یہ ہے کہ سعودی عرب نے بھی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا موقف اپنایا ہے۔
وزیراعظم نے جس تاریخی سچائی کو بیان کیا ہے، اس کے پس منظر کچھ یوں ہے کہ اگست 1948 کو اپنے پیغامِ عید میں قائداعظمؒ نے فرمایا تھا ''تمام اسلامی مملکتوں کو عید مبارک ہو۔ میرا عید کا پیغام سوائے دوستی اور بھائی چارے کے اور کیا ہوسکتا ہے، ہم سب یکساں طور پر خطرناک اور کٹھن دور سے گزر رہے ہیں۔ سیاسی اقتدار کا جو ڈرامہ فلسطین' انڈونیشیا اور کشمیر میں کھیلا جارہا ہے، وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔
ہم اپنے اسلامی اتحاد کے ذریعے ہی دنیا کے مشورہ خانوں میں اپنی آواز کی قوت محسوس کراسکتے ہیں۔'' قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی دور اندیش فکر کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کرکے اسرائیل کی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور عالمی بدامنی کے خطرے کے پیشِ نظر اسرائیل کے اقوامِ متحدہ کا رکن بننے کی مخالفت کی۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے خلاف ووٹ دیکر اس صیہونی ریاست کو تسلیم نہ کیا۔ قائدِ اعظمؒ کی اِس غیرمبہم، واضح اور بایقین بصیرت کے پیشِ نظر فلسطینی قربانیوں سے پاکستانیوں کا تعلق پختہ تر و مضبوط تر ہے۔
اسرائیل کو تسلیم کرنا، ناجائز طریقہ سے غاصب و قابض طاقت کو قانونی و اخلاقی جواز فراہم کرنا ہے، معصوم اور بے گناہ فلسطینیوں کی موت کے پروانے پہ دستخط کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ ایک ظلم کو جائز تسلیم کرنا نئے ظلم کے لیے راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے، جیسا کہ مسئلہ کشمیر جو پاکستان اور بھارت کے درمیان گزری سات دہائیوں سے حل طلب ہے۔
موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنے قائد اور بانی کی دی ہوئی دانشمندانہ اور مبنی برحق حکمت عملی کو پورے جوش و خروش سے اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ دنیا میں اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ فلسطین کے متعلق قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے افکار و نظریات کو نہ صرف زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے بلکہ اسے نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل کو آگہی ہو کہ عالم اسلام کے ان دونوں رہنماؤں کا وژن کس قدر وسیع تھا اور انھوں نے کئی دہائیاں قبل ہی اس مسئلہ کی حساسیت کو سمجھ لیا اور مسلم امہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔
مسئلہ فلسطین کو فلسطینیوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے اور اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کرنا چاہئیں۔ یہی پاکستان کا اصولی موقف ہے اور اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے عالمی معاہدوں کے تحت ہی امن حاصل کیا جاسکتا ہے اور جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ ہوئے بین الاقوامی امن معاہدوں کو تسلیم نہ کرلے اور امن قائم نہ ہوجائے تب تک تعلقات ممکن نہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر کی پانچ اگست 2019 والی حیثیت بحال ہونے تک بھارت سے مذاکرات نہیں ہونگے۔ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی اور دفتر خارجہ کی کوششوں کی بدولت ہندو توا اور آر ایس ایس کا نظریہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگنے سے اسمگلنگ ختم ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ صائب ہیں۔ بھارت کسی بھی عالمی ادارے کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہ دے کر حقیقی تصویر کو چھپا رہا ہے۔
ہم سب اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ بھارت کی یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائی کا مقصد جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنا اور باہر کے افراد کو وہاں آباد ہونے کی اجازت دے کر اس کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔
کشمیری عوام نے گزشتہ 72 سال سے غاصب اور ظالم بھارتی فوجوں اور دوسری سیکیورٹی فورسز کے جبر و تشدد کو برداشت کرتے، ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرتے اور متعصب بھارتی لیڈران کے مکر و فریب کا مقابلہ کرتے ہوئے جس صبر و استقامت کے ساتھ اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے، وہ ایک مثال ہے، کشمیر کی آزادی کی تحریک انسانی تاریخ کی بے مثال تحریک ہے جس کی پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے منزل بھی متعین ہے۔
اس تناظر میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی درحقیقت پاکستان کی تکمیل و استحکام کی جدوجہد ہے جس کا دامے، درمے، قدمے، سخنے ہی نہیں' عملی ساتھ دینا بھی پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کی بنیادی اخلاقی ذمے داری ہے۔ بلاشبہ کشمیر کے حل کے لیے کی جانیوالی کاوشیں ایک دن ضرور کامیاب ہونگی اور کشمیر کی آزادی کی صبح طلوع ہوگی۔
فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اقوام عالم کی تشویش اور توجہ کا باعث ہونی چاہیے، اگر دنیا میں امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے تو مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔