جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کیا جائے
حماس نے اس جنگ بندی کو ’’فلسطینی عوام کی فتح‘‘ قرار دیا۔
حماس نے اس جنگ بندی کو ’’فلسطینی عوام کی فتح‘‘ قرار دیا۔ (فوٹو: فائل)
اسرائیل اور حماس جنگ بندی پررضامند ہوگئے ہیں ،جنگ بندی کے کچھ ہی منٹوں بعد غزہ میں لوگوں نے جشن منایا اور سڑکوں پر نکل آئے۔حماس نے اس جنگ بندی کو ''فلسطینی عوام کی فتح'' قرار دیا اور کہا کہ جو مکانات بھی اس لڑائی میں تباہ ہوئے ہیں انھیں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
عالمی سطح پر اس جنگ بندی کو سراہا گیا ہے ۔امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران اس جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مزید پیش رفت کے لیے ایک حقیقی موقع ہے۔ پاکستان نے بھی اس جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا، ''یہ متحدہ، اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
یہ انصاف پر مبنی ایک مقصد کے لیے ہر شخص اور قوم کی کوشش کا ثمرہ ہے۔ کاش یہ جنگ بندی فلسطین میں دائمی امن کے لیے پہلا قدم ثابت ہو۔'' اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ اسرائیلی فوج اور فلسطینی گروپوں کے درمیان مسلسل حملوں کا تبادلہ ناقابل قبول ہے 'انھوں نے کہا کہ ''اگر زمین پر کوئی جہنم ہے تو وہ غزہ میں رہنے والے بچوں کی زندگی ہے۔'' یہ جملہ پوری سچائی کے ساتھ کہا گیا ہے اگر اس کی گہرائی کو محسوس کریں تو اسرائیلی مظالم کی بھیانک تصویر ذہن میں ابھرآتی ہے جو کسی بھی دردمند انسان کے دل کو رنجیدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
درحقیقت رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور شب قدر کی مبارک رات میں مسجد اقصیٰ کے اندر فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و بربریت نے دنیا بھر میں مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنادیا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ دراصل اسرائیل کی نوآبادیاتی، صیہونی اور سامراجی قبضہ گیر ریاست سے اپنی سرزمین اپنے وطن کا حق مانگنا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ، اسرائیلی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق سلب کرنا ہے اور ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا اور فلسطینی مہاجرین کی آبادکاری کو روکنا ہے۔ فلسطینیوں کی حمایت ہر اس شخص کو کرنی چاہیے جو نسل پرستی، جنگ اور سامراج کے خلاف ہے۔
دراصل مسئلہ فلسطین دنیا کا سب سے پیچیدہ اور حساس مسئلہ ہے۔اس لیے کہ اس قضیے میں مذہب، نسل اور کلچر کے تمام تر تضادات اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ جس علاقے پر اسرائیل نے جون 1967کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور جس کے متعلق فلسطینی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہی مستقبل کی فلسطینی ریاست ہے، اس میں سے ایک علاقہ دریائے اردن کے مغربی کنارے سے اسرائیل کی سرحد تک ہے۔ اس علاقے کا رقبہ چھ ہزار مربع کلو میٹر سے کچھ کم ہے اور اس کی آبادی بیس لاکھ ہے۔دوسرے علاقے کو غزہ کی پٹی کہتے ہیں۔
یہ اسرائیل کی مغربی سرحد،مصر اور بحیرہ روم میں گھری ہوئی ایک چھوٹی سی پٹی ہے جس کا رقبہ تین سو سا ٹھ مربع کلو میٹر ہے اور جس کی آبادی گیارہ لاکھ ہے۔گویا مجوزہ فلسطینی ریاست میں اکتیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔
دوسری جانب لندن، مانچسٹر اور دیگر ممالک میں بڑے پیمانے پر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیل کی نوآبادیاتی نسل پرست حکومت کے خلاف مظاہروں نے ان عرب حکومتوں پر بھی شدید دباؤ بڑھادیا ہے، جنھوں نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔
اس وقت علاقائی حکومتیں اس بات پر خوفزدہ ہیں کہ فلسطینی مزاحمت کی حالیہ لہر خطہ میں نہ پھیل جائے کیونکہ عام عوام کے دل اور ان کی ہمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ اسرائیل چونکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کا اہم ترین اتحادی ہے اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے واچ ڈاگ (Watch Dog) کا کردار ادا کرتا رہتا ہے۔ امریکا خطہ میں اسرائیل کی برتری اور اس کی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بلین ڈالرز خرچ کرچکا ہے۔
فلسطینیوں کی مزاحمت کے حوالے سے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ مزاحمت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطہ میں حکومتوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس مزاحمت کی کامیابی مستقبل میں امریکی سامراجی پالیسیوں کے لیے بھی ایک زبردست خطرہ یا چیلنج بن سکتی ہے۔ عام طور پر یہ نظر آتا ہے کہ بہت سے فلسطینی روایتی طور پر اپنی جدوجہد کے حوالے سے چھوٹے چھوٹے مسلح گروپس، مختلف عرب ممالک کی سیاسی یا مالی سپورٹ یا کچھ یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کی اخلاقی و سفارتی حمایت جیسی پالیسیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس بات میں دو رائے نہیں کہ فلسطین میں آزادی یا مزاحمتی تحریکوں سے جڑے گروپس عالمی اور علاقائی سطح پر فنڈز اور عطیات کے حصول کی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
فلسطین میں مختلف مسلح گروپس کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل، روابط، مشترکہ اسٹرٹیجی کا زبردست فقدان ہے۔ جب بھی فلسطین میں اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف کوئی عوامی ابھار پیدا ہوتا ہے تو مسلح گروپس اس صورتحال کو کیش کرنے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ مسلح گروپس کے سیاسی ونگ بھی ہیں جو انتخابی سیاست کے حوالے سے مختلف علاقوں پر سیاسی تسلط رکھتے ہیں۔ بیرونی دنیا فلسطین کی اندرونی سیاسی و سماجی صورتحال اور فلسطینی قیادت کے تنازعات کو سمجھے بغیر محض راکٹ بازی کے سحر میں گرفتار ہے۔
خاص طور پر اسلامی دنیا جس طرح راکٹ بازی کے گلیمر کا شکار ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطین کے حوالے سے ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے انھیں وہی کچھ دکھایا جاتا ہے جس کی ضرورت ہے۔ بعض مسلح گروپ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ بازی محض خود کو تنازع کے مرکز پر رکھنے اور Limelightمیں رہنے کا ایک طریقہ ہے تاکہ خود کو واحد مزاحمتی قوت ثابت کرکے وہ سیاسی و مالی فوائد حاصل کر سکے۔
مزاحمت کرنے والے گروپ کی قیادت اچھی طرح یہ بات جانتی ہے کہ ان کے راکٹ اسرائیل کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن اس کے بدلے میں اسرائیل معصوم فلسطینیوں پر جس طرح کے فضائی حملے اور کارپٹ بمباری کرتا ہے شہروں کے شہر اجاڑ دیتا ہے اس کی کسی کو قطعاً پرواہ نہیں۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں عام فلسطینی عوام کا سیاسی احتجاج، مظاہرے، ریلیاں اور دھرنے بھی ملیامیٹ ہو کر دم توڑ جاتے ہیں، مظلوم فلسطینی اچانک ''مخالف فریق '' بن جاتے ہیں اور اس تمام تر صورتحال کو ''فریقین کے درمیان جنگ '' کہا جانے لگتا ہے۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان ''شدید لڑائی '' کی خبریں آنے لگتی ہیں۔ اس طرح راکٹ بازی اور بمباری سے پہلے اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے مظالم چھپ جاتے اور پس پردہ چلے جاتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اسرائیل کے اندر سے فلسطینیوں پر جاری ظلم و ستم کے خلاف موثر آواز بلند ہونی چاہیے، جس دن اسرائیلی عوام اپنی ریاست کی پالیسیوں سے ہٹ کر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی ، وہ دن فلسطینیوں پر جاری ظلم و ستم کے خاتمے کا نقطہ آغاز ہو گا۔
د ور حاضر میں مسئلہ فلسطین نت نئے پیچیدہ سیاسی نشیب و فراز کا شکار ہے۔ایک طرف عالمی سامراجی حکومت امریکا ہے کہ جس نے صہیونیوں کی ریاست اسرائیل کے قیام سے تاحال اس ریاست کی بے پناہ پشت پناہی کی ہے اور فلسطین پر ناجائز تسلط کا دفاع کیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ امریکا نے صہیونیوںکو فلسطین میں عرب فلسطینیوں کا قتل عام کرنے اور ان کو کچلنے کے لیے کھربوں ڈالر کا اسلحہ صرف امداد کے نام پر فراہم کیا ہے جس کے نتیجے میں صہیونیوں نے گزشتہ سات دہائیوں سے فلسطین کے مظلوم عوام کا خون پانی کی طرح بہایا ہے۔
صہیونیوں کی ریاست اسرائیل نے صرف فلسطین کے عوام کا قتل عام ہی نہیں کیا بلکہ لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے اپنے گھروں سے بھی نکال باہر کیا ہے۔آج فلسطینیوں کی زمینوں پر صہیونی بستیاں آباد ہیں جب کہ اس زمین کے اصل باسی مہاجر اور پناہ گزین بن کر دنیا کے مختلف ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس کے لیے تمام مسلمانوں نے مل کر کردار ادا کرنا ہے، اس کے علاوہ یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا،اگر مسلمان حکمران اپنے ذاتی مفادات کے چکروں میں رہیں تو قابض صہیونی مزید علاقوں پر قبضہ کرلیں گے۔ اسرائیل کی یہ سازش بھی ہے کہ مسلمان ممالک، حکمران اور اقوام کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا جائے اور ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں کیا جائے تاکہ مسلمان متفق ہوکر فلسطین کی حمایت میں آواز نہ اٹھا سکیں۔
اس وقت تمام مسلمانوں کو اس سازش سے ہوشیار رہنے اور آپس میں پہلے سے زیادہ اتفاق و اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کو مضبوط آواز کے ساتھ اٹھایا جاسکے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان،ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کی کاوشیں رنگ لے آئی ہیں اور جنگ بندی کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اس جنگ بندی کو دائمی امن میں بدلنے کے لیے سنجیدگی سے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہیں، اور اس عالمی ادارے کی قراردادیں عملی روپ دھارنے کی منتظر ہیں ، عالمی طاقتیں اگر دنیا میں مستقل بنیادوں پر امن چاہتی ہے، تو انھیں چاہیے کہ وہ بھارت اور اسرائیل کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ کشمیریوں اور فلسطینیوں پر مظالم کو بند کریں ، عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے، کشمیریوں اور فلسطینیوں کو آزادی کا حق ملنا چاہیے ، آزادی کا جائز حق ملنے سے ہی انصاف اور امن وامان کا بول بالا دنیا میں ہوگا ،فیصلہ اب اقوام عالم نے کرنا ہے ۔
عالمی سطح پر اس جنگ بندی کو سراہا گیا ہے ۔امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران اس جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مزید پیش رفت کے لیے ایک حقیقی موقع ہے۔ پاکستان نے بھی اس جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا، ''یہ متحدہ، اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
یہ انصاف پر مبنی ایک مقصد کے لیے ہر شخص اور قوم کی کوشش کا ثمرہ ہے۔ کاش یہ جنگ بندی فلسطین میں دائمی امن کے لیے پہلا قدم ثابت ہو۔'' اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ اسرائیلی فوج اور فلسطینی گروپوں کے درمیان مسلسل حملوں کا تبادلہ ناقابل قبول ہے 'انھوں نے کہا کہ ''اگر زمین پر کوئی جہنم ہے تو وہ غزہ میں رہنے والے بچوں کی زندگی ہے۔'' یہ جملہ پوری سچائی کے ساتھ کہا گیا ہے اگر اس کی گہرائی کو محسوس کریں تو اسرائیلی مظالم کی بھیانک تصویر ذہن میں ابھرآتی ہے جو کسی بھی دردمند انسان کے دل کو رنجیدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
درحقیقت رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور شب قدر کی مبارک رات میں مسجد اقصیٰ کے اندر فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و بربریت نے دنیا بھر میں مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنادیا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ دراصل اسرائیل کی نوآبادیاتی، صیہونی اور سامراجی قبضہ گیر ریاست سے اپنی سرزمین اپنے وطن کا حق مانگنا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ، اسرائیلی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق سلب کرنا ہے اور ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا اور فلسطینی مہاجرین کی آبادکاری کو روکنا ہے۔ فلسطینیوں کی حمایت ہر اس شخص کو کرنی چاہیے جو نسل پرستی، جنگ اور سامراج کے خلاف ہے۔
دراصل مسئلہ فلسطین دنیا کا سب سے پیچیدہ اور حساس مسئلہ ہے۔اس لیے کہ اس قضیے میں مذہب، نسل اور کلچر کے تمام تر تضادات اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ جس علاقے پر اسرائیل نے جون 1967کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور جس کے متعلق فلسطینی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہی مستقبل کی فلسطینی ریاست ہے، اس میں سے ایک علاقہ دریائے اردن کے مغربی کنارے سے اسرائیل کی سرحد تک ہے۔ اس علاقے کا رقبہ چھ ہزار مربع کلو میٹر سے کچھ کم ہے اور اس کی آبادی بیس لاکھ ہے۔دوسرے علاقے کو غزہ کی پٹی کہتے ہیں۔
یہ اسرائیل کی مغربی سرحد،مصر اور بحیرہ روم میں گھری ہوئی ایک چھوٹی سی پٹی ہے جس کا رقبہ تین سو سا ٹھ مربع کلو میٹر ہے اور جس کی آبادی گیارہ لاکھ ہے۔گویا مجوزہ فلسطینی ریاست میں اکتیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔
دوسری جانب لندن، مانچسٹر اور دیگر ممالک میں بڑے پیمانے پر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیل کی نوآبادیاتی نسل پرست حکومت کے خلاف مظاہروں نے ان عرب حکومتوں پر بھی شدید دباؤ بڑھادیا ہے، جنھوں نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔
اس وقت علاقائی حکومتیں اس بات پر خوفزدہ ہیں کہ فلسطینی مزاحمت کی حالیہ لہر خطہ میں نہ پھیل جائے کیونکہ عام عوام کے دل اور ان کی ہمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ اسرائیل چونکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کا اہم ترین اتحادی ہے اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے واچ ڈاگ (Watch Dog) کا کردار ادا کرتا رہتا ہے۔ امریکا خطہ میں اسرائیل کی برتری اور اس کی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بلین ڈالرز خرچ کرچکا ہے۔
فلسطینیوں کی مزاحمت کے حوالے سے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ مزاحمت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطہ میں حکومتوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس مزاحمت کی کامیابی مستقبل میں امریکی سامراجی پالیسیوں کے لیے بھی ایک زبردست خطرہ یا چیلنج بن سکتی ہے۔ عام طور پر یہ نظر آتا ہے کہ بہت سے فلسطینی روایتی طور پر اپنی جدوجہد کے حوالے سے چھوٹے چھوٹے مسلح گروپس، مختلف عرب ممالک کی سیاسی یا مالی سپورٹ یا کچھ یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کی اخلاقی و سفارتی حمایت جیسی پالیسیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس بات میں دو رائے نہیں کہ فلسطین میں آزادی یا مزاحمتی تحریکوں سے جڑے گروپس عالمی اور علاقائی سطح پر فنڈز اور عطیات کے حصول کی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
فلسطین میں مختلف مسلح گروپس کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل، روابط، مشترکہ اسٹرٹیجی کا زبردست فقدان ہے۔ جب بھی فلسطین میں اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف کوئی عوامی ابھار پیدا ہوتا ہے تو مسلح گروپس اس صورتحال کو کیش کرنے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ مسلح گروپس کے سیاسی ونگ بھی ہیں جو انتخابی سیاست کے حوالے سے مختلف علاقوں پر سیاسی تسلط رکھتے ہیں۔ بیرونی دنیا فلسطین کی اندرونی سیاسی و سماجی صورتحال اور فلسطینی قیادت کے تنازعات کو سمجھے بغیر محض راکٹ بازی کے سحر میں گرفتار ہے۔
خاص طور پر اسلامی دنیا جس طرح راکٹ بازی کے گلیمر کا شکار ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطین کے حوالے سے ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے انھیں وہی کچھ دکھایا جاتا ہے جس کی ضرورت ہے۔ بعض مسلح گروپ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ بازی محض خود کو تنازع کے مرکز پر رکھنے اور Limelightمیں رہنے کا ایک طریقہ ہے تاکہ خود کو واحد مزاحمتی قوت ثابت کرکے وہ سیاسی و مالی فوائد حاصل کر سکے۔
مزاحمت کرنے والے گروپ کی قیادت اچھی طرح یہ بات جانتی ہے کہ ان کے راکٹ اسرائیل کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن اس کے بدلے میں اسرائیل معصوم فلسطینیوں پر جس طرح کے فضائی حملے اور کارپٹ بمباری کرتا ہے شہروں کے شہر اجاڑ دیتا ہے اس کی کسی کو قطعاً پرواہ نہیں۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں عام فلسطینی عوام کا سیاسی احتجاج، مظاہرے، ریلیاں اور دھرنے بھی ملیامیٹ ہو کر دم توڑ جاتے ہیں، مظلوم فلسطینی اچانک ''مخالف فریق '' بن جاتے ہیں اور اس تمام تر صورتحال کو ''فریقین کے درمیان جنگ '' کہا جانے لگتا ہے۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان ''شدید لڑائی '' کی خبریں آنے لگتی ہیں۔ اس طرح راکٹ بازی اور بمباری سے پہلے اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے مظالم چھپ جاتے اور پس پردہ چلے جاتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اسرائیل کے اندر سے فلسطینیوں پر جاری ظلم و ستم کے خلاف موثر آواز بلند ہونی چاہیے، جس دن اسرائیلی عوام اپنی ریاست کی پالیسیوں سے ہٹ کر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی ، وہ دن فلسطینیوں پر جاری ظلم و ستم کے خاتمے کا نقطہ آغاز ہو گا۔
د ور حاضر میں مسئلہ فلسطین نت نئے پیچیدہ سیاسی نشیب و فراز کا شکار ہے۔ایک طرف عالمی سامراجی حکومت امریکا ہے کہ جس نے صہیونیوں کی ریاست اسرائیل کے قیام سے تاحال اس ریاست کی بے پناہ پشت پناہی کی ہے اور فلسطین پر ناجائز تسلط کا دفاع کیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ امریکا نے صہیونیوںکو فلسطین میں عرب فلسطینیوں کا قتل عام کرنے اور ان کو کچلنے کے لیے کھربوں ڈالر کا اسلحہ صرف امداد کے نام پر فراہم کیا ہے جس کے نتیجے میں صہیونیوں نے گزشتہ سات دہائیوں سے فلسطین کے مظلوم عوام کا خون پانی کی طرح بہایا ہے۔
صہیونیوں کی ریاست اسرائیل نے صرف فلسطین کے عوام کا قتل عام ہی نہیں کیا بلکہ لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے اپنے گھروں سے بھی نکال باہر کیا ہے۔آج فلسطینیوں کی زمینوں پر صہیونی بستیاں آباد ہیں جب کہ اس زمین کے اصل باسی مہاجر اور پناہ گزین بن کر دنیا کے مختلف ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس کے لیے تمام مسلمانوں نے مل کر کردار ادا کرنا ہے، اس کے علاوہ یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا،اگر مسلمان حکمران اپنے ذاتی مفادات کے چکروں میں رہیں تو قابض صہیونی مزید علاقوں پر قبضہ کرلیں گے۔ اسرائیل کی یہ سازش بھی ہے کہ مسلمان ممالک، حکمران اور اقوام کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا جائے اور ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں کیا جائے تاکہ مسلمان متفق ہوکر فلسطین کی حمایت میں آواز نہ اٹھا سکیں۔
اس وقت تمام مسلمانوں کو اس سازش سے ہوشیار رہنے اور آپس میں پہلے سے زیادہ اتفاق و اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کو مضبوط آواز کے ساتھ اٹھایا جاسکے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان،ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کی کاوشیں رنگ لے آئی ہیں اور جنگ بندی کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اس جنگ بندی کو دائمی امن میں بدلنے کے لیے سنجیدگی سے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہیں، اور اس عالمی ادارے کی قراردادیں عملی روپ دھارنے کی منتظر ہیں ، عالمی طاقتیں اگر دنیا میں مستقل بنیادوں پر امن چاہتی ہے، تو انھیں چاہیے کہ وہ بھارت اور اسرائیل کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ کشمیریوں اور فلسطینیوں پر مظالم کو بند کریں ، عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے، کشمیریوں اور فلسطینیوں کو آزادی کا حق ملنا چاہیے ، آزادی کا جائز حق ملنے سے ہی انصاف اور امن وامان کا بول بالا دنیا میں ہوگا ،فیصلہ اب اقوام عالم نے کرنا ہے ۔