طالبان سے مذاکرات نہ ہوئے تو دوسرا آپشن استعمال کرنا پڑیگا قادر بلوچ

مذاکرات مسائل کا حل ہیں، آپریشن کا اختیار سول ایگزیکٹوز کے پاس ہونا چاہیے، جاوید ہاشمی

حکومت کے فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جاتے ہیں۔ ہر شخص کو ملکی معاملات میں رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ فوٹو: فائل

ن لیگ کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت کے فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جاتے ہیں۔ ہر شخص کو ملکی معاملات میں رائے دینے کا حق حاصل ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کی بات کو فوکس نہیں کرنا چاہیے جمہوری دور ہے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں۔ یہ بات تو واضح ہے کہ اگر طالبان سے مذاکرات نہیں ہونگے توپھر دوسراآپشن استعمال کرنا ہی پڑیگا۔ طالبان کے بیشمار گروپس ہیں جن میں سے کچھ مذاکرات کے حق میں ہیں کچھ نہیں ہیں، اگر ملا فضل اللہ نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ مذاکرات نہیں کرنے تو پھر کوئی بھی مذاکرات کیلیے مجبور نہیں کرسکتا۔ تحریک انصاف کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ ہماری حیثیت جنگ والی نہیں ہے اگر حکومت طالبان سے جنگ کا فیصلہ کریگی تو ہم دوسری طرف کھڑے نہیں ہوں گے۔ پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے کہ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں۔ ہماراصوبہ فرنٹ لائن پر ہے جس میں روز کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ ہم صرف تماشا دیکھ رہے ہیں مذاکرات کی باقاعدہ تیاری کی جاتی ہے جو باتیں ہم کر رہے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب آپریشن کا فیصلہ ہوگا تو اختیار سول ایگزیکٹوزکے پاس ہونا چاہئے۔




امریکا خطے سے پوری طرح نہیں جانا چاہتا، ہمیں پورے خطے کی سکیورٹی کو دیکھنا چاہئے تمام حالات کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ ہم نے حکومت کو مذاکرات کا اختیار دے رکھا ہے اور یہ اختیار کسی نے واپس نہیں لیا۔ پوری دنیا میں مسائل ہوتے ہیں اور مذاکرات کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت فیملی کارپوریشن کی طرح چلائی جا رہی ہے اور اس کارپوریشن کے لوگ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کسی بھی حکومتی فیصلے میں سندھ، بلوچستان کو شامل نہیں کیا جا رہا، نوازشریف کی فیصلہ سازی میں چند لوگ شامل ہیں جو ان کے گھر کے لوگ ہیں یا چند قریبی ساتھی ہیں۔ اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتوں نے ان کو مینڈیٹ دیا مگر نوازشریف نے فیصلے کرنے میں سستی دکھائی ہے۔ موجودہ حکومت آج وہی کام کررہی ہے جن پر ہماری حکومت میں تنقید ہوا کرتی تھی۔ لڑائی صرف طالبان سے نہیں پورے ملک میں پھیلے ہوئے اس ٹرینڈ سیٹ سے ہے جو مسائل کی وجہ بن رہا ہے۔ حکومت کو خود فیصلہ کرنا چاہئے کہ کن لوگوں کے خلاف آپریشن کرنا ہے کن سے مذاکرات کرنے ہیں۔
Load Next Story