ہائیکورٹ نے پولیس سے لاپتہ بچوں کی مکمل رپورٹ طلب کرلی

شہر کے 4 تھانوں کی رپورٹ پیش، دیگرتھانوں کی رپورٹ تیارہورہی ہیں،اندرون سندھ کے پولیس حکام نے جواب نہیں دیا،اے آئی جی

43 بچوں کی گمشدگی کی شکایات موصول ہوئی ہیں،سی پی ایل سی،پولیس بچوںکی گمشدگی کے مقدمے درج نہیں کرتی، درخواست گزار۔ فوٹو: فائل

FAISALABAD:
عدالت عالیہ نے لاپتہ بچوں کے حوالے سے شہر کے تھانوں اور لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور حیدرآباد کے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

جسٹس غلام سرورکورائی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے بچوں کی گمشدگی کے مقدمات درج نہ کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر بتایا گیا کہ مختلف تھانوں کے تھانیداروں نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گمشدہ بچوں کی فہرست پیش کی گئی تھی ان میں سے کئی بچے اپنے گھروں کو واپس آچکے ہیں، اے آئی جی لیگل علی شیر جکھرانی نے ڈیفنس، تیموریہ، جیکسن اور ڈاکس تھانوں کی رپورٹ پیش کرکے بتایا کہ دیگر تھانوں کی رپورٹ تیار کی جارہی ہے جبکہ کئی تھانوں کی رپورٹ پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے انھوں نے بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق لاڑکانہ،سکھر،میر پورخاص اور حیدرآباد کے ڈی آئی جیزکو خط لکھا گیا ہے مگر تاحال جواب موصول نہیں ہوا، عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔




سی پی ایل سی کی جانب سے بتایا گیا کہ اشتہارات شائع ہونے کے بعد بچوں کی گمشدگی سے متعلق43 شکایات موصول ہوئی ہیں،گزشتہ سماعت پر پولیس کی جانب سے 30 بچوں کی گمشدگی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی تھی،روشنی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ویلفیئرآرگنائزیشن کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی گمشدگی کے حوالے سے پولیس مقدمات درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتی ہے، اس حوالے سے مقدمہ درج کرنے سے گریز کیا جاتا ہے بعد ازاں صرف روزنامچے میں اندراج کیا جاتا ہے، سالانہ 6 ہزار بچے لاپتہ ہوجاتے ہیں اور پولیس روزنامچوں میں صرف3 ہزار کا اندراج ہوتا ہے، لاپتہ بچوں کے حوالے پولیس مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہورہی ہے، بچوں کو اغوا کرکے انھیں غیر قانونی کاموں میں استعمال کیاجاتا ہے۔
Load Next Story