پانی کا مسئلہ اور ارسا
ارسا نے پاکستان پیپلز پارٹی کے خدشات پر صائب رد عمل دیا ہے۔
ارسا نے پاکستان پیپلز پارٹی کے خدشات پر صائب رد عمل دیا ہے۔ فوٹو: فائل
ملک میں قلت آب کا ایشو پھر سے سامنے آیا ہے، یہ ہماری آبی تاریخ کا عجیب المیہ ہے کہ سیاسی نظام نے کبھی ان بنیادی معاشی مسائل کا احاطہ نہیں کیا اور نہ ملکی ڈیموں کی تعمیر اور پرانے ڈیمز میں دلدلی مٹی کی نکاسی ، صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم یا عوام کی اپنی ضروریات پر سنجیدہ غور وفکر کی طرف دھیان دیا، ملک میں جو دو ڈیم تربیلہ اور منگلا نام سے ہیں وہ بھی اپنی طبعی مدت پوری کرچکے ہیں۔
پینے کے پانی، آبپاشی کی ضروریات اور نہری نظام سے مربوط سسٹم پر پڑنے والے دباؤ کے جتنے انتظامی، فنی اور برقی معاملات ہیں ان پر ترقیاتی کام ایک خاص رفتار اور پلاننگ کے ساتھ جاری ہیں لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ جب بھارت کسی سازش یا پاکستان کو آبی مشکل میں ڈالنے کا تہیہ کرتا ہے تو ارسا سمیت دیگر حکومتی ماہرین عالمی اداروں کی طرف رجوع کرتے ہیں، مذاکرات ہوتے ہیں، پھر عالمی بینک کے ماہرین تکنیکی معاملات میں الجھ جاتے ہیں، انڈس واٹر ٹریٹی کی تاریخ اور ملکی آبی پالیسی کی پوری تاریخ ایک سانپ اور سیڑھی کے کھیل میں الجھتی نظر آتی ہے۔
کئی بار بھارت نے پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے خطرات پیدا کیے، سندھ اور پنجاب کو قحط اور خشک سالی سے بنجر بنانے کی اپنی سی ہرکوشش کرکے دیکھ لیا مگر اپنی اس کوشش میں کبھی کامیاب نہیں رہا لیکن یہ آبی قلت کا وہ تکنیکی بیانیہ ہے جس کا حل عالمی سطح پر دونوں ملکوں کے آبی ماہرین کی بات چیت میں مضمر ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا بھرکے ماہرین آبی قلت اور پینے کے پانی کے بحران کے خطرے سے تو مسلسل خبردار کررہے ہیں لیکن اس طرف جس سنجیدہ طرز عمل کی ضرورت ہے اس پر ذمے دار حلقے وقت کی للکار پر توجہ دینے پر غالباً تیار نہیں۔
بھارت نے پاکستان کے دریائی پانی کا رخ موڑنے کی جعلسازی دکھائی، غیر قانونی ڈیمز کی تعمیر مکمل کرائی۔کب پانی چھوڑ دیا ، پاکستان کو بتایا بھی نہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان آبی پالیسی بنائے اور اسے قومی ترجیحات میں اولیت دے اور نئے ڈیموں کی تعمیر کو قومی اقتصادی پیش رفت سے مربوط کرتے ہوئے روایتی انداز میں قوم کی امنگوں اور معاشی و زرعی تقاضوں سے ہم آہنگ کرے، اس اہم ایشو کو سیاسی کشمکش، محاذ آرائی اور بیان بازی کی نذر نہ کرے۔
ملک آبی ضروریات اور قومی ترقی و خوشحالی کے لیے ایک بڑی پیش قدمی کا منتظر ہے لیکن اس ادراک حقیقت کے ساتھ کہ ملک کی زراعت پر حکومت کو اپنی توجہ مرکوز کرنے کے لیے درست طرز عمل اور زرعی اور ڈیمز پالیسی کے تناظر میں میکنزم کی مرکزیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور اپنی توانائی کو غیر ملکی آبی جارحیت سے نمٹنے اور زراعت و فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے پر مرکوز رکھنا چاہیے۔ میڈیا کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے خبردار کیا ہے کہ قومی سطح پر پانی کی قلت 30 فیصد تک بڑھ گئی ہے اور آیندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت قومی سطح پر قلت آب کی وجہ سے پانی کی تقسیم میں 18 فیصد کمی ہوئی ہے جو تقریباً 10 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔ ارسا کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ آیندہ دو دن بہت اہم ہیں اگر درجہ حرارت موجودہ طرزکو برقرار رکھتا ہے تو '' ہم بہت بڑی پریشانی میں پڑ جائیں گے'' دوسری جانب پنجاب نے ارسال مراسلے میں سخت احتجاج کیا ہے۔ ارسا کو لکھے گئے احتجاجی مراسلے میں کہا گیا کہ دستیاب آبی وسائل پر نظر ثانی کرنے کے بجائے ارسا نے منگلا ڈیم سے پنجند کے ذریعے سندھ کو اضافی پانی کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔
جس سے شارٹ فال 25 سے 30 فیصد کی حد میں ہوسکتا ہے۔ ارسا کے فیصلے سے پنجاب کو 26 فیصد قلت آب کا سامنا ہوگا جب کہ سندھ کو 15 فیصد جس کے نتیجے میں پنجاب میں 12.78 ملین ایکڑ رقبے کا سی سی اے نمایاں طور پر کم ہوگا۔
دوسری جانب ارسا کے ترجمان رانا خالد نے ارسا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اسٹیک ہولڈرکاٹن کی بوائی پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا ہے جو مستقبل میں کمی کا باعث بنے۔ یہ ذخائر مربوط استعمال کے لیے ہیں اگر آج سندھ کے لیے منگلا ڈیم کا پانی ہے تو کل اس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہروں (دریائے سندھ سے پانی کی منتقلی) کے ذریعے مدد فراہم کی جائے گی۔ رانا خالد نے مزید کہا کہ اتھارٹی موجودہ استعمال کو مستقبل کی ضروریات کے ساتھ توازن بنا رہی ہے اور باقی سیزن میں زیادہ سے زیادہ پانی کی بچت کررہی ہے۔
پنجاب واٹر کونسل کے ایک رکن نے بتایا کہ ارسا کا حساب کتاب اتنا غلط ثابت کیوں ہوا، 10 فیصد کے خلاف انھوں نے تین گنا تقسیم کیوں کیا؟ تمام اشاریے تھے کہ 16 سال اوسطاً 27 انچ کی برف کے خلاف رواں سال صرف 12 انچ برف باری ہوئی، اس میں حقیقت کیوں نہیں ہے؟ بدترین خوف میں مبتلا پنجاب کا کہنا تھا کہ منگلا ذخیرہ اپنی متوقع سطح پر 53.30 فٹ کی کمی کا سامنا کر رہا تھا جیسا کہ ارسا نے پیش گوئی کی ہے اور ارسا کے حساب سے اس کے مقابلے میں حجم میں 75 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے اگر یہ رجحان جاری رہا تو اگلے 15 دنوں میں منگلا سے اخراج کم ہوکر تقریبا 38 ہزار کیوسک ہوجائے گا جس سے خریف کی بوائی پر زبردست اثر پڑے گا۔
ارسا نے پاکستان پیپلز پارٹی کے خدشات پر صائب رد عمل دیا ہے، ادارہ کا کہنا ہے کہ پانی میں کمی موسمیاتی اور گرمی کی پیدا کردہ صورتحال کا نتیجہ ہے، اسے ایشو نہیں بنانا چاہیے، صوبوں میں پانی کی دانستہ تقسیم میں بے ضابطگی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ارسا نے صوبہ سندھ کو پانی کی فراہمی میں اضافہ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت سے تکنیکی معاملے پر سیاست کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واٹر ریگولیٹر نے بتایا سندھ کے لیے پانی کی فراہمی کو 66 ہزار سے 71 ہزار کیوبک فٹ فی سیکنڈ (کیوبک فٹ) تک کردیا ہے۔
واٹر ریگولیٹر نے خبردار بھی کیا کہ صوبہ سندھ اپنے علاقوں میں 39 فیصد نقصان کی اطلاع دے رہا ہے جب کہ یہ حد 30 فیصد ہے۔ ارسا کے ترجمان خالد ادریس رانا نے ایک بیان میں کہا کہ سندھ آبپاشی کے حکام آب پاشی کی قلت کے باوجود کوٹری میں ندی کے پانی کے بہاؤ کی بھی اجازت دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب میں 'سندھ کے پانی کا حصہ کم کرنے اور نہروں کے ذریعے پانی کی مبینہ چوری' کرنے پر وفاقی حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔
ارسا کے ترجمان خالد ادریس رانا نے واضح کیا کہ اس کی ایڈوائزری کمیٹی نے 8 اپریل کو خریف 2021 کے لیے پانی کی فراہمی کا معیار، خریف کے اوائل میں 16 فیصد اور خریف کے آخر میں 4 فیصد کی کمی، کے ساتھ منظور کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ سندھ سمیت تمام صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پانی کے موثر استعمال اور تقسیم کے طریقوں سے متوقع قلت کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حصص کی تقسیم تین درجے کے فارمولے کے مطابق تھی جس پر سندھ نے بھی اتفاق کیا تھا۔ بدقسمتی سے گزشتہ ماہ سے علاقائی آب و ہوا میں بدلاؤ اور تربیلا، منگلا اور آبی ذخائر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
اپریل میں تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ کی سطح تاریخ میں سب سے کم 15 ہزار سی ایف ایس سے 13 ہزار سی ایف ایس تک پہنچ گئی تھی۔ منگلا ذخائر کے اخراج کو کم کرنے پر سندھ کے اعتراض پر ارسا نے کہا کہ آبی ذخائر کو محدود حد تک برقرار رکھنے کے لیے 3 مئی کو فوری طور پر 55 ہزار سے 50 ہزار سی ایف ایس گھنٹہ کر دیا گیا تھا۔ ارسا کے ترجمان خالد ادریس رانا نے بتایا کہ اسی دوران سندھ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 0.710 ایم اے ایف تک پانی منگلا ذخائر سے خصوصی طور پر 6 اپریل سے 2 مئی تک چھوڑا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ارسا کی اولین ذمے داری پنجاب اور سندھ کے مابین 10 جون تک کی کمی کو متوازن کرنا ہے اور متفقہ پیرامیٹرز میں رہ کر پانی کی فراہمی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
خالد ادریس رانا نے بتایا کہ ''پنجاب نے توقع کے مقابلے میں 16 اور سندھ نے 4 فیصد کم پانی استعمال کیا ہے'' بلاول بھٹو زرداری کے الزامات کے جواب میں واٹر ریگولیٹر نے کہا کہ اس نے سندھ کے پانی کا حصہ نہیں کم کیا بلکہ حقیقت میں پنجاب کے پانی کوکم کرکے تونسہ کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ تربیلا اور چشمہ آبی ذخائر میں ندی کے بہاؤ میں موجودہ ڈپ کو غیر ضروری طور پر نیچے بہا دیا گیا تھا کیوں کہ کوئی باقاعدہ ذخیرہ موجود نہیں تھا۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں دس ڈیموں کی تعمیر کی نوید دی ہے، اس کمٹمنٹ پر ارباب اختیارکو قائم رہنا چاہیے، یہ وقت کا تقاضہ ہے۔
علاوہ ازیں وزیراعظم نے مہمند ڈیم کے مقام پر جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہمارے لیے سب سے سستی بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بڑے ڈیم تھے لیکن اس جانب توجہ نہیں دی جا سکی۔ ماضی میں باہر سے قرض لے کر پاور پراجیکٹ کمیشن کھانے کے لیے لگائے جاتے رہے، یہ آسان طریقہ ہے۔ پاکستان میں50ہزار میگاواٹ پن بجلی کی استعداد موجود ہے، لیکن اس پر کام نہیں کیا گیا۔ ہم انتخابی سیاست کے بجائے طویل المدتی منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ ماضی میں ووٹ لینے کی سوچ تھی کہ جلد بجلی پیدا کرنے کے مہنگے منصوبے لگائیں ان میں کمیشن لیں۔
درحقیقت ہمیں بحیثیت قوم اپنے اندرونی اختلافات کو بھلا کر پانی کے مسئلہ پر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ،تاکہ یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوسکے اور ملک ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہوجائے ۔
پینے کے پانی، آبپاشی کی ضروریات اور نہری نظام سے مربوط سسٹم پر پڑنے والے دباؤ کے جتنے انتظامی، فنی اور برقی معاملات ہیں ان پر ترقیاتی کام ایک خاص رفتار اور پلاننگ کے ساتھ جاری ہیں لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ جب بھارت کسی سازش یا پاکستان کو آبی مشکل میں ڈالنے کا تہیہ کرتا ہے تو ارسا سمیت دیگر حکومتی ماہرین عالمی اداروں کی طرف رجوع کرتے ہیں، مذاکرات ہوتے ہیں، پھر عالمی بینک کے ماہرین تکنیکی معاملات میں الجھ جاتے ہیں، انڈس واٹر ٹریٹی کی تاریخ اور ملکی آبی پالیسی کی پوری تاریخ ایک سانپ اور سیڑھی کے کھیل میں الجھتی نظر آتی ہے۔
کئی بار بھارت نے پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے خطرات پیدا کیے، سندھ اور پنجاب کو قحط اور خشک سالی سے بنجر بنانے کی اپنی سی ہرکوشش کرکے دیکھ لیا مگر اپنی اس کوشش میں کبھی کامیاب نہیں رہا لیکن یہ آبی قلت کا وہ تکنیکی بیانیہ ہے جس کا حل عالمی سطح پر دونوں ملکوں کے آبی ماہرین کی بات چیت میں مضمر ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا بھرکے ماہرین آبی قلت اور پینے کے پانی کے بحران کے خطرے سے تو مسلسل خبردار کررہے ہیں لیکن اس طرف جس سنجیدہ طرز عمل کی ضرورت ہے اس پر ذمے دار حلقے وقت کی للکار پر توجہ دینے پر غالباً تیار نہیں۔
بھارت نے پاکستان کے دریائی پانی کا رخ موڑنے کی جعلسازی دکھائی، غیر قانونی ڈیمز کی تعمیر مکمل کرائی۔کب پانی چھوڑ دیا ، پاکستان کو بتایا بھی نہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان آبی پالیسی بنائے اور اسے قومی ترجیحات میں اولیت دے اور نئے ڈیموں کی تعمیر کو قومی اقتصادی پیش رفت سے مربوط کرتے ہوئے روایتی انداز میں قوم کی امنگوں اور معاشی و زرعی تقاضوں سے ہم آہنگ کرے، اس اہم ایشو کو سیاسی کشمکش، محاذ آرائی اور بیان بازی کی نذر نہ کرے۔
ملک آبی ضروریات اور قومی ترقی و خوشحالی کے لیے ایک بڑی پیش قدمی کا منتظر ہے لیکن اس ادراک حقیقت کے ساتھ کہ ملک کی زراعت پر حکومت کو اپنی توجہ مرکوز کرنے کے لیے درست طرز عمل اور زرعی اور ڈیمز پالیسی کے تناظر میں میکنزم کی مرکزیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور اپنی توانائی کو غیر ملکی آبی جارحیت سے نمٹنے اور زراعت و فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے پر مرکوز رکھنا چاہیے۔ میڈیا کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے خبردار کیا ہے کہ قومی سطح پر پانی کی قلت 30 فیصد تک بڑھ گئی ہے اور آیندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت قومی سطح پر قلت آب کی وجہ سے پانی کی تقسیم میں 18 فیصد کمی ہوئی ہے جو تقریباً 10 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔ ارسا کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ آیندہ دو دن بہت اہم ہیں اگر درجہ حرارت موجودہ طرزکو برقرار رکھتا ہے تو '' ہم بہت بڑی پریشانی میں پڑ جائیں گے'' دوسری جانب پنجاب نے ارسال مراسلے میں سخت احتجاج کیا ہے۔ ارسا کو لکھے گئے احتجاجی مراسلے میں کہا گیا کہ دستیاب آبی وسائل پر نظر ثانی کرنے کے بجائے ارسا نے منگلا ڈیم سے پنجند کے ذریعے سندھ کو اضافی پانی کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔
جس سے شارٹ فال 25 سے 30 فیصد کی حد میں ہوسکتا ہے۔ ارسا کے فیصلے سے پنجاب کو 26 فیصد قلت آب کا سامنا ہوگا جب کہ سندھ کو 15 فیصد جس کے نتیجے میں پنجاب میں 12.78 ملین ایکڑ رقبے کا سی سی اے نمایاں طور پر کم ہوگا۔
دوسری جانب ارسا کے ترجمان رانا خالد نے ارسا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اسٹیک ہولڈرکاٹن کی بوائی پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا ہے جو مستقبل میں کمی کا باعث بنے۔ یہ ذخائر مربوط استعمال کے لیے ہیں اگر آج سندھ کے لیے منگلا ڈیم کا پانی ہے تو کل اس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہروں (دریائے سندھ سے پانی کی منتقلی) کے ذریعے مدد فراہم کی جائے گی۔ رانا خالد نے مزید کہا کہ اتھارٹی موجودہ استعمال کو مستقبل کی ضروریات کے ساتھ توازن بنا رہی ہے اور باقی سیزن میں زیادہ سے زیادہ پانی کی بچت کررہی ہے۔
پنجاب واٹر کونسل کے ایک رکن نے بتایا کہ ارسا کا حساب کتاب اتنا غلط ثابت کیوں ہوا، 10 فیصد کے خلاف انھوں نے تین گنا تقسیم کیوں کیا؟ تمام اشاریے تھے کہ 16 سال اوسطاً 27 انچ کی برف کے خلاف رواں سال صرف 12 انچ برف باری ہوئی، اس میں حقیقت کیوں نہیں ہے؟ بدترین خوف میں مبتلا پنجاب کا کہنا تھا کہ منگلا ذخیرہ اپنی متوقع سطح پر 53.30 فٹ کی کمی کا سامنا کر رہا تھا جیسا کہ ارسا نے پیش گوئی کی ہے اور ارسا کے حساب سے اس کے مقابلے میں حجم میں 75 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے اگر یہ رجحان جاری رہا تو اگلے 15 دنوں میں منگلا سے اخراج کم ہوکر تقریبا 38 ہزار کیوسک ہوجائے گا جس سے خریف کی بوائی پر زبردست اثر پڑے گا۔
ارسا نے پاکستان پیپلز پارٹی کے خدشات پر صائب رد عمل دیا ہے، ادارہ کا کہنا ہے کہ پانی میں کمی موسمیاتی اور گرمی کی پیدا کردہ صورتحال کا نتیجہ ہے، اسے ایشو نہیں بنانا چاہیے، صوبوں میں پانی کی دانستہ تقسیم میں بے ضابطگی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ارسا نے صوبہ سندھ کو پانی کی فراہمی میں اضافہ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت سے تکنیکی معاملے پر سیاست کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واٹر ریگولیٹر نے بتایا سندھ کے لیے پانی کی فراہمی کو 66 ہزار سے 71 ہزار کیوبک فٹ فی سیکنڈ (کیوبک فٹ) تک کردیا ہے۔
واٹر ریگولیٹر نے خبردار بھی کیا کہ صوبہ سندھ اپنے علاقوں میں 39 فیصد نقصان کی اطلاع دے رہا ہے جب کہ یہ حد 30 فیصد ہے۔ ارسا کے ترجمان خالد ادریس رانا نے ایک بیان میں کہا کہ سندھ آبپاشی کے حکام آب پاشی کی قلت کے باوجود کوٹری میں ندی کے پانی کے بہاؤ کی بھی اجازت دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب میں 'سندھ کے پانی کا حصہ کم کرنے اور نہروں کے ذریعے پانی کی مبینہ چوری' کرنے پر وفاقی حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔
ارسا کے ترجمان خالد ادریس رانا نے واضح کیا کہ اس کی ایڈوائزری کمیٹی نے 8 اپریل کو خریف 2021 کے لیے پانی کی فراہمی کا معیار، خریف کے اوائل میں 16 فیصد اور خریف کے آخر میں 4 فیصد کی کمی، کے ساتھ منظور کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ سندھ سمیت تمام صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پانی کے موثر استعمال اور تقسیم کے طریقوں سے متوقع قلت کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حصص کی تقسیم تین درجے کے فارمولے کے مطابق تھی جس پر سندھ نے بھی اتفاق کیا تھا۔ بدقسمتی سے گزشتہ ماہ سے علاقائی آب و ہوا میں بدلاؤ اور تربیلا، منگلا اور آبی ذخائر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
اپریل میں تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ کی سطح تاریخ میں سب سے کم 15 ہزار سی ایف ایس سے 13 ہزار سی ایف ایس تک پہنچ گئی تھی۔ منگلا ذخائر کے اخراج کو کم کرنے پر سندھ کے اعتراض پر ارسا نے کہا کہ آبی ذخائر کو محدود حد تک برقرار رکھنے کے لیے 3 مئی کو فوری طور پر 55 ہزار سے 50 ہزار سی ایف ایس گھنٹہ کر دیا گیا تھا۔ ارسا کے ترجمان خالد ادریس رانا نے بتایا کہ اسی دوران سندھ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 0.710 ایم اے ایف تک پانی منگلا ذخائر سے خصوصی طور پر 6 اپریل سے 2 مئی تک چھوڑا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ارسا کی اولین ذمے داری پنجاب اور سندھ کے مابین 10 جون تک کی کمی کو متوازن کرنا ہے اور متفقہ پیرامیٹرز میں رہ کر پانی کی فراہمی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
خالد ادریس رانا نے بتایا کہ ''پنجاب نے توقع کے مقابلے میں 16 اور سندھ نے 4 فیصد کم پانی استعمال کیا ہے'' بلاول بھٹو زرداری کے الزامات کے جواب میں واٹر ریگولیٹر نے کہا کہ اس نے سندھ کے پانی کا حصہ نہیں کم کیا بلکہ حقیقت میں پنجاب کے پانی کوکم کرکے تونسہ کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ تربیلا اور چشمہ آبی ذخائر میں ندی کے بہاؤ میں موجودہ ڈپ کو غیر ضروری طور پر نیچے بہا دیا گیا تھا کیوں کہ کوئی باقاعدہ ذخیرہ موجود نہیں تھا۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں دس ڈیموں کی تعمیر کی نوید دی ہے، اس کمٹمنٹ پر ارباب اختیارکو قائم رہنا چاہیے، یہ وقت کا تقاضہ ہے۔
علاوہ ازیں وزیراعظم نے مہمند ڈیم کے مقام پر جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہمارے لیے سب سے سستی بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بڑے ڈیم تھے لیکن اس جانب توجہ نہیں دی جا سکی۔ ماضی میں باہر سے قرض لے کر پاور پراجیکٹ کمیشن کھانے کے لیے لگائے جاتے رہے، یہ آسان طریقہ ہے۔ پاکستان میں50ہزار میگاواٹ پن بجلی کی استعداد موجود ہے، لیکن اس پر کام نہیں کیا گیا۔ ہم انتخابی سیاست کے بجائے طویل المدتی منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ ماضی میں ووٹ لینے کی سوچ تھی کہ جلد بجلی پیدا کرنے کے مہنگے منصوبے لگائیں ان میں کمیشن لیں۔
درحقیقت ہمیں بحیثیت قوم اپنے اندرونی اختلافات کو بھلا کر پانی کے مسئلہ پر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ،تاکہ یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوسکے اور ملک ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہوجائے ۔