ہیم ٹیکسٹائل نمائش ختم پاکستانی کمپنیوں کو اچھے نتائج کی امید
پاکستانی نمائش کنندگان نے شرکت کوبہترفیصلہ قراردیا،متعدد عالمی برانڈز سے مذاکرات
امریکا،جاپان، برازیل ودیگر ممالک کاپاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات خریدنے میں اظہاردلچسپی
MUZAFFARABAD:
میسے فرینکفرٹ کے تحت منعقدہ شعبہ ٹیکسٹائل کی بین الاقوامی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2014 میں 133 ممالک سے 67 ہزار کی شرکت کے بعد کامیابی کے ساتھ اختتام پزیرہوگئی۔
میسے فرینکفرٹ بورڈ آف ڈائریکٹر ڈیلٹن برون کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت نمائش زیادہ کامیاب رہی کیونکہ وزٹرز اور نمائش کنندگان کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہوا ہے، نمائش میں آنے والے 94 فیصد وزٹرز نے اپنے مقاصد حاصل کرلیے اور نمائش کا معیار بہتر ہوا۔ 79 فیصد نمائش کنندگان نے کہاکہ وہ اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب رہے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ شرح78 فیصد تھی، نمائش کی اہم بات یہ ہے کہ 66 فیصد وزٹراور88 فیصد اسٹال ہولڈرز جرمنی سے باہر کے تھے، رواں سال اسیکنڈے نیوین ممالک، مشرقی یورپ، جنوبی کوریا اور پاکستان سے آنے والے نمائش کنندگان کی تعداد بڑھی ہے، نمائش میں ڈیجیٹل پرنٹنگ کے اسٹالز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کارپٹ سیکٹر نے جس طرح نمائش میں دلچسپی ظاہر کی ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہیم ٹیکسٹائل2015 میں کارپٹ سیکٹر کو بھی جگہ مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نمائش میں شریک پاکستانی نمائش کنندگان کی اکثریت نے نمائش میں شرکت کو اپنے کاروبار کے لیے اچھی پیشرفت قراردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نمائش میں کئی بین الاقوامی برانڈز کے نمائندوں سے ان کے مذاکرات ہوئے جن کے نتائج یقیناً اچھے نکلیں گے۔ پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد انکی بارگیننگ پوزیشن اچھی ہوگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا، جاپان، برازیل سمیت دیگر ممالک نے بھی ان سے مال خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، نمائش میں جاپان، جنوبی امریکی و دیگر ممالک کے خریداروں کی بڑی تعداد تک پاکستانی برآمدکنندگان کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہیم ٹیکس نمائش میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے علاوہ یورپ میں قائم پاکستانی سفارتی مشنز بھی متحرک نظر آئے۔
میسے فرینکفرٹ کے تحت منعقدہ شعبہ ٹیکسٹائل کی بین الاقوامی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2014 میں 133 ممالک سے 67 ہزار کی شرکت کے بعد کامیابی کے ساتھ اختتام پزیرہوگئی۔
میسے فرینکفرٹ بورڈ آف ڈائریکٹر ڈیلٹن برون کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت نمائش زیادہ کامیاب رہی کیونکہ وزٹرز اور نمائش کنندگان کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہوا ہے، نمائش میں آنے والے 94 فیصد وزٹرز نے اپنے مقاصد حاصل کرلیے اور نمائش کا معیار بہتر ہوا۔ 79 فیصد نمائش کنندگان نے کہاکہ وہ اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب رہے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ شرح78 فیصد تھی، نمائش کی اہم بات یہ ہے کہ 66 فیصد وزٹراور88 فیصد اسٹال ہولڈرز جرمنی سے باہر کے تھے، رواں سال اسیکنڈے نیوین ممالک، مشرقی یورپ، جنوبی کوریا اور پاکستان سے آنے والے نمائش کنندگان کی تعداد بڑھی ہے، نمائش میں ڈیجیٹل پرنٹنگ کے اسٹالز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کارپٹ سیکٹر نے جس طرح نمائش میں دلچسپی ظاہر کی ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہیم ٹیکسٹائل2015 میں کارپٹ سیکٹر کو بھی جگہ مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نمائش میں شریک پاکستانی نمائش کنندگان کی اکثریت نے نمائش میں شرکت کو اپنے کاروبار کے لیے اچھی پیشرفت قراردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نمائش میں کئی بین الاقوامی برانڈز کے نمائندوں سے ان کے مذاکرات ہوئے جن کے نتائج یقیناً اچھے نکلیں گے۔ پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد انکی بارگیننگ پوزیشن اچھی ہوگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا، جاپان، برازیل سمیت دیگر ممالک نے بھی ان سے مال خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، نمائش میں جاپان، جنوبی امریکی و دیگر ممالک کے خریداروں کی بڑی تعداد تک پاکستانی برآمدکنندگان کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہیم ٹیکس نمائش میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے علاوہ یورپ میں قائم پاکستانی سفارتی مشنز بھی متحرک نظر آئے۔