پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس افسران کو سرکاری خرچ پر حج کرنے سے روکنے کی سفارش
سرکاری خرچ پرحج کیامگررقم واپس کردی،ڈی جی ریڈیو،کمیٹی نے ریڈیوکی مارکیٹنگ کامعاملہ آڈٹ حکام کوبھجوادیا، 3کمیٹیاں تشکیل
پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) نے مختلف ادوارکی آڈٹ رپورٹوں کاجائزہ لینے کیلیے 3 ذیلی کمیٹیاں تشکیل دیدیں۔ فوٹو: فائل
پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) نے مختلف ادوارکی آڈٹ رپورٹوں کاجائزہ لینے کیلیے 3 ذیلی کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں اور سفارش کی ہے کہ کسی سرکاری افسر کوسرکاری خرچ پرحج نہیں کرنا چاہیے۔
پبلک اکائونٹس کمیٹی کااجلاس چیئرمین خورشید شاہ کی زیرصدارت ہوا۔ ڈائریکٹرجنرل ریڈیوپاکستان ثمینہ پرویزنے کمیٹی کو بتایاکہ انھوں نے سرکاری خرچ پرحج کیامگر رقم واپس کر دی تھی،کمیٹی کے استفسارپرڈی جی ریڈیونے بتایاکہ وہ ریڈیو کے اخراجات پرحج پرگئی تھیں مگر وزارت کی جانب سے اجازت نہ ملنے پرحج سے واپس آتے ہی تمام رقم جمع کرادی تھی۔کمیٹی نے کہا کہ آپ نے پیسے توواپس کردیے تاہم ایسا نہیں ہوناچاہیے،کوئی بھی سرکاری افسر سرکاری خرچ پر حج نہ کرے۔
وزارت اطلاعات کے حکام نے بتایاکہ ریڈیوکی جانب سے نجی کمپنی کو مارکیٹنگ کاکنٹریکٹ دینے کے حوالے سے رپورٹ مانگی گئی تھی جو تیار ہوچکی ہے۔ ڈی جی ریڈیونے بتایاکہ سال 2000 سے2009 تک نجی کمپنی ایف ایم ون اوون کی مارکیٹنگ کرتی رہی، انھوں نے پیپرارولزکے تحت حاصل اختیار استعمال کرتے ہوئے مارکیٹنگ کاٹھیکہ دینے کیلیے اشتہار دیا تو 4 کمپنیوںنے درخواست دی، 2کو شارٹ لسٹ کیاگیا، لاونڈ اینڈ کلیئرکمپنی کوکنٹریکٹ دیا گیا۔کمیٹی نے معاملہ آڈٹ کیلیے بھجواتے ہوئے 2ہفتے میںرپورٹ طلب کرلی۔
پبلک اکائونٹس کمیٹی کااجلاس چیئرمین خورشید شاہ کی زیرصدارت ہوا۔ ڈائریکٹرجنرل ریڈیوپاکستان ثمینہ پرویزنے کمیٹی کو بتایاکہ انھوں نے سرکاری خرچ پرحج کیامگر رقم واپس کر دی تھی،کمیٹی کے استفسارپرڈی جی ریڈیونے بتایاکہ وہ ریڈیو کے اخراجات پرحج پرگئی تھیں مگر وزارت کی جانب سے اجازت نہ ملنے پرحج سے واپس آتے ہی تمام رقم جمع کرادی تھی۔کمیٹی نے کہا کہ آپ نے پیسے توواپس کردیے تاہم ایسا نہیں ہوناچاہیے،کوئی بھی سرکاری افسر سرکاری خرچ پر حج نہ کرے۔
وزارت اطلاعات کے حکام نے بتایاکہ ریڈیوکی جانب سے نجی کمپنی کو مارکیٹنگ کاکنٹریکٹ دینے کے حوالے سے رپورٹ مانگی گئی تھی جو تیار ہوچکی ہے۔ ڈی جی ریڈیونے بتایاکہ سال 2000 سے2009 تک نجی کمپنی ایف ایم ون اوون کی مارکیٹنگ کرتی رہی، انھوں نے پیپرارولزکے تحت حاصل اختیار استعمال کرتے ہوئے مارکیٹنگ کاٹھیکہ دینے کیلیے اشتہار دیا تو 4 کمپنیوںنے درخواست دی، 2کو شارٹ لسٹ کیاگیا، لاونڈ اینڈ کلیئرکمپنی کوکنٹریکٹ دیا گیا۔کمیٹی نے معاملہ آڈٹ کیلیے بھجواتے ہوئے 2ہفتے میںرپورٹ طلب کرلی۔